Entertainment

نادان دل قسط نمبر 3

محبت!

مجھے تو سمجھ نہیں آتی یہ محبت ہے کیا؟ نیلم نے اپنی جان دینے کا فیصلہ کرلیا

ہاں یار ﷲ ہی جانے اُس نے ایسا کیوں کیا-

سمیرا! اب تمہا رے منہ کو کیا ہوا؟
میں نے سمیرا کو اپنے ہاتھ کا اشارہ کرتے ہوۓ پوچھا

سمیرا میرے ہاتھ کو دیکھتے ہوۓ چونکی جیسے کسی گہری سوچ سے واپس
آئی ہو

یارماہی نیلم کے گھروالوں کا کیا حال ہو گا وہ تو جیتے جی ہی مرگۓ۔ اُن ٖٖکی ِبیٹی بھی نہیں رہی اُور ہاتھ سے عزت بھی گی

میں نے گہری سانس لِیتے ہوے کہا! ہاں یار ہم ایک  انسان کی خاطراپنوں کو تکلیف دیتے ہیں جو ہماری نفرت کہ قابِٖٖٖل بھی نہیں ہوتے

ہروقت تمہارے پاس ایک ہی بہانہ ہوتا ہے۔ میں بیمار تھا اس وجہ سےسبق یاد نہیں ہوا۔ سر فیصل کی آواز نے ہمیں احساس دلایا کہ ہم اکیڈمی میں ہیں اور کل ہمارااردو کا ٹیسٹ ہے

جلدی جلدی کھا نا دے دو بھوک سے جان جا رہی ہے میں نے بیگ صوفے پر پھینکتے ہوۓ گھرآتے ہی کہا

ماہی کھانا کیسا بنا ہے مجھے کھانا کھاتے ہوۓ گڑیا نے پوچھا

میں جو دُوسری روٹی ہاتھوں میں لیے یہ سوچ رہی تھی کہ کوئی کیسے کسی کی خاطر اپنی جان دے دیتا ہے۔

میں تو آپںی روٹی کا ایک نوالہ نہ دو آخر یہ محبت کیا ہے ؟

کیا ہے اس میں کے نیلم نے اپنی جان دے دی۔ کیا محبت ایک نشہء ہے

میرے دل نے چہتے ہوۓ کہا

اے محبت مجھے توجس سے نفرت ہے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button