Islamic

ناخن کاٹتے وقت کا عمل ہر بیماری و پریشانی دور

آج ہم آپ کے لیے بہت ہی انوکھا عمل اور حیرت انگیز وظیفہ لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں. ناخن کاٹتے وقت آپ یہ عمل کرنا انشاءاللہ آپ کی زندگی سے کوئی بھی بیماری ہوگی کسی بھی قسم کی پریشانی ہوگی. زندگی ٹینشنوں سے بھری ہوگی سکون میں بدل جائے گی.

انسان کو لمبے لمبے بڑے ناخن بالکل بھی زیب نہیں دیتے. اور اسی وجہ سے وہ اپنے ناخنوں کو کاٹتے ہیں. اور طبی اعتبار سے ناخنوں کا یہ خاصہ ہے کہ ان میں چھوٹے چھوٹے جراثیم پیدا ہو جاتے ہیں. جو انسانی انگلیوں کے ساتھ کھانے میں شامل ہو سکتے ہیں. اور پھر امکان رہتا ہے کہ یہ انسان بیمار ہو جائے. تو اس لیے کاٹنا ایک ضروری عمل ہے. تو کیوں نہ آپ ناخن کاٹتے وقت اس مختصر سی آیت کا ورد کریں اور اپنے تمام مسائل کا حل پا لیں. جمعہ کے دن ناخن کاٹنا مستحب ہے.

چنانچہ روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم جمعہ کے دن نماز کے لیے جانے سے پہلے مونچھ چھوٹی کرتے تھے اور اپنے ناخن کو کاٹتے تھے. ہاں اگر زیادہ بڑھ گئے ہوں تو جمعہ کا انتظار نہ کرے ناخن کا بڑا ہونا اچھا نہیں ہے. چونکہ ناخن بڑے ہوں گے تو اس سے رزق میں تنگی کا سبب بنتا ہے. اس لیے آپ کسی بھی دن ناخن کاٹ سکتے ہیں. ہاں البتہ ایک ضعیف حدیث میں یہ ہے کہ بدھ کے دن ناخن کاٹنے سے برص یعنی سفید داغ کی بیماری پیدا ہو جاتی ہے. یہ حدیث اگرچہ ضعیف ہے لیکن اس سے بچنے ہی میں بھلائی ہے. کیونکہ بلاوجہ اپنے اپ کو خطرے لانا عقلمندی نہیں ہے. ناخن کاٹنے کا طریقہ کیا ہے؟

ہاتھ کے ناخن کاٹنے کے دو سے تین طریقے آئے ہیں لیکن آپ کو ایک طریقہ بتاتے ہیں جو زیادہ مشہور بھی ہے کہ آپ دائیں ہاتھ کی انگوٹھے کے ساتھ والی انگلی سے شروع کریں اور چھوٹی انگلی پر ختم کریں. پھر ایسے ہی بائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی سے شروع کر کے انگوٹھے پر ختم کرے اور پھر جو آخر میں دائیں ہاتھ کا انگوٹھا رہ گیا تھا اس کا ناخن تراشے. اور یہ طریقہ زیادہ آسان بھی ہے اور اسی لیے علمائے کرام کا اس پر عمل بھی ہے. اور پاؤں کے ناخن کے بارے میں کوئی ترتیب منقول نہیں۔

علماء بیان کرتے ہیں کہ پاؤں کی انگلیوں میں وضو کرتے وقت جس ترتیب سے خلال کرتے ہیں اسی ترتیب سے ناخن بھی تراشی. یعنی دائیں پاؤں کی چھوٹی انگلی سے شروع کر کے انگوٹھے پر ختم کرے اور پھر بائیں پیر کے انگوٹھے سے شروع کر کے چھوٹی انگلی پر ختم کریں. دانت سے ناخن نہ کاٹنا چاہیے کہ یہ مکروہ ہے اور اس سے برص کی بیماری پیدا ہونے کا اندیشہ ہے. کچھ لوگ سارے ناخن کاٹ لیتے ہیں اور چھوٹی انگلی یا کسی ایک ناخن کو چھوڑ دیتے ہیں اس کا ناخن بڑا رہنے دیتے ہیں. یہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور صحابہ کرام کا طریقہ نہیں ہے. جمعہ کے دن ناخن کاٹنا چاہیے نہیں تو پندرویں دن لازمی کاٹیں اس کی مدت چالیس دن ہے. اس سے زیادہ چھوڑنا درست نہیں مونچھ اور زیر ناف اور بغل کے بال کا بھی یہی حکم ہے کہ حد چالیس دن اس کے بعد آپ گناہ کے زمرے میں آئیں گے.

چار چیزوں کے بارے میں یہ حکم ہے وہ دفن کر دی جائیں. بال، ناخن، حیض کا لیتا اور خون اس لیے ناخن کاٹنے کے بعد اسے دفن کر دینا چاہیے. پاخانہ یا غسل خانے میں ڈالنا انہیں مکروہ ہے کہ اس سے بیماری پیدا ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے. ناخن کاٹنے سنت ہیں. آپ ناخن کاٹتے وقت یہ عمل کریں گے انشاءاللہ آپ جو مانگو گے فورا مل جائے گا. زندگی سے ہر قسم کی پریشانی دور زندگی پرسکون وہ انوکھا اور عجیب و غریب عمل ہے کیا؟

کوئی دکھ بیماری یا کسی بھی قسم کی پریشانی یا مسئلہ ہے. تو آپ یہ وظیفہ کر لیں کوشش کریں کہ جمعہ کے دن کریں اگر جمعہ کا دن نہ ہو تو آپ کسی بھی وقت کر سکتے ہیں. ہاتھ اور پاؤں کے ناخن آپ کو جو ترتیب بتائی ہے اس ترتیب سے کاٹ کر جمع کر لیں. سارے ناخنوں کو کسی سفید ٹشو یا سفید کاغذ میں جمع کر کے لپیٹ لیں. اور پھر آپ کو یہ عمل کرنا سورہ بقرہ کی آیت نمبر ایک سو چھپن اس آیت کو ایک سو ایک مرتبہ پڑھ کر ناخنوں پر دم کرنا ہے. اور اول و آخر تین تین مرتبہ درود شریف پڑھ لیں. جو بھی بیماری یا مسئلہ ہے وہ نیت دل میں رکھ کر یہ عمل کر لیں. یہ عمل کرنے کے بعد ناخنوں پر پھونک لیں اور ان ناخنوں کو ایسی جگہ دفنا جہاں پر کسی انسان کا پاؤں نہ آئے آپ انہیں گھر کے گملوں میں بھی ڈال سکتے ہیں. انشاءاللہ ہر قسم کا مسئلہ ہر قسم کی پریشانی ختم ہو جائے گی. جمعہ کے دن کریں گے تو زیادہ فائدہ ہے اور کوشش کریں اس عمل کو پانچ سے چھ ہفتے تک کریں. یعنی اگر آپ ایک جمعہ کے دن کرتے ہیں تو پانچ سے چھ جمعہ ناخن کاٹنے ہوں گے اور جتنے جمعہ تک کریں گے اتنا ہی زیادہ اچھا ہوگا

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button