Islamic

پارٹ نمبر 1 قرآن پاک کو عربی میں نازل کرننے کی وجوہات /جواب قرآن پاک سے

پارٹ نمبر 1
میں آپ کے سامنے جو آیات پیش کرنے والی ہوں ۔ان آیات میں قرآن پاک کو عربی میں نازل کرنے کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے۔کہ وہ رسول ﷺ اور ان کے قوم کی زبان تھی۔۔تاکہ وہ ہر بات وضاحت سے سمجھ سکیں ۔اور ان آیا ت میں اُن لو گو ں کے لیے بھی جو اب مو جو دہے۔ جوقرآن پاک کو اردو میں نہیں سمجھنا چا ہتے۔کیونکہ اپنی زبان میں نہ سمجھنے کی وجہ سے ہم گمراہ رہ جائیں گے۔ اور قرآن پاک کو وضاحت سے سمجھ نہ سکیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1) سورہ ابراہیم آیت 4 پا رہ نمبر 13
ا ور ہم نے جو بھی رسو ل بھیجا ہے۔ اس نے اپنی قوم کی زبان میں پیغام دیا۔ تاکہ وہ انہیں ہر بات واضح طو رپر بیا ن کرسکیں۔ پھر اللہ تعالیٰ جیسے چا ہتے ہیں۔ گمراہ کرتے ہیں اور جیسے چا ہتے ہیں ہدا یت دیتے ہیں.. اور وہ غا لب حکمت والا ہے۔

خواتین و حضرات
آپ نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ فرما تے ہیں کہ ہم نے جب بھی کسی قوم کی طرف رسول کو بھیجا ہے۔ قوم کی زبان میں پیغا م دیا۔ قرآن پاک کو عربی میں نا زل کرنے کی وجہ وہا ں کے مقا می لو گو ں کی زبان تھی۔ جو عربی تھی۔ اور آپ ﷺکی زبان بھی عربی تھی۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم نے جس قوم میں بھی رسول یعنی پیغام پہنچانے والے کو بھیجا۔ اُس کی قو م کی زبان میں پیغا م دے کر بھیجا۔ تاکہ وہ ان کے لیے ہر با ت کھو ل کھو ل کر بیا ن کرے یعنی وضا حت کرسکے۔

خواتین و حضرات!عربی ہماری زبان نہیں ہے ہم اللہ تعالیٰ کے پیغام کو اردو ترجمے کے ذریعے سمجھیں گے تب ہمیں اللہ تعالیٰ کی باتوں کی سمجھ آئے گی۔ ان آیات سے ثابت ہوا کہ قرآن پا ک کو اردو میں سمجھنا کتنا ضروری ہے۔ اس کیلئے تعلیم کتنی ضروری ہے۔ ہم نے اسلام کا وارث بن کر ان تعلیمات کو لوگوں تک پہنچانا ہے اور ان کی زبان میں پہنچانا ہے کیونکہ یہ قرآن پاک آخری کتاب ہے اورآپﷺ آخری رسول ہیں۔
2) سورہ دخا ن آیت 58 پارہ نمبر 25

ہم نے اس قرآن کو آ پ ﷺ کی زبا ن میں آسان بنا دیا ہے۔ تاکہ لوگ نصیحت حا صل کریں۔
خواتین و حضرات
آپ نے دیکھا۔ کہ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں۔کہ ہم نے نبیﷺ کی زبان میں قرآن کو آسان کردیا۔ تاکہ لو گ نصیحت حا صل کرسکیں۔ اس آیت میں قرآن پا ک کو عربی میں نا زل کرنے کی وجہ بتا ئی گئی۔ کہ چو نکہ اس قوم کی زبان عربی تھی۔ لہٰذا قرآن پاک عربی میں اس لیے نازل ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندو ں سے جو با تیں کی ہیں۔جو خوشخبریاں دیں ہیں۔ اور جہنم سے دو ر رہنے کے طریقے بتا ئے ہیں۔ رسولوں پر ایمان لانے کا طریقہ ہے۔ کتابو ں پر ایما ن لانے کا طریقہ بتایا ہے۔ فرشتو ں آخرت اور اللہ تعالیٰ کو ماننے کے جو طریقے بتا ئے ہیں۔ اور جن طریقوں سے منع کیا گیا ہے۔ اس کے مطا بق عمل کریں۔ تو اسے کہتے ہیں قرآن پاک سے نصیحت حا صل کرنا یعنی اللہ تعالیٰ کی نصیحتو ں پر عمل کرنا۔

3) سورہ زخرف آیا ت 2تا 5 پارہ نمبر 25واضح کتا ب کی قسم یعنی مبین کی قسم یعنی کتاب یعنی قرآن پاک کی قسم جو ہربات کھول کر بیا ن کرنے والا ہے۔ کہ ہم نے عربی زبا ن کا قرآن بنایا ہے تاکہ تم اسے سمجھو اور یہ قرآن لو ح محفو ظ میں ہمارے پاس بلند مرتبہ ہے۔اور حکمت سے بھرا ہو اہے۔ کیا ہم تم کو نصیحت یعنی کتاب بھیجنا چھوڑ دیں اس وجہ سے کہ تم حد سے گزر جانے والے لوگ ہو۔

خواتین و حضرات۔
آپ نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ قرآن پا ک کو عربی میں نا زل کرنے کی وجہ بتا رہے ہیں اوران آیات میں اللہ تعالیٰ قرآں ن پاک کی قسم بھی اُٹھارہے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کس بات کے لیے قسم اُٹھارہے ہیں کہ میں نے تو وضاحت کرنے والی کتاب بنا ئی ہے لوگ اس بات کا مذاق اڑاتے ہیں۔ کہ نماز کا طریقہ کہا ں ہے وغیرہ وغیرہ۔اس کا مطلب ہے۔ کہ وہ اللہ تعالیٰ کا مذاق اڑاتے ہیں یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی قسم کا مذاق اڑاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کبھی ہدایت نہیں دے گا۔یہ حد سے بڑھنے والے لوگ ہیں۔اور گمراہ ہی مریں گے پھر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم نے اسے عربی زبان میں نازل کیا تاکہ لوگ عقل حاصل کر سکیں اور یہ قرآن لوح محفوظ میں اللہ تعالیٰ کے پاس بڑا بلند مرتبہ ہے۔

خواتین و حضرات کیا اتنی گرا نقدر کتاب کے ہوتے ہوئے ہم صرف اس لیے ذلیل و خوار ہو رہے ہیں۔ کہ ہم اسے اردو میں نہیں سمجھتے۔ قرآن پاک سے پہلے جتنی بھی کتابیں آئیں۔ ان کا نام بھی نصیحت تھا اور اس قرآن کانام بھی نصیحت ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ کیا ہم نصیحت یعنی کتاب اسی لیے بھیجنا چھوڑ دیں کہ تم حد سے بڑھنے والے لوگ ہو۔
خواتین وحضرات
ہمیں اپنی حد میں رہنے کے لیے ضراری ہے کہ ہم قرآن پاک کو اردو میں سمجھیں اور اللہ کی نصیحت کے فرمابردار بن جائیں آمین ثم آمین۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button