Trending News

لاہور علامہ اقبال کا مجسمہ مذاق کا نشانہ بن گیا

لاہور علامہ اقبال کا مجسمہ مذاق کا نشانہ بن گیا۔
کچھ دیر سے سوشل میڈیا کے اوپر ایک تصویر گرد کر رہی ہے. اور وہ تصویر ہے شاعر مشرق جناب علامہ محمد اقبال کے مجسمے کی. وہ مجسمہ لاہور کی ایک نجی پارک کے اندرنصب ہے. سوشل میڈیا صارفین کی طرف سے ہمیشہ کی طرح ایک انتہائی غیر سنجیدہ اور ایک غیر معیاری رویہ دیکھنے کو ملا ہے.
اس چیز کو جانے بغیر کہ وہ مجسمہ کس نے بنوایا؟ کب بنوایا؟ کیوں بنوایا؟ اس کے پیچھے کے محرکات کیا تھے؟ کیا کسی سوشل این جی او نے اسے بنوایا ہے یا کسی بہت بڑے مجسمہ ساز نے اسے بنوا کے یہاں پہ رکھا ہے؟ یا حکومت نے اپنی ایک خاص آرڈر سے وہاں پہ بنوایا ہے.
یہ سب جانے بغیر ایک لامتناہی تنقید کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے. اس مجسمے کو کیا کسی بہت بڑے مجسمہ ساز نے بنایا ہے یا حکومت آرڈر دیا گیا. یہ کسی نے نہیں جانا یہ کسی نے نہیں سمجھا نہ ہی کسی نے اسے جاننے کی کوشش کی ہے. جبکہ جنہوں نے وہ مجسمہ بنایا ہے ان کے اوپر تنقید شروع کر دی گئی ہے.
وہ مجسمہ لاہور کے جس پارک کے اندر موجود ہے وہاں کے مالیوں نے اس مجسمے کو بنایا. مالی کوئی بہت بڑے سکول یا کالج سے ڈگری یافتہ نہیں تھے. علامہ اقبال سے اپنی محبت کا ثبوت پیش کرنے کے لیے یا اپنا اظہار محبت کے لیے انہوں نے وہ مجسمہ بنایا اور لگا دیا۔ اور ان بیچاروں کے دماغ میں یہ ہوگا کہ لوگ اسے سرہائیں گے اور یہ اہمیت والی بات تھی. کہ وہ کسی آرٹ کالج سے ڈگری یافتہ لوگ نہیں تھے. انہوں نے اس مجسمے کو بنایا۔ بجائے اس کے کہ ہم ان کی حوصلہ افزائی کرتے. ہم نے مذاق اڑانا شروع کر دیا.
سوشل میڈیا کے اوپر چاروں طرف یہ ٹرینڈ چل رہا ہے. اس مجسمے کا مذاق اڑایا جا رہا ہے. کیا اس سے علامہ اقبال کا کوئی علمی یا روحانی قد نیچے گر گیا ہے ایسا بالکل بھی نہیں تھا. ان کے اظہار محبت کے لیے ان کا ایک اپنا طریقہ تھا. ہر بندے کا کسی بھی چیز سے، کسی بھی شخص سے، کسی بھی انسان سے، کسی بھی ہستی سے محبت کا ایک اپنا طریقہ ہوتا ہے. ان کا ایک اپنا طریقہ تھا۔ انہوں نے اس محبت کو عملی شکل دینے کے لیے ایک مجسمہ بنایا اورلگا دیا. اور ہم نے اس کے اوپر تنقید کرنی شروع کر دی.
خدارا کسی بھی چیز کے اوپر تحقیق کرنے سے پہلے اس کے اوپر تنقید کرنا شروع نہ کر دیا کریں. یہی ہمارے معاشرے کا اور پوری سوسائٹی کا المیہ بن چکا ہے. ان بیچاروں کے دل پہ کیا گزرتی ہوگی جنہوں نے بڑی محبت سے مجسمہ بنایا۔ ظاہری بات ہے یہ ایک رات میں تو نہیں بنا دیا ہوگا. کچھ وقت گزرا ہوگا شاید انہوں نے دو، چار، پانچ دن، دس دن، ایک ہفتہ لگایا ہو. اسکی تعریف کرنی چاہیے تھی نہ کہ ہمیں اس طرح کی باتیں کر کے ان کی دل آزاری کرنی چاہیے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button