Islamic

قیامت اور پل صراط کا منظر

قیامت اور پل صراط کا منظر۔ پل صراط میں سے جب گزر ہوگا اس وقت صرف تین جگہیں ہوں گی۔ جہنم، جنت، پل صراط. رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا. سب سے پہلے میں اور میری امت پل صراط کو طے کریں گے. قیامت میں جب موجودہ آسمان اور زمین بدل دیے جائیں گے اور پل صراط سے گزرنا ہوگا. وہاں صرف دو مقامات ہوں گے. جنت اور جہنم. جنت تک پہنچنے کے لیے ضرور جہنم کے اوپر سے گزرنا ہوگا. جہنم کے اوپر ایک پل نصب کیا جائے گا. اسی کا نام پل صراط ہے.
اس پر سے گزر کر جب اس پار پہنچیں گے۔ وہاں جنت کا دروازہ ہوگا. وہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم موجود ہوں گے. اور اہل جنت کا استقبال کریں گے. پل صراط ان صفات کا حامل ہوگا. بال سے زیادہ باریک ہوگا. تلوار سے تیز ہوگا. اندھیرے میں ہوگا. اس کے نیچے گہرائیوں میں جہنم بھی نہایت تاریکی میں ہوگی. سخت بکھری ہوئی اور غضب ناک ہوگی. گناہ گار کے گناہ اس پر سے گزرتے وقت مجسم اس کے پیٹھ پر ہوں گے. اگر اس کے گناہ زیادہ ہوں گے تو اس کے بوجھ سے اس کی رفتار ہلکی ہو جائے گی. اللہ تعالی ہمیں اس صورت سے اپنی پناہ میں رکھے.
اور جو آدمی گناہوں سے ہلکا ہوگا اس کی رفتار پل صراط پر تیز ہوگی. اس کے اوپر آنکھڑے لگے ہوں گے اور نیچے کانٹے بچھے ہوں گے. جو قدموں کو زخمی کر کے اسے متاثر کریں گے. لوگ اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے ہی اس سے متاثر ہوں گے. اور بے ایمانی اور بد اعمالیوں کی وجہ سے ان کے پیر پھسل جائیں گے اور، وہ جہنم کے گڑھے میں گر رہے ہوں گے. ان کی بلند چیخ و پکار سے پل صراط پر دہشت طاری ہوگی.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم پل صراط کی دوسری جانب جنت کے دروازے پر کھڑے ہوں گے. جب ہم پل صراط پر پہلا قدم رکھ رہے ہوں گے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالی سے دعا کرتے ہوں گے۔ آپ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے درود پڑھیں. لوگ اپنی آنکھوں سے اپنے سامنے بہت سے لوگوں کو پل صراط سے گزرتا ہوا دیکھیں گے. اور بہت سے لوگوں کو اس سے نجات پاتے دیکھیں گے. بندہ اپنے والدین کو پل صراط پر دیکھے گا۔ لیکن ان کی کوئی فکر نہیں کرے گا۔ وہاں تو بس ایک ہی فکر ہو گی. کس طرح میں خود پار ہو جاؤں.
روایت میں ہیں کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا قیامت کو یاد کرکے رونے لگیں. رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے پوچھا عائشہ کیا بات ہے؟ حضرت عائشہ نے فرمایا مجھے قیامت یاد آگئی۔ یا رسول اللہ کیا ہم وہاں پر اپنے والدین کو یاد رکھیں گے؟ کیا ہم وہاں پر اپنے محبوب لوگوں کو یاد رکھیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یاد رکھیں گے۔ لیکن وہاں تین مقامات ایسے ہوں گے جہاں کوئی بھی یاد نہیں آئے گا.
جب کسی کے اعمال تولے جائیں گے. جب نامہ اعمال دیا جائے گا۔ جب پل صراط پر سے گزر رہے ہوں گے. دنیاوی فتنوں کے مقابلے میں حق پر جمے رہو دنیاوی فتنے تو سیراب ہیں. ان کے مقابلے میں ہمیں مجاہدہ کرنا چاہیے. اور ہر ایک کو دوسرے کی جنت حاصل کرنے پر مدد کرنا چاہیے. جس کی وسعت آسمانوں اور زمین سے بھی بڑی ہے.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button