Entertainment

اپنی دوگنی سے زیادہ طاقت کو شکست دینے والے سلطان الپ ارسلان۔ (ملازگرت-۱۰۷۱)۔

اپنی دوگنی سے زیادہ طاقت کو شکست دینے والے سلطان الپ ارسلان۔ (ملازگرت-۱۰۷۱)۔

تعارف:

الپ ارسلان سلجوق سلطنت کے دوسرے سلطان تھے۔ آپ کا اصل نام محمد تھا لیکن اپنے کارناموں کی وجہ سے الپ ارسلان سے شہرت پائی۔ الپ ارسلان کے معنی ہیروئک شیر کے ہیں۔ الپ ارسلان کا پورا نام “ضیاءالدنیا والدین عضد الدولة ابو شجاع محمد الپ ارسلان ابن داؤد تھا۔
الپ ارسلان کے والد کا نام چغری بیگ تھا جو کہ سلجوق سلطنت کے بانی اور پہلے سلطان طغرل محمد بیگ کے بھائی تھے۔
الپ ارسلان ۲۰ جنوری ۱۰۳۰ء کو پیدا ہوئے تھے اور ۱۵ دسمبر ۱۰۷۲ء کو ۴۲ سال کی عمر میں وفات پائی تھی۔

دور حکومت:

الپ ارسلان نے ۴ ستمبر ۱۰۶۳ء سے لے کر ۱۵ دسمبر ۱۰۷۲ء تک حکومت کی۔ الپ ارسلان کے دور حکومت کو سلجوق سلطنت کا پہلا سنہری دور کہا جاتا ہے اور یہ دور اسلامی فتوحات کے لحاظ سے بہت اہمیت کی حامل ہے۔

اہم کارنامے:

سلطان بننے کے بعد الپ ارسلان نے سب سے پہلے بغداد میں موجود خلیفہ سے اپنے حکومت کی اجازت مانگی جو کہ اس نے دے دی۔ اس کے بعد بڑے فتوحات کا دور شروع ہوتا ہے۔
الپ ارسلان ۱۰۶۴ء میں اپنا لشکر لے کر آذر بائجان کی طرف روانہ ہوئے اور وہاں پر قلعے فتح کئے یہاں تک کہ بقراط نے خوفزدہ ہو کر صلح کی درخواست جو کہ الپ ارسلان نے قبول کی۔
اس کے بعد سلطان الپ ارسلان نے آرمینیا کا رخ کیا۔ اس وقت آرمینیا کے دو حصے تھے ایک مسلم آرمینیا اور دوسرا مسیحی آرمینیا۔ الپ ارسلان نے مسیحی آرمینیا پر چڑھائی کر دی اور اس کے ایک خاص شہر کو فتح کرلیا۔ اس کے سلطان الپ ارسلان نے آرمینیا کے دارلحکومت کا محاصرہ کیا۔ اس شہر کے تینوں اطراف پانی اور ایک طرف لکڑی کا پل تھا۔ تاہم سلطان الپ ارسلان کی فوج نے پچیس دن کے محاصرے کے بعد اس شہر کو بھی فتح کرلیا۔
اس کے بعد ۱۰۶۶ء اور ۱۰۶۷ء میں الپارسلان کی فوج نے رومیوں سے جنگ کی، دریا فرات کو پار کیا، انہیں شکست دی اور ان کے ایک شہر قیصریہ پر قبضہ کردیا۔
اس کے بعد سلطان نے پھر آذربائجان کا رخ کیا لیکن پھر فوراً ملازگرت کی طرف روانہ ہوئے۔ پھر آپ مصر میں فاطمی سلطنت سے لڑنے کے لئے روانہ ہوئے لیکن اس دوران ان کو خبر آتی ہے کہ روم کا شہنشاہ رومانوس چہارم ایک زبردست فوج لے کر اناطولیا کی طرف بڑھ رہا ہے۔
یہ ۱۰۷۱ء کی بات تھی۔ اس وقت سلطان پہلے فاطمی مہم سے فارغ ہونا چاہتے تھے اس لئے اس نے رومانوس کو جنگ بندی کا نظریہ پیش کیا لیکن رومانوس کا خیال تھا کہ سلطان اس کی کثیر تعداد سے ڈر گیا اس لئے اس نے ہر حال میں کرنے کی یقین دہائی کرائی۔
رومانوس کی فوجی طاقت بہت زیادہ تھی۔ کچھ ذرائع کے مطابق یہ چالیس ہزار پر مشتمل فوج تھی جبکہ کچھ ذرائع کے مطابق یہ دو لاکھ سے بھی زیادہ تھی۔ وﷲ اعلم۔ اس کے علاوہ رومانوس نے بیس ہزار کا ایک دستہ خفیہ طور پر پہلے سے بیجا جس کا پتہ لگنے پر الپ ارسلان نے اسے ختم کردیا۔
الپ ارسلان کی فوجی طاقت بیس ہزار پر مشتمل تھی جو کہ دشمن کی آدھی فوج سے بھی زیادہ کم تھی۔ لیکن وہ سب جذبہ شہادت سے سرشار تھے۔ جمع کی نماز کے بعد دنیا بھر کے مسلمانوں نے الپ ارسلان کو دعائیں دی اور الپ ارسلان نے سفید قبہ زیب تن کیا اور کہا کہ اگر میں شہید ہوگیا تو یہ میرا کفن ہوگا اور اس کے بعد ملازگرت کے مقام پر لڑائی کا آغاز ہوا۔
اس لڑائی میں الپ ارسلان نے اپنے تیر اندازوں کواس طرح ترتیب دیا کہ دشمن ان سے سنبھل نہ پائے اور ایسی قیادت کی کہ رومانوس اپنی فوج کی تباہی دیکھ کر پریشان ہوا اور یہاں اس سے ایک بڑی غلطی ہوئی۔
شہنشاہ نے نئے منصوبے کے لئے اپنے خیمے کا رخ کیا لیکن ان کی فوج نے سمجھا کہ شاید شہنشاہ ڈر گیا اس لئے بہت سے سپاہی بھاگ گئے جس پر شہنشاہ کو شکست ہوئی اور اسے قید کرلیا گیا اور تاریخ میں پہلی بار ہوا کہ روم کا سلطان ایک مسلمان سلطان کا قیدی بن گیا۔

شہنشاہ کو الپ ارسلان کے تاریخی الفاظ:

الپ ارسلان نے اس سے کہا کہ اگر اس کی جگہ میں تمھارہ قیدی بنتا تو تم میرے ساتھ کیا کرتے۔ تو رومانوس نے کہا کہ میں یا تو تمھیں مارتا یا قسطنطنیہ کی گلیوں میں کھینچتا۔ الپ ارسلان نے جواب دیا کہ میری سزا اس سے کہی زیادہ ہے، میں نے تمھیں آزاد کیا اور معاف کیا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button