Islamic

پارٹ 2 قران پاک کا ایک صفاتی نام نصیحت ہے

پارٹ نمبر 2
3۔ سورہ قلم۔آیات 51تا52۔پارہ نمبر29
اور کافر یعنی نافرمان لوگ قرآن پاک سنتے ہیں۔ تو آپ ؐ کو ایسی نظروں سے دیکھتے ہیں کہ گویا آپ ؐ کے قدم ڈگمگا دیں گے اور لوگ کہتے ہیں کہ یہ تو ایک دیوانہ ہے۔ حالانکہ یہ (قرآن)تو تمام دنیا کے لیے ایک نصیحت ہے۔

خواتین و حضرات:!
آپ نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ یہ قرآن پاک تو تمام جہان کے لیے نصیحت ہے۔ مگر نا فرمان یعنی کافر لوگ جب قرآن پاک کو سنتے ہیں تو وہ آپ ؐ کو ایسے دیکھتے ہیں یعنی اتنی غصے سے دیکھتے ہیں کہ وہ نجانے کیا کر دیں کہ آپ کیقدم ڈگمگا دیں۔ وہ آپ کو ایسی نظروں سے دیکھتے ہیں گویا آپ دیوانے ہیں۔ حالانکہ قرآن پاک تو ساری دنیا کے لیے ایک نصیحت ہے۔

4۔ سورہ اعراف۔آیات 2تا9۔پارہ8
یہ ایک کتاب ہے جو آپ کی طرف نازل کی گئی ہے۔ اس کی وجہ سے آپ کے دل میں کوئی تنگی نہیں ہونی چاہیے۔ تاکہ آپ اس کے ذریعے لوگوں کو خبردار کریں اور یہ ماننے والوں کے لیے نصیحت ہے۔ تمہارے رب کی طرف سے جو تم پر نازل کیا گیا ہے۔ اس کی اطاعت کرو اور اس کے سوا دوسرے مدد گار وں کی اطاعت نہ کرو۔ مگر تم بہت ہی کم نصیحت مانتے ہو اور کتنی ہی بستیاں ہیں۔ جنہیں ہم نے ہلاک کر دیا۔ پھر جب ان پر عذاب آ گیا تو اس وقت ان کی پکار یہی تھی کہ بلاشبہ ہم ہی طالم تھے۔ جن لوگوں کی طرف ہم نے رسول بھیجے ہم ان سے بھی ضرور پوچھیں گے اور رسولوں سے بھی ضرور پھوچھیں گے پھر ہم اپنے علم سے پوری حقیقت ان پر واضح کر دیں گے۔ آخر ہم اس وقت غائب تو نہیں تھے۔ اس دن انصاف کے ساتھ اعمال کا وزن کیا جائے گا۔ جن کے پلڑے بھاری نکلے۔ وہی کامیاب ہو نگے اور جن کے پلڑے ہلکے نکلے تو یہی لوگ ہیں۔ جنہوں نے اپنے آپ کو نقصان میں ڈالا کیونکہ وہ ہماری آیات سے ظلم کرتے تھے۔

خواتین و حضرات!
آپ نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ قرآن پاک کو نصیحت کہہ رہیں ہیں فرماتے ہیں کہ قرآن پاک کے علاوہ کسی کی اطاعت نہ کرو۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جن بستیوں کو بھی عذاب سے ہلاک کیا۔ وہ عذاب کے وقت تویہی کہتے تھے کہ ہم ظالم تھے یعنی اللہ تعالیٰ کی آیات کو نہیں مانتے تھے۔ قیامت والے دن اللہ لوگوں اور رسولوں سے پوچھیں گے۔جبکہ اللہ تعالیٰ سب جانتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ تو ہر وقت مووجود ہیں۔جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کو نہیں مانا ہو گا۔ ان کے ترازو میں کوئی وزننہ ہو گا اور جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات پر عمل کیا ہو گا چاہے وہ گناہ گار ہی کیوں نہ ہو۔ ان کے ترازو کے پلڑے بھاری ہونگے اور وہ کامیاب لوگ ہونگے۔ کیونکہ ایسے لوگوں کے گناہ اپنی رحمت سے معاف فرما دیں گے۔

5۔ سورہ السجدہ۔آیت 22۔پارہ21
اور اس شخص سے بڑا ظالم کون ہو گا جس کو اس کے رب کی آیات کے ذریعے نصیحت کی جائے اور وہ اس سے منہ موڑے۔ بلا شبہ ایسے مجرموں سے ہم انتقام لے کر رہیں گے۔

خواتین و حضرات!
آپ نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ اس شخص سے بڑا ظالم اور کوئی نہیں ہے۔ جس کو اللہ تعالیٰ کی آیات کے ذریعے سمجھایا جائے اور وہ ان سے منہ موڑے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ ایسے مجرموں سے ہم انتقال لے کر رہیں گے۔

خواتین و حضرات:۔
جو قرآن پاک سے منہ موڑتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایکشن کر رہا ہے اور اللہ تعالیٰ ایسے بندے کو کبھی نہیں چھوڑے گا کیونکہ یہ جرم وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کر رہا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کا مجرم ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے مجرموں سے بدلہ لے کر رہے گا۔

Part 1 Click 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button