Entertainment

نوجوان کی خوشی

نوجوان کی خوشی
تحریر: چودھری عرفان الخالق
سر 20 ہزار کے نئے نوٹ دیجیے نوٹ ذرا اچھے والے نئے پرنٹ ہو کر جو آئے ہیں وہ دیجیے گا
نوید نے شوخے پن سے بینک میں موجود دیگر افراد کو دیکھ کر ذرا اکڑ کے بینک مینجر صاحب کو کہا
مینجر صاحب نے نوید سے پوچھا کہ اس غربت اور بے روزگاری کے دور میں آپ کو 20 ہزار کے نئے نوٹوں کی کیا ضرورت ہے
نوید فخر سے بتا رہا تھا
سر جی وہ میرے دوست کی شادی ہے تو مہندی کا پروگرام رکھا گیا ہے تو پھر وہاں ناچ گانا بھی ہوگا
گلوکار آئیں گے سارا پروگرام میں نے اپنے دوست کی شادی کے لیے خود ترتیب دیا ہے کیونکہ میرے جگری یار کی شادی ہے
یہ نئے نوٹ ان ناچنے گانے والوں پہ نچھاور کرنے ہیں تاکہ میرے دوست کی رشتہ داروں میں ناک نہ کٹے،
جی ہاں یہ اس ملک کے باشندے کے بات ہے جس ملک کو لا الہ الا اللہ کے نام پہ ہمارے بزرگوں نے خون بہا کر حاصل کیا
جی ہاں یہ وہی ملک ہے جہاں غربت بےروزگاری عام ہے
اسی ملک میں بہت سی لڑکیاں جہیز نہ بننے کی وجہ سے بوڑھی ہو رہی ہیں
اسی ملک میں لوگ اپنے بچوں کو بیچنے پہ مجبور ہیں
بھوک و افلاس کے ڈیرے ہیں
لیکن ہم مسلمان شادی پہ غیر مسلموں کی مسلط کی ہوئی رسموں میں اتنا فضول پیسا خرچ کر دیتے ہیں کہ اتنے پیسوں سے چار چار شادیاں ہو جائیں
مذہب اسلام کو ہم نے خود مشکل بنا رکھا ہے حالانکہ کہ اسلام میں ہمیں سادگی اپنانے کا درس دیا جاتا ہے
اور سادگی میں ہمارا اپنا فائدہ ہے لیکن ناجانے ہم مقروض ہونا پسند کر لیں گے لیکن سادگی اور اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے میں عار اور شرمندگی محسوس کرتے ہیں
کوئی بےچارہ سادگی سے اپنے بچوں کی شادی کرے تو اس کو طنز اور تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے
فضول خرچی کر کے اپنے اردگرد موجود مجبور لوگوں کا مزاق مت بنائیں
اللہ ہم سب کو سمجھ عطا فرمائے اور ہمیں اپنے احکامات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقوں پہ چل کر پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین یا رب العالمین

Chaudhry Irfan-Ul-Khaliq

یااللہ ہمیں معاف فرما آمین

Related Articles

One Comment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Check Also
Close
Back to top button