Entertainment

سرمایہ کا نکاس اور ہماری معیشت

ہم ہر روز صبح اٹھنے سے لے کر رات سونے تک مختلف اشیاء اپنی ضرورت کے تحت خریدتے ہیں اور پیسے ادا کرتے ہیں جو اشیاء ہمارے ملک کی بنی ہوتی ہیں وہ سرمایہ ہمارے ملک کی معیشت کا حصہ بن جاتا ہے اور جو اشیاء غیرملکی ہوتی ہیں ان پر ادا کیا سرمایہ ان ممالک میں منتقل ہوجاتا ہے جہاں کی وہ مصنوعات ہوتی ہیں جو ہم خریدتے ہیں۔ اس طرح سرمایہ کا نکاس ہوجاتاہے.

ہمارے ملک کا تجارتی خسارہ اربوں ڈالر سالانہ ہے جو ہر سال بڑھ رہا ہے اس تجارتی خسارے کو پورا کرنے کے لیے ہماری ہر حکومت بیرونی قرضہ لیتی ہے اور پھر قرضہ اور اس پر سود کی ادائیگی کے لیے مزید قرضہ لیا جاتا ہے جس کی وجہ سے غربت،مہنگائی اور بےروزگاری میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ ہوتا رہتاہے ۔ مثال کے طور پر ہم ایک ارب ڈالر کی مصنوعات برآمد کرتے ہیں یعنی باہر بھیجتے ہیں جیسے زرعی اجناس وغیرہ اور دو ارب ڈالر کی مشینری باہر سے درآمد کرتے ہیں

یعنی باہر سے منگواتے ہیں تو اس کا مطلب ہے ہمیں ایک ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ ہوا جو پورا کرنے کے لیے ہم قرضہ لیتے ہیں اور قرضہ دینےوالوں کی شرائط کو پورا کرنے کے لیے عوام پر ٹیکس لگاتے ہیں جس کی وجہ سے نا صرف مہنگائی بڑھتی ہے بلکہ بے روزگاری اور غربت میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم زرعی ملک ہیں پر یہاں گندم اور مکئی کی بنی مصنوعات فرانس بیچتا ہے جیسے بسکٹ وغیرہ اسی طرح مہنگے برانڈ کے کپڑے جوتے بھی غیرملکی بکتے ہیں

انڈس ویلی اور پنجاب کی سرزمین ہماری پہچان ہے جو ساری دنیا میں پانیوں کی سرزمین کے طور پر جانی جاتی ہے پر یہاں نیسلے جیسی ملٹی نیشنل کمپنی ہمارا ہی پانی ہماری نااہلی کی وجہ سے ہمیں مہنگے داموں بیچ کر اربوں ڈالر لوٹ کر لے جارہی ہے ۔ بسکٹ ،پاپڑ ،سرف اور پانی کی مصنوعات پر کوئی ایٹمی فارمولا نہیں لگتا اور نا ہی جوتے کپڑے اور کاسمیٹکس پر کوئی مہنگی ٹیکنالوجی لگانی پڑتی ہے مگر ہر شعبہ زندگی میں ہماری نااہلی کی وجہ سے سرمایہ باہر جارہا ہے اور قرضوں سے معیشت کو سنبھالا دینے کی کوشش عارضی ریلیف تو ہوسکتا ہے مگر مستقل حل نہیں ۔

قرضہ کی مثال اس طرح ہے کہ ہم ایک بالٹی پانی والی ٹوٹی کے نیچے رکھ دیں اور اس بالٹی میں چار پانچ سوراخ ہوں توں اوپر پانی جتنا مرضی بہتا رہے بالٹی نہیں بھر سکتی اسی طرح جتنے مرضی قرضے لیتے رہیں معیشت اپنے پاؤں پر کبھی بھی کھڑی نہیں ہوسکتی اس کے لیے علاوه ہمارے غیرپیداواری اخراجات پیداواری اخراجات سے کئی گنا زیادہ ہے یعنی ایک غریب ملک کے آفیسرز وزراء اور بڑے سرکاری عہدیداروں کی مراعات سن کر چکرآنےلگ جاتے ہیں نتیجہ امیر یہاں امیر تر اور غریب یہاں غربت کی لکیر سے نیچے جارہا ہے.

اگر حکومت یہاں سے غربت ختم کرنا چاہتی ہے تو سب سے پہلے گھریلو صنعت کو فروغ دے اور عام ضروریات زندگی کی اشیاء کے لیے کارخانے لگوائے ۔کارخانے سرمایہ دار خود لگا لیں گے حکومت انہیں مراعات دے اس کے علاوہ زراعت کو بھی جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے اور پاکستانی بنو اور پاکستانی اشیاء خریدو کی پالیسی کو اپنایا جائے تو
چند سالوں میں پاکستان بھی اپنے پاؤں پر کھڑا ہوجائے گا اس کے علاوہ حکومت یہاں سیاحت کو فروغ دے اور پاکستان میں مختلف مذاہب کی مقدس جگہیں موجود ہیں ان کو کھولے جس سے پوری دنیا سے زائرین پاکستان آئیں گے اس سے بھی اربوں ڈالر سالانہ ہماری معیشت کا حصہ بنیں گے ۔حکومت زائرین کو تحفظ اور سہولیات دے تو پھر واقعی تبدیلی آجائے گی ورنہ سب کھوکھلے نعرے ہیں جن پر اب عوام یقین کرنے کے لیے تیار نہیں
عبدالرحمن شاہ

Abdur Rehman

Teacher'Writer'Artist'Youtuber& Social activist

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button