Entertainment

نا دا ن دل قسط نمبر 4

ذرا کر زور سینے پر کہ تیر پُرسِتم نکلے
جو وہ نکلے تو دل نکلے، جو دل نکلے تو دم نکلے

واہ واہ کیا بات کہی غالب نے دل چاہتا ہے غالب کو کے ایف سی میں دعوت دُو

میں نے اُردو کی کتاب کو بند کرتے ہوے کہا۔
اُورتیز قدموں سے چلاتی ہوئی کنٹین کی طرف جانے لگی بھوک سے حالت حراب ہوئی تو احساس  ہوا جب گھر

سے نکلو تو پیٹ پوجا کر کہ نکلو ورنہ یہ پاپی پیٹ کو کی دُوجا کام نہیں کرنے دِ یتا

آرے ما ہی اِدھر آجاوُ ہم یہاں ہیں میرے چلتے ہوے قدم سمیرا کی آوز سے روک گے
میرے دُو قدم آگے سمیرا لڑکیوں کا مجمع لگے سموسو کا مزا اُرا راہی تھی

ماہی آجا پاکر یار تم بھی سموساءکھا سمیرا نے میری طرف پلیٹ برھتے ہوے کہا
میرا دل چاہ رہا تھا چٹنی سمیرا کہ سر میں گیڑا دو واہاں مرزا غالب کی شاعری نے میرا املیت بنا دیا اُور

 یہاں سموسا پلٹی کر راہی ہے اتنا نہ ہوا مجھے پیپر ہی کروا د تی اسی دوست ہو تو دوشمن کی ضرورت کہاں
پھر مجھے چٹنی پر تراس آگیا اُور بھوک نے بھی اجازات نہ دی

شہربانوں نے آپنے ہاتھوں کی اُ نگلیوں پر لگی چٹنی کو آپنی زبان کی مدد سے صاف کرتے ہوے
کہاں سمیرا میں کل درگاہ گی تھی واہاں پیر صاصب ہے اُن کی دُعا وسے میں تو پاس ہو جاو گی

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button