Entertainment

نادان دل قسط نمبر 1

اف یہاں تو کوئی سونے بھی نہیں دیتا آوازیں تو کانوں کی کھڑکیاں توڑ کراندرآتی ہیں۔۔۔۔

!جاگو صبح ہوگی 

میں نوکر نہیں ہوں جو ہر وقت کچن میں کھڑی ہوں جسے نا شتہ کرنا ہے وہ آ جاۓ

عذاب ہے خدا کا ۔۔۔۔۔ یہاں تو کوئی اپنی جگہ سے ہلتا  نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

علی،آمنہ، تانیہ، ماہی ارے کوئی جا گےگا؟

آ گۓ۔۔۔ جی جی آ گۓ۔۔۔

 جاگو بچوں ورنہ آج کھا نا نہیں ملے گا

 ہاہاہا

ہنسوں مت میں مذاق نہیں کر رہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 ہا ہا ہا۔۔۔۔ اچھا جی

 ما ہی ! جاگو یار کالج  نہیں جانا کیا ؟علی کی آواز نے  نیند توڑ دی پران آنکھوں کا کیا کروں   

نہیں کھل رہی۔

 اف ایک تو یہ سردی پتہ نہیں کب جاۓ گی  لوگ کہتے ہیں کمبل  انھیں نہیں  چھوڑتا اور   

میرا کمبل ۔۔۔۔

ہوا کہ ساتھ مل کر میرے خلا ف شا‌‍‍‍ژش کرتا ہے۔

ہاہاہا علی تم تو آج بھی نہیں بدلے! توبہ توبہ آچھا تو یہ بات تم کہہ رہی ہو

 آمنہ  ہا ہا ہا۔۔۔۔ اس بار توعلی، گڑیا، تا نیہ، سب ہی آ منہ کا مزاق ا ڑا رہے  تھے۔۔۔۔

  ٹی وی لونج میں  بیھٹے، ہاتھوں میں چاۓ کہ کپ تھامے، ہنسنے میں مگن تھے ۔  آؤ آؤ ماہی ناشتہ  کرو اور سنو۔۔۔  آمنہ کی بات ہاہاہا

 ا یک تو کمرے سے  باہر آنے تک سو لوگوں کو سلا م کرنا پڑتا ہے۔

کیوں کیا ہوا؟ تا نیہ نے بارے مزے سے  پوچھا جیسے کہ جانتی نہیں۔

ہرجگہ ہی کھلونے ہیں جیسے میں کسی  کھلونوں والی دوکان میں آگئی ہوں۔۔۔ ہاۓ میرا پاؤں زخمی ہوگیا۔

  ہاۓ میرا معصوم  پاؤں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہاں تو دیکھ کرچلو نہ مزے سے چاۓ پیتے  ہوۓ علی نے

بولا ۔۔۔۔۔۔

آگئے! اب میں کالج جا رہی  ہوں سمیرا آگئی۔۔۔  اچھا دھیان کے ساتھ جاؤ۔۔۔۔۔  جاتے ہوۓ گڑیا نے آواز دی۔

-میں نے دروازہ بند کرتے ہوے خدا حافظ کہا اور سمیرا کہ سامنے جا کھڑی ہوئی۔

چل نہ ماہی آج تو پھر دیر ہو گئی پتہ بھی ہے آج سر ہاشمی کا لیکچر پہلے ہے۔۔۔۔۔۔

ہاہاہا۔۔۔۔ ماہی کیوں ہنستی جا رہی ہے یہاں میری جان نکل رہی ہے۔۔۔ یار سمیرا! ایک بات کی مجھے سمجھ نہیں آتی۔۔۔

  سمیرا جو پہلے ہی کالج سے لیٹ ہونے کی وجہ سے پریشان تھی تیز قدموں سے چلتے چلتے رک گی اور میرا ہاتھ  آپنے ہاتھوں میں دباتے ہوۓ  بولی کیا ہوا ماہی؟ مجھے بتاؤ میری پیاری دوست کیا ہوا؟ سمیرا کی آنکھوں کی پریشانی باہرآرہی تھی اور میرے دل میں شرارت ڈانس کررہی تھی۔۔ میں نے اپنا ہا تھ چھڑواتے ہوۓ پوچھا یار! جب بھی گھر سے کالج کیلیے نکلو توآپی کہتی ہے دھیان سے جانا۔ جب کہ میں تو تیرے ساتھ جاتی ہوں۔  اس سے  پہلے  کہ سمیرا کہ نوکیلے دانت مجھے کاٹ لیتے، میں تیز قدموں سے چلتے کالج کی وین پرچڑھ گئی ہا ہا ہا ہا۔۔۔۔

 ماہی رک میں کہتی رک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Related Articles

7 Comments

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button