Islamic

پارٹ نمبر 3قرآن پاک کو عربی میں نازل کرنے کی وجوہات/ جواب

پارٹ نمبر 3 سورہ رعد ۔آیت 37۔پا رو نمبر 13
ترجمہ: اور اس طرح ہم نے اس قرآ ن کو حکم بنا کر عربی میں زبان میں نا زل کیا ہے۔ جب کہ آپ ﷺکے پاس علم آ چکا ہے۔ اگر آ پ نے ان کی خواہشا ت کی اطا عت کی۔ تو اللہ تعالیٰ کے مقا بلے میں نہ کو ئی ولی ہو گا اور نہ کوئی بچا نے والا۔

خواتین وحضرا ت!
ان آ یا ت میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم نے اس قرآ ن کو حکم بنا کر عربی زبان میں نا زل کیا ہے اور اگر آ پ لوگو ں کی خوا ہش پر چلے۔ اس کے بعد بھی کہ جب آ پ کے پاس علم آگیا ہے۔ یعنی قرآن پاک آگیا ہے۔اور یہ علم اللہ تعالیٰ کا حکم بھی ہے۔تو اللہ تعالیٰ۔کے مقا بلے میں آپ کو کوئی ولی نہیں ملے گا۔ اور نہ کو ئی بچا نے والا۔
یاد رہے کہ قرآن پاک کا سب سے پہلے مخاطب رسولﷺ ہیں۔اور پھر ہر انسان۔
آ پ نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ فرمارہے ہیں۔کہ یہ قر آن جو عربی زبان میں ہے۔ اس کو اللہ تعالیٰ نے اپنا حکم اور اپنا علم بنا کر بھیجا ہے۔ چو نکہ آ پ کی زبان بھی عربی تھی۔ اور قوم کی زبان بھی عربی تھی۔ لہٰذا تاکید کی جارہی ہے۔ کہ اس حکم اور اس علم یعنی قرآ ن کے علم کے علاوہ وہ کسی کی خواہش کی اطا عت نہ کریں۔

خواتین وحضرا ت!
چونکہ یہ علم اور حکم عربی زبان میں ہے لہذا ہم اللہ تعالیٰ کے حکم اور علم کو اردو زبان میں سمجھیں گے۔ اگر ہم نے اس حکم اور علم کو نہ سمجھا۔اور اپنے باپ دادا کی خواہش پر چلے۔ یا لوگو ں کی خوا ہش پر چلے۔ یا اپنے فرقے کی خواہش پر چلے۔یا کسی اور کے خواہشات کی اطاعت کی تو یا د رکھیں کہ ہمیں اللہ تعالیٰ سے بچا نے والا کوئی نہیں ہو گا۔ ان آیات سے بھی تعلیم کی افا دیت اور اہمیت ثا بت ہو ئی۔ تعلیم ہو گی تو اللہ کے حکم اور علم کو سمجھ سکیں گے۔

سورہ شعر اء ۔آیا ت 192 199۔پا رہ نمبر 19
ترجمہ:۔ اور بیشک یہ قرآ ن رب العالمین کا نا زل کردہ ہے۔ اسے لے کر ایماندارروح آ پﷺ کے دل پر نازل ہوئی ہے۔ تاکہ آپﷺ خبردار کرنے والے ہوں۔ یہ واضح عربی زبان میں ہے۔ اور یقینًا یہی قرآ ن پہلی امتو ں کی کتابوں میں بھی موجو د ہے۔ کیا ان کے لیے یہ کو ئی معجزہ نہیں ہے۔ کہ اسے بنی اسرائیل کے علما ء بھی جانتے ہیں اور اگر ہم اسے عجمی زبان میں بھی نا زل کرتے۔ اور وہ انہیں پڑھ کر سنا تا تو بھی یہ اس پرایما ن نہ لاتے۔

خواتین و حضرا ت!
آ پ نے دیکھا۔ کہ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں۔اور بیشک یہ قرآ ن رب العالمین کا نا زل کردہ ہے۔ اسے لے کر ایماندارروح آ پﷺ کے دل پر نازل ہوئی ہے۔ تاکہ آپﷺخبردار کرنے والے ہوں۔ یہ واضح عربی زبان میں ہے۔ اور یقینًا یہی قرآ ن پہلی امتو ں کی کتابوں میں بھی موجو د ہے۔ کیا ان کے لیے یہ کو ئی معجزہ نہیں ہے۔ کہ اسے بنی اسرائیل کے علما ء بھی جانتے ہیں اور اگر ہم اسے عجمی زبان میں بھی نا زل کرتے۔ اور وہ انہیں پڑھ کر سنا تا تو بھی یہ اس پرایما ن نہ لاتے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ کہ یہی قرآن پا ک پہلی امتو ں کی کتابو ں میں موجو د تھا یعنی جو کچھ اس قرآن پاک میں ہے۔ اللہ تعالیٰ کی تعلیما ت میں کوئی کمی بیشی نہیں ہو ئیں۔ جو اُن کتابوں کی تعلیما ت تھیں۔اِس قرآن کی بھی وہی تعلیما ت ہیں۔

خوا تین وحضرا ت:۔
عربی قوم معجزہ ما نگتی تھی۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ان لوگو ں کے لیے یہ با ت معجزہ نہیں ہے کہ بنی اسرائیل کے علما ء اس قرآن کو جانتے ہیں۔کیو نکہ ان کے پاس بھی کتاب تھی۔ پھر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ کہ اگر میں ایسا معجزہ کر بھی دیتا کہ اس قرآن پاک کو عربی کے بجائے کسی اور زبان میں نا زل کرتا۔اور آپ ﷺاسے پڑھ کر سنا تے۔ توان لو گو ں کی ہٹ دھرمی اسی طرح رہنی تھی۔ کہ انہو ں نے ا س کو سچ نہیں ما ننا تھا۔

خواتین و حضرات:۔
ایک سوال کا جوا ب دیں،وہ لوگ تو قرآن پاک کو نہیں ماننے والے تھے تو کیا ہم لوگ جو قرآ ن پاک سے محبت کے بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں۔ کیا ہم قرآن پاک کو مانتے ہیں۔ کیا اپنی ا صلا ح قرآ ن پاک سے کرتے ہیں ہمارے درمیا ن کسی قسم کا مسئلہ ہو جائے۔ تو کیا فیصلہ کرنے کے لیے ہم قرآ ن پاک سے رجو ع کرتے ہیں۔ اگر ایسا نہیں ہے۔ تو پھر ہم میں اور ان میں کیا فرق رہ گیا۔ قرآن کو وہ بھی جا نتے تھے اورہم بھی جانتے ہیں عادات ایک سی ہیں۔ صر ف زما نے کا فر ق ہے۔وہ بھی فرقوں پر تھے ہم بھی فرقوں پر ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button