Islamic

قرآن پاک کو سیکھنے کاطریقہ قرآن پاک سے دیکھتے ہیں

کیا قرآن پاک کو سیکھنے کے لیے انفرادی طور پر ہر کس وناکس کو گرائمر یا حدیثوں کی ضرورت ہے؟ یاصرف علم یعنی پڑھا لکھا ہونا ضروری ہے۔یا د رہے کہ جسے بھی اللہ تعالیٰ قرآن پاک کا ترجمہ لکھنے کی سعادت دیتے ہیں۔وہی انسان آگے بڑھ کرترجمہ لکھتا ہے۔چاہے وہ انگریزی میں ہو یا فارسی میں یا پشتومیں یا سرائیکی میں۔جسے اپنی زبان اور عربی میں عبور حاصل ہو۔

کوئی نالائق یا عربی سے ناواقف یہ جسارت کر ہی نہیں سکتا۔ہاں غلطی کسی سے بھی لاشعوری طور پر ہو سکتی ہے۔جسے ٹھیک کیا جاسکتا ہے۔کیا آ پ پشتو کی کسی کہانی کا ترجمہ لکھ سکتے ہیں۔اگرآپ کو پشتو پر عبور نہ ہو۔تو پھر ایک نالائق انسان اتنی بڑی کتاب قرآن پاک جو ایک مقدس کتاب ہے۔اس کو ترجمہ کرنا تو دور کی بات اس کی ایک آیت کو چھو بھی نہیں سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے قران پاک کو سمجھنے کے لیے کوئی قید نہیں رکھی سوائے علم کے یعنی سوائے پڑھا لکھا ہونے کے۔اس کے لیے قرآن پاک سے آیات دکھانا چاہوں گی۔کہ قیامت والے دن ہم پر عذاب کی بات اس لیے پوری ہوگی کہ ہم نے اپنے علم کو استعمال کیے بنا اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلایا تھا

) سورہ نمل۔آیات 82تا85۔پارہ 19اور جب ان پربات پورا ہو جائے گی۔تو ہم ان کے لئے زمین سے ایک جانور نکالیں گے جو ان سے باتیں کرے گا۔ کہ لوگ ہماری آیات پر یقین نہیں کرتے تھے اور جس دن میں ہم ہر امت سے ایسے لوگوں کی ایک فوج اکٹھی کریں گے جو ہماری آیات کو جھٹلاتی تھی پھر ان کی گروہ بندی کی جائے گی۔ یہاں تک کہ جب وہ آجائیں گے تو اللہ تعالیٰ ان سے کہے گا کہ تم نے میری آیا ت کو جھٹلایا حالانکہ علمی لحاظ سے تم نے ان کا احاطہ نہیں کیاتھا پھر تم کیا کرتے رہے اور ان کے ظلم کی وجہ سے ان پر عذاب کی بات پوری ہوجائے گی پھر وہ بول بھی نہ سکیں گے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button