Islamic

قرآن پاک ہماری آنکھیں ہیں ۔جواب قرآن پاک سے

جو لوگ قرآن پاک سے بھاگتے ہیں اور بڑی بڑی کہانیاں بنا رکھی ہیں کہ نبی ﷺ ہماری اس طرح شفاعت کریں گے او ریہ کہانیاں فرقہ در فرقہ چل رہی ہیں ان تمام کہانیوں کا دو ٹوک جواب پیش کیا جارہا ہے اوریہ جواب نبی ﷺ کا ہے اور اللہ تعالی کا ہے ظاہر ہے کہ حکم توآخر اللہ تعالیٰ کا ہی چلتا ہے۔۔۔۔۔۔۔

ایمان کا مطلب سورہ محمد کی آیت دو اور تین کے مطابق قرآن پاک کو سچ سمجھنا اور اسکی اطاعت کرنا ہے۔ایمان کے بغیر کوئی جنت میں جا ہی نہیں سکتا۔ ایمان کے بغیر جنت کا تصور بھی نہ کریں یہ بھی دو ٹوک جواب ہے ایمان کے بغیر اگر قرآن پاک میں آپ کو کوئی شفاعت کوئی سفارش والی آیت نظر آجائے تو مجھے ضرور دکھائیں یہ میرا بھی آپ سے دو ٹوک سوال ہے۔

سورہ انعام آیت 105۔پارہ 7
بیشک تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے آنکھیں آگئی ہیں اب جو آنکھوں سے کام لے گا تو اپنا ہی بھلا کرے گا اور جو اندھا بنے گا خود نقصان اٹھائے گا اور میں کوئی تمھاری حفاظت کرنے والا نہیں ہوں۔

خواتین و حضرات!
آپ نے دیکھا کہ رسولﷺکہہ رہے ہیں۔تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے آنکھیں یعنی قرآن پاک آگیا ہے۔ اب جو اپنی آنکھوں سے کام لے گا تو اپنا ہی بھلا کرے گا اور جو اندھا بنے گا خود نقصان اٹھائے گا اور میں کوئی تمھاری حفاظت کرنے والا نہیں ہوں۔

خواتین و حضرات!
آئیں اس آیت کو قرآن پاک سے تفصیل سے دیکھتے ہیں۔

سورہ انعام۔آیات104تا 106پارہ7
یہی اللہ تعالیٰ ہے۔اس کے سوا کوئی معبودنہیں ہے۔وہ ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے۔پس اللہ تعالیٰ کی غلامی کرو۔وہ ہر چیز کا وکیل ہے۔آنکھیں اُسے نہیں پاسکتی۔مگر وہ آنکھوں کو پالیتا ہے۔اور وہ بڑاباریک بین خبردار ہے۔ بیشک تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے آنکھیں آگئی ہیں اب جو آنکھوں سے کام لے گا تو اپنا ہی بھلا کرے گا اور جو اندھا بنے گا خود نقصان اٹھائے گا اور میں کوئی تمھاری حفاظت کرنے والا نہیں ہوں اسطرح ہم اپنی آیات کو بار بار مختلف طریقوں سے بیان کرتے ہیں کہ کہیں لوگ یہ نہ کہیں کہ تم کسی سے پڑھ کر آتے ہو اور جو لوگ علم رکھتے ہیں ان پر ہم واضح کردیں۔ اس کی اطاعت کروجو آپ کے رب کی طرف سے آپ کی طرف وحی کیا گیا ہے۔اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے او رمشرکوں سے منہ موڑ لیجئے۔اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتاتو وہ شرک نہ کرتے۔اور ہم نے آپ ﷺکو اُن کی حفاظت کرنے والا بناکر نہیں بھیجا۔اور نہ آپ ﷺ اُ ن کے وکیل ہیں۔

خواتین و حضرات!
آپ نے دیکھا کہ رسولﷺکہہ رہے ہیں۔تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے آنکھیں آگئی ہیں اب جو آنکھوں سے کام لے گا تو اپنا ہی بھلا کرے گا اور جو اندھا بنے گا خود نقصان اٹھائے گا اور میں کوئی تمھاری حفاظت کرنے والا نہیں ہوں۔پھر اللہ تعالی ٰاس بات کو دہراتے ہیں۔ کہ اس کی اطاعت کروجو آپ کے رب کی طرف سے آپ کی طرف وحی کیا گیا ہے۔اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے او رمشرکوں سے منہ موڑ لیجئے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہتاتو وہ شرک نہ کرتے۔اور ہم نے آپ ﷺکو اُن پر محافظ بناکر نہیں بھیجا۔اور نہ آپ ﷺ اُن کے وکیل ہیں۔

خواتین و حضرات!
تینوں مثالوں میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کی اطاعت کا حکم دیا ہے اور ایک مثال کو مختلف طریقوں سے بیان کیا پھر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ دیکھو ہم کس طرح اپنی بات کو مختلف طریقوں سے کرتے ہیں تاکہ کوئی یہ نہ کہے کہ آپ ﷺ کسی سے پڑھ کر آتے ہیں اسی طرح اپنی بات کو مختلف کرنے کا ڈھنگ تو صرف اللہ تعالیٰ کو آتا ہے تاکہ علم والے لوگ جان لیں ان پر ہم حقیقت کو روشن کردیں، کیونکہ علم والے لوگ زیادہ اچھے طریقے سے اللہ تعالیٰ کی بات کو سمجھتے ہیں مثالوں کو زیادہ اچھے طریقے سے سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Check Also
Close
Back to top button