Islamic

پارٹ نمبر 4 قرآن پاک کو عربی میں نازل کرنے کی وجوہات/جواب اور تفصیل قرآن پاک سے

پارٹ نمبر 4 ) سورہ حم السجدہ۔آیت 44۔پا رہ نمبر 24
ترجمہ اور اگر ہم اس قرآ ن کو غیرزبان عربی بنا دیتے۔تو لو گ کہتے۔کہ اس کی آ یا ت کو تفصیل سے بیا ن کیو ں نہیں کیا گیا۔یہ کیا کہ کتا ب تو عجمی زبان میں ہے۔اور مخا طب عربی ہو ں۔آپﷺ کہہ دو۔ کہ جو لو گ ایما ن لاتے ہیں ان کے لیے تو یہ کتا ب ہدایت اور شفا ہے۔اور جو لوگ ایما ن نہیں لاتے یہ ان کے لیے کا نو ں کی ڈا ٹ ہے اور آ نکھو ں کی پٹی ہے۔ ان لو گو ں کا حال تو ایسے ہے جیسے دور جگہ سے انہیں پکا را جا رہا ہو۔

خواتین وحضرا ت!
آ پ نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ فرمارہے ہیں کہ قرآ ن پاک کو عربی میں نا زل کرنے کی وجہ وہا ں کی مقامی زبان تھی۔ جو کہ ان لوگو ں کی تھی۔اگر قرآ ن پاک عر بی کے بجائے عجمی یعنی کسی اور زبان میں نا زل ہو تا۔ تو لوگو ں نے کہنا تھا۔ کہ یہ کیا بات ہو ئی کہ ہماری زبان تو عربی ہے اور قرآن پا ک کی ذبان کو ئی اورہے۔ ہم قرآن پاک کی با تو ں کو تفصیل سے کیسے سمجھیں گے۔ اللہ تعالیٰ قرآن پاک کو عربی میں نا زل کرنے کی وجہ وہا ں کے با شندوں کی مقامی زبان بتا رہے ہیں پھر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ کہ جو لوگ ایمان لاتے ہیں ایمان کامطلب سورہ محمد کی آیات 2 تا3کے مطابق قرآن پاک کو سچ ماننا اور اس کی اطاعت کرنا کے ہیں۔ایسے لوگوں کے لیے تو یہ قرآن ہدایت اور شفا ہے۔ اور جو اس پر ایمان نہیں لاتے۔ اس قرآن سے ان کے کان بند ہیں. اور اس قرآن سے ان کی آنکھیں بند ہیں۔ ان کا حال تو ایسے ہے کہ جیسے کہیں دو ر سے انہیں پکا را جا رہا ہے۔

خواتین وحضر ات!
جب کسی انسان کو دور سے پکارا جاتاہے۔انسان سمجھتا تو ہے۔کہ اسے پکا راجارہا ہے۔ مگروہ یہ نہیں سمجھتا۔ کہ پکا رنے والا دو رسے کیا با ت سمجھانے کی کو شش کررہا ہے۔ کیا بات سمجھانا چاہتا ہے۔ بس پکا ر سنا ئی دیتی ہے۔ اس طرح جن لوگو ں نے قرآن پاک سے کان اور آنکھیں بند کی ہوئیں ہیں۔ وہ یہ تو جانتے ہیں کہ یہ قرآ ن ہمارے لیے ہی آیا ہے۔اور قیامت تک کے لیے اللہ تعالیٰ اور رسو ل ﷺ کا پیغا م ہے۔ اورہمیں ہدایت دینے کے لیے اور گمراہ ہونے سے بچانے کے لیے آیا ہے۔ یعنی ہماری شفا اور ہد ایت اسی میں ہے۔ اورہمیں اپنی طرف ہد ایت کے لیے بلاتا ہے۔

خواتین وحضر ات!
ہمارا رویہ قرآ ن پاک کے ساتھ ایسا ہی ہے۔ ہم قرآن پاک کو عربی میں پڑھتے ہیں اور اس کی ہدایت پر توجہ ہی نہیں دیتے۔ اس سے اپنی آنکھو ں اور کانو ں کو بند کیا ہواہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی با تو ں کو سمجھ ہی نہیں رہے اورہمیں پتہ ہی نہیں ہو تا۔ کہ اللہ تعالیٰ ہم سے کیا بات کررہے ہیں حا لانکہ ہم جانتے ہیں۔کہ یہ قرآن قیا مت تک اللہ تعالیٰ کااور اس کے رسول کا پیغام ہے مگر قرآن پاک میں غو رنہ کرنیکی وجہ سے ہم لوگ قرآن سے ایسے دو ر ہیں جیسے کوئی بہت دورسے ہمیں پکا ر رہا ہو۔ توہمیں اس کی با تو ں کی سمجھ ہی نہیں آتی۔کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ جب تک کہ وہ قریب آکر با ت کو سمجھانہ دے۔

خواتین و حضرات!
ہمیں بھی قرآن پاک کے قریب ہونا پڑ ے گا۔ یعنی اردو میں سمجھنا پڑے گا۔تاکہ ہم اللہ تعالیٰ کی با توں کو جان لیں۔کہ وہ ہم سے کیا کہنا چاہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو قرآن پاک کھو لنے اور اس کے ساتھ ساتھ آنکھیں اورکان کھو لنے کی بھی توفیق عطا فرمائے۔ تاکہ ہم خو د اللہ تعالیٰ کی با تو ں کو سمجھ سکیں۔ اللہ تعالیٰ کے قریب ہو سکیں آمین یا رب العالمین
سورہ احقاف۔آیت12۔پارہ 26
ترجمہ:۔ اس سے پہلے موسیٰ ؑ کی کتاب رہنما اور رحمت تھی اور یہ کتاب جو اس کی تصدیق کرتی ہے۔ عربی میں ہے تاکہ ظالم کو ڈرائے اور نیکی کرنے والوں کو خوشخبری دے
خواتین و حضرات!
آپ نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ قرآن پاک کی بات کر رہے ہیں کہ یہ عربی زبان میں ہے۔ یہ موسیٰ ؑ کی کتاب تو رات کی تصدیق کرنے والا ہے۔ اس قرآن سے پہلے موسیٰ ؑ کی کتاب رہنما اور رحمت تھی۔ اب یہ قرآن ظالم کو ڈرانے اور نیک لوگوں کو خوشخبری دینے والاہے

سورہ طہ۔آیت 113۔پا رہ نمبر 16
ترجمہ:۔ اس طرح ہم نے قرآ ن پاک کو عربی زبان میں نا زل کیا۔اور طرح طرح سے دھمکیاں دیں ہیں۔ تاکہ لو گ پر ہیز گا ری اختیار کریں۔ یا وہ نصیحت حاصل کریں۔
خوا تین وحضرا ت
آ پ نے دیکھا۔کہ اللہ تعالیٰ فرمارہے ہیں۔ کہ اس طرح ہم نے قرآ ن پاک کو عربی زبان میں نا زل کیا ہے۔ اس میں لوگوں کو طرح طرح سے دھمکیا ں دیں ہیں۔ تاکہ لو گ اللہ تعالیٰ کی با تو ں پر غو روفکر کریں اور نصیحت حا صل کریں تاکہ پر ہیز گا ر بن جائیں۔

خواتین و حضرا ت:۔
آپ نے دیکھا۔ کہ ان دھمکیو ں کو ہم اردو ترجمے کے زریعے ہی سمجھ سکتے ہیں کیو نکہ ہم نے دوبا رہ تو دنیا میں نہیں آنا۔ اور نہ ہی اللہ تعالیٰ نے کوئی ایسا وعدہ کیا ہے۔کہ جب دنیا کے کام کاج سے فا رغ ہو کر میرے پاس آ ؤ گے۔ تو پھر قرآ ن سمجھ لینا۔
اسی دنیا میں رہتے ہوئے دنیا کے کام کا ج کرتے ہوئے ہم نے انفرادی طو رپر قرآن کو سمجھنا ہے۔ اور کیو نکہ حسا ب کتاب بھی تو انفرادی ہو تا ہے آپ قیا مت والے دن اللہ تعالیٰ کو کیا کہیں گے کہ ہمارے پاس تو ٹا ئم نہیں تھا۔ لہٰذا میرے ماں باپ کو پکڑ لیں۔ یا یہ کہیں گے۔کہ امام مسجد کو پکڑ لیا جا ئے۔ اور اس سے حساب کتاب ہو۔ کیو نکہ لوگ مسجد میں تھوڑا سا چندہ دے کر یا نماز پڑھ کر قرآ ن پاک سے غا فل ہو جاتے ہیں یا د رکھیں جہا ں آپ کا حساب کتا ب ہونا ہے وہا ں امام مسجد کا بھی ہو نا ہے ہمیں پرہیز گا ری اختیا ر کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی دھمکیوں میں غو ر کرنا پڑ ے گا۔ تاکہ ہم برُے انجا م سے بچ سکیں۔
Aa
Aa

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button