Islamic

پارٹ نمبر 2 قرآن پاک کو عربی میں نازل کرنے کی وجوہات/ جواب

پارٹ نمبر 2
سورہ حٰم السجدہ آیات 2تا 5پارہ نمبر 24
یہ قرآن نہایت مہر بان بڑے رحم والے کی طرف نازل ہوا ہے ایک ایسی کتاب جس کی آیات تفصیل سے بیان کی گئیں ہیں قرآن پاک جو عربی زبان میں ہے اوران لوگوں کو جو علم رکھتے ہیں بشارت دینے والا اور ڈرانے والا ہے پھر بھی اکثر لوگوں نے منہ موڑ لیا اور وہ سنتے ہی نہیں وہ کہتے ہیں کہ ہمارا دل پردوں میں ہے اس بات سے جس کی طرف آپﷺ ہمیں بلاتے ہیں اور ہمارے کانوں میں بوجھ ہے اور ہما رے اور تمھارے درمیا ن ایک پردہ ہے۔ بس آپ اپنا کام کیے جائیں۔ بیشک ہم اپنا کام کیے جا تے ہیں۔

خواتین و حضرات!
آپ نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ قرآن پاک کو عربی میں نازل کرنے کی وجہ بتا رہے ہیں۔ ان لو گو ں کے لیے جو علم رکھتے ہیں۔ بشا رت دینے والا ہے۔اور ڈرانے والا ہے۔ جس کی آیا ت کو تفصیل سے بیا ن کیاگیا ہے۔قران پاک رسولﷺ کی آواز ہے۔رسولﷺ نے ہمیں قرآن پاک کی طرف بلایا۔ مگر پھر بھی لو گو ں نے منہ موڑ لیا اور وہ سنتے ہی نہیں۔لوگوں کی حالت آج بھی وہی ہے۔جو آپ ﷺ کے زمانے میں تھی۔

خواتین و حضرات!
ان آیات میں تعلیم کی اہمیت اور افا دیت کھل کر ثا بت ہو تی ہے۔ اگر چہ لوگ اس تعلیم کو قرآن پا ک کو سمجھنے میں بھی صرف کرتے ہیں مگر افسوس کی بات ہے۔ کہ تعلیم یا فتہ لوگ بھی اپنے باپ دادا کے راستے پر اسی طرح سختی سے کا ر بند ہوتے ہیں۔ جس طرح ایک ان پڑھ بندہ۔ اگر یہی حا لت ہے تو پھر دونو ں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ کیو نکہ انہو ں نے قرآن پاک سے منہ موڑا ہوا ہے دونوں ہی اسے عربی میں بغیر سمجھے پڑھتے ہیں۔اور قرآن پاک کی با ت سنتے ہی نہیں۔ اگر کبھی قرآن کو سمجھنا بھی چاہیں توصرف اپنے فرقے کی تفسیر پڑھتے ہیں۔ فرقے کی تفسیر کا مقصد لوگوں کو اپنے فرقے کی طرف بلانا ہوتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی خالص تحریر پر توجہ نہیں دی جاتی۔اسی لیے ہمیں آج تک قرآن پاک کی سمجھ نہیں آسکی۔

خواتین و حضرات!
جب ہم قرآن پاک کو اردو میں سمجھیں گے۔ آیا ت کو تفصیل سے سمجھیں گے۔تو گو یا ہم نے اپنے تعلیم سے فائدہ حا صل کرلیا۔ یعنی اللہ تعالیٰ کا علم حا صل کرلیا۔ جو بشا رت دینے اور ڈرانے پر مشتمل ہے۔ جولوگ اللہ تعالیٰ کی با ت نہیں سننا چا ہتے۔ وہ لو گ رسولﷺسے کہتے ہیں۔کہ تم اپنا کا م کرتے رہو ہم اپنا کا م کررہے ہیں۔ ہمارے اور تمھا رے درمیان پر دہ ہے یعنی ہم بھی بہت جانتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے۔ کہ پر دہ ہے۔ کہ وہ کسی بہت خو ش فہمی میں مبتلا ہیں۔ یہ جواب لوگوں نے رسولﷺ کو دیا۔اب بھی لوگوں کاوہی حال ہے۔ کہ ایک قرآن والا اور علم والا انسا ن ان کی خو ش فہمی کو قرآ ن سے دو ر کرنا چا ہتاہے۔ مگر وہ اس خو ش فہمی کے ذریعے جینا چاہتے ہیں قرآن پاک کی با ت نہیں سنتے بلکہ کہتے ہیں کہ آ پ جو چاہے آپ کریں۔ ہما را جو دل چا ہے گاہم کریں گے۔ یعنی آ پ ہمیں تنگ نہ کریں ہم آپ کو تنگ نہیں کرتے۔یہ رویہ رسول ؐ کے ساتھ بھی تھا اور اب بھی ہے۔یعنی آج بھی قران پاک کے ساتھ ہے۔

سورہ ذمر آیا ت 27تا 28پارہ نمبر 23
ترجمہ: اور بلاشبہ ہم نے اس قرآن میں لوگو ں کے لیے ہر طرح کی مثا لیں بیا ن کردیں ہیں۔ تاکہ لو گ نصیحت پکڑیں۔ ایسا قرآن جو عربی زبان میں ہے۔ جس میں کوئی عیب نہیں ہے۔ تاکہ لوگ پرہیز گا ری اختیا ر کریں۔

خواتین و حضرات!
آپ نے دیکھا۔کہ اللہ تعالیٰ قرآن پا ک کو عربی میں نا زل کرنے کی وجہ بتا رہے ہیں۔ کہ اس میں ہم نے لوگو ں کے لیے ہر طرح کی مثا لیں بیان کی ہیں۔ تاکہ لو گ نصیحت پکڑیں۔ ایسا قرآن جو عربی زبان میں ہے۔ اس میں کو ئی ٹیڑھی با ت نہیں تاکہ لو گ پر ہیز گا ری اختیا ر کریں۔

خواتین و حضرات
لو گ بڑے تمسخر انہ اندا ز میں اللہ تعالیٰ کی با ت کا جو اب اس طرح دیتے ہیں۔ کیا یہ بات موجو دہے۔ کیا یہ با ت موجود ہے۔ ان عقل کے اندھوں کوکون سمجھا ئے۔ کہ دیکھو تو سہی سمجھو تو سہی۔ یہی تو تمھا ر اامتحا ن ہے کہ تم قرآ ن پاک میں غو ر و فکر کرتے ہو۔ یا اندھو ں بہرو ں کی طرح رویہ رکھتے ہو۔

خواتین و حضرات!
قرآن پاک جن کی طرف آیا ان کی زبان عربی تھی۔ اورقرآ ن پا ک کی زبان بھی عربی تھی۔ وہ لوگ ان مثا لو ں کو عربی میں سمجھ سکتے ہیں اورہم ان مثالو ں کو اردو میں سمجھیں گے۔ تو نصیحت پکڑسکیں گے۔ عربی ہی میں پڑھتے رہے۔ توہمیں کیا پتہ چلے گا کہ اب اللہ تعالیٰ کیا مثا ل دے رہے ہیں۔ آپ کو پشتو نہیں آتی۔ میں آپ کو پشتو میں کوئی کھا نے کی ڈش بنا نا سکھا ؤ ں تو کیا آپ سیکھ لیں گے۔ چا ہے میں آپ کو 50دفعہ بتا ؤ ں یا سو دفعہ بتا ؤ ں۔ جب تک اردو میں نہ بتاؤں۔ اگر آ پ ایک ڈش نہیں بنا سکتے۔ تو اپنی زبان میں قرآن کو سمجھے بغیر اللہ تعالیٰ کی نصیحت کو کیسے سمجھ سکتے ہیں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ قرآن پاک میں کوئی ٹیڑھی با ت نہیں ہے۔ تاکہ لوگو ں کو پرہیزگاری اختیا ر کرنے میں مشکل نہ ہو۔ نصیحت حاصل کرنے میں مشکل نہ ہو۔اللہ تعالیٰ کی مثا لو ں اور نصیحت کو سمجھنے کے لیے تعلیم کس قدر ضروری ہے آپ خو د اندا زہ لگا ئیں…

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Check Also
Close
Back to top button