Islamic

کیا دجال کے آنے سے پہلے دنیا پریہودیوں کا قبضہ ہوگا؟

کیا دجال کے آنے سے پہلے دنیا پریہودیوں کا قبضہ ہوگا؟ ایک سوال اکثر و بیشتر یہ کیا جاتا ہے کہ کیا دجال یہودیوں سے ہوگا؟ اور دوسری جانب یہ بات بھی پوچھی جاتی ہے کہ یہودی دنیا پر کس طرح سے چھائے ہوئے ہیں؟ اس کے وجوہات کیا ہیں؟ اور ساتھ ہی یہ بھی بات کہی جاتی ہے کہ کیا دجال کے آنے سے پہلے یہودیوں کا غلبہ ہوگا اس پوری دنیا پر؟ تو اس سوال کا جواب آج کی اس پوسٹ میں دیا جائے گا اور ساتھ ہی ساتھ آپ کو بتایا جائے گا کہ یہودی اس پوری دنیا پر کیوں چھائے ہوئے ہیں؟
وہ بھی ایک وقت تھا جب دنیا کے بیشتر ممالک پر مسلمانوں کی حکمرانی ہوا کرتی تھی. اہل مغرب ہماری مثالیں دیا کرتے تھے. ہم ہی تھے جنہوں نے دنیا کو تہذیب سکھائی۔ طب اور دیگر شعبوں میں مسلمان سائنسدانوں کے خدمات کا اعتراف پوری دنیا نے کیا. ابن خلدون، بوعلی سینہ، ابن بطوطہ، جابر بن حیان سمیت اراضی کے کارناموں کو کون نہیں جانتا۔ مگر پھر قسمت ایسا روٹھی کہ آج تک روٹھی ہوئی ہے.

مسلمانوں کی غفلت
ایسا کیا ہوا کہ دنیا پر حکمرانی کرنے والے اپنی قدر ومنزلت گنوا بیٹھے۔ اور آج دنیا کے بیشتر وسائل اور نظام پر یہودی قابض ہیں. مسلمان اپنی غفلتوں کے سبب ترقی کے منازل سے دور ہوتے چلے جا رہے تھے. دنیا میں یہودیوں کی کل آبادی ایک کروڑ چالیس لاکھ کے قریب ہے. یہ تعداد امریکہ میں سترلاکھ ، اے سی آئی ممالک میں پچاس لاکھ، افریقہ میں ایک لاکھ اور یورپ میں بیس لاکھ کے قریب ہے۔ جبکہ دنیا میں مسلمانوں کی کل تعداد ایک ارب پچاس کروڑ سے زیادہ ہے. جن کی امریکہ میں تعداد ساٹھ لاکھ، ایشیا میں یہی تعداد اور مشرق وسطی کے ملکوں اور ریاستوں میں تقریبا ایک ارب تعداد بنتی ہے.
امریکہ میں مسلمانوں کی تعداد ساٹھ لاکھ ہے۔ افریقی ملکوں میں چالیس کروڑ ہے۔ اور یورپ میں چار کروڑ چالیس لاکھ ہے. اس وقت دنیا کے بیس فیصد آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے. دنیا میں اس وقت ایک ہندو کے مقابلے میں دو مسلمان ہیں جبکہ بدھ مت میں بھی یہی تناسب ہے۔ مگر ایک یہودی شخص کا مقابلے میں ایک سو سات مسلمان ہیں۔ مگر اس کے باوجود صرف ایک کروڑ چالیس لاکھ یہودی ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمانوں سے زیادہ طاقتور ہیں. سوال یہ ہے کہ کیوں ہیں؟
حقائق یہ بتاتے ہیں کہ یہ کوئی عجوبہ یا معجزہ نہیں ہے بلکہ ہماری اپنی کوتاہیاں ہیں. اگر دنیا کی تاریخ کے کچھ روشن ناموں پر سے پردہ اٹھایا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہودیوں کی اکثریت ان میں شامل ہے. البرٹ آئنسٹائن، کارل مارکس، میلٹن، فریڈ مین، اور سیگمنٹ فرائڈ یہودی تھے.

کچھ ایسی ایجادات جنہوں نے دنیا کو بدل کر رکھ دیا
اگر دنیا کے مشہور برینڈز کی بات کی جائے تو وہاں پر بھی یہودی چھائے ہوئے دکھائی دیتے ہیں. سیاست میں دیکھیں تو عالمی سیاست پر بھی یہودی چھائے ہوئے دکھائی دیتے ہیں. مسئلہ یہاں یہ نہیں ہے کہ یہودی دنیا پر حکمرانی کر رہے ہیں بلکہ لمحہ فکریہ یہ ہے کہ مسلمان پیچھے کیوں ہیں؟
اس سوال کے جواب میں یہ بات آپ کو واضح ہو چکی ہوگی کہ دجال کی آمد سے پہلے یہودی ہی چھائے ہوئے ہوں گے. ایک وقت ہوا کرتا تھا کہ جب اہل مغرب مسلمانوں کی تصنیفات کے ترجمہ کرا کے ان سے رہنمائی لیا کرتے تھے. طب پر مسلمان سائنسدانوں کی کتابیں اہل مغرب کی لائبریریوں کی زینت ہوا کرتی تھی۔ لیکن پھر سب کچھ آہستہ آہستہ اٹھتا چلا گیا. مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی.
گزشتہ ایک سو پانچ سالوں میں مٹھی بھر یہودیوں نے ایک سو اسی جبکہ مسلمانوں نے صرف چار نوبل انعام حاصل کیے ہیں۔ ہم توجیح تو دے دیتے ہیں کہ نوبل انعام کی جیوری پر یہودیوں کا غلبہ ہے۔ مگر کیا ہم نے ایسا کوئی اقدام کیا ہے جس سے مثبت نتائج کی توقع ہو. ان سب ناکامیوں کے اگراسباب پرغور کیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ علم سے دوری نے مسلمانوں سے اقتدار کی عظمتیں چھین لی ہیں.
تعلیمی درسگاہوں سے دوری
تعلیمی درسگاہوں سے دوری اس تنزلی کی ایسی اصلی وجہ ہے. آپ حیران ہوں گے کہ تمام اسلامی ممالک میں پانچ سو جبکہ صرف امریکہ میں پانچ ہزار سات سو اٹھاون، اور بھارت میں آٹھ ہزار چار سو سات یونیورسٹیاں ہیں۔ جبکہ ایک چھوٹے سے سٹائل میں جامعات اور کالجز کی تعداد گیارہ سو چونتیس ہے. کسی بھی اسلامی ملک یونیورسٹی کا نام دنیا کی پانچ سو بہترین یونیورسٹی کی فہرست میں شامل نہیں ہوتا۔ جبکہ صرف اسرائیل کی چھ یونیورسٹیاں دنیا کی پانچ سو بہترین جامعات میں شامل ہیں.
اگر پڑھے لکھے لوگوں کی شرح تناسب کو دیکھا جائے تو مغربی ملکوں میں نوے فیصد پڑھے لکھے لوگ جبکہ مسلمان ملکوں میں یہی تناسب صرف چالیس فیصد ہے. اسرائیل میں پڑھے لکھے لوگوں کی شرح کا تناسب پچانوے فیصد سے زیادہ ہے مغربی ملکوں میں پندرہ ممالک ایسے ہیں جہاں پڑھے لکھے لوگوں کا شرح تناسب سو فیصد ہے۔ جبکہ مسلمانوں کو کوئی ایک بھی ایسا ملک نہیں ہے.
مغربی ممالک میں پرائمری تک تعلیم حاصل کرنے کا تناسب اٹھانوے فیصد ہے۔ جبکہ مسلمان ممالک میں تناسب پچاس فیصد ہے. مغرب میں یونیورسٹیوں میں داخلے کی شرح کا تناسب چالیس فیصد ہے۔ جبکہ مسلمان ممالک یہی تناسب صرف دو فیصد ہے.
جب حالات ایسے ہوں گے تو یہ بات تو واضح طور پر سامنے آجائے گی اور تمام لوگ یہی بات کہیں گے کہ یہودیوں کا ہی غالب آنا حقیقت ہے اور یہودیوں کو غالب آنا بھی زیب دیتا ہے. اور یہ بات بھی بہت حد تک بلکہ ہر حد تک حقیقت ہے کہ یہودیوں کا دنیا پر قبضہ ہوگا. دجال کے آنے سے پہلے۔
دجال کے فتنے سے بچنے کے لیے
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دجال کی علامات کیا ہیں؟ اور دجال کے فتنے سے بچنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ علیہ وسلم نے ہمیں کیا طریقہ کار بتایا ہے؟ دجال کا مطلب ہی مکار اور فریبی ہے. نبی اقدس صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ہر جمعہ کے دن سورۃ الکہف پڑھنے کی ترغیب دی ہے اور اس کا ایک فائدہ دجال کے فتنے سے حفاظت بیان فرمائی ہے.
بڑا دجال تو ہے ہی لیکن یہ جو ہر روز ہمیں گمراہ ہوں. عیار لوگوں, فریبیوں, دھوکے باز ہوں, دین فروشوں سے واسطہ پڑتا ہے ان کی بڑی شکلوں کو دیکھ کر ان کی ضرب زبانی سن کر ان کی ظاہری شاٹ باٹ دیکھ کر انسان بہت متاثر و مرعوب ہو جاتا ہے. ان سے ایمان و جان بچانے کے لیے سورہ کہف کی حفاظتی تدبیر سے بہتر کوئی صورت نہیں ہے۔ اس لیے ہر مسلمان کو جمعہ کے دن سورۃ الکہف کی تلاوت کرنی چاہیے تاکہ اللہ کریم ہمارے ایمان, ہمارے مال, ہماری عزت و آبرو کو ان دجالوں کے فتنے سے محفوظ فرمائے. ہر نماز میں التحیات کے آخر میں فتنہ دجال سے پناہ مانگنے کی دعا بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے سکھائی ہے. اسے بھی مسلسل پڑھنا چاہیے.
دجال کی علامات کیا ہیں؟
نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ والہ نے فرمایا دجال یہودیوں کی نسل سے ہوگا جس کا قد ٹھیک نہ ہوگا. دونوں پاؤں ٹیڑھے ہوں گے جسم پر باروں کی بھرمار ہوگی. رنگ سرخ یا گندمی ہوگا. سر کے بال حبشیوں کی طرح ہوں گے. ناک چوز کی طرح ہوگی آنکھ سے کھانا ہوگا دائیں آنکھ میں انگور کے بقدر ناک نہ ہوگا. اس کے ماتھے پر قاف, الف, ریل لکھا ہوگا. اسے ہر مسلمان با آسانی پڑھ سکے گا. اس کی آنکھ سوئی ہوئی ہوگی مگر دل جاگتا رہے گا شروع میں وہ ایمان و اصلاح کا دعوی لے کر اٹھے گا. لیکن جیسے ہی تھوڑے بہت مطمئن میسر ہوں گے وہ نبوت اور پھر خدائی کا دعوی کرے گا. اس کی سواری بھی اتنی بڑی ہوگی کہ اس کے دونوں کانوں کے درمیانی فاصلے کو چالیس گز کے ناپا جا سکے گا
ایک قدم تاحد نکاح مسافت کو طے کر لے گا. دجال پکا جھوٹا اور اعلی درجے کا شوق دباز ہوگا اور اس کے پاس غلوں کے ڈھیر اور پانی کے نہریں ہوں گے. زمین میں مضفوم تمام خزانے باہر نکل کر شہد کی مکھیوں کی مانند اس کے ساتھ ہو لیں گے. جو قبیلہ اس کی خدائی پر ایمان لائے گا. دجال اس پر بارش برسائے گا جس کی وجہ سے کھانے پینے کی چیزیں ابل پڑیں گی. اور درختوں پر پھل آ جائیں گے.
کچھ لوگوں سے آ کر کہے گا کہ اگر میں تمہارے ماں اور باپوں کو زندہ کر دوں تو کیا میری خدائی کا اقرار کرو گے? لوگ اسباب میں جواب دیں گے. اب دجال کے شیطان ان لوگوں کے ماں اور باپوں کی شکل لے کر نمودار ہوں گے. یہ آگے تک بھی قصہ اور معاملہ جاتا ہے۔ لیکن یہاں تک بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ واضح ہو جائے کہ یہودی کس قدر چالاک اور تیز اور ہوشیار اور شاطر ہیں کہ وہ دجال کی آمد سے پہلے اس کے آنے کا انتظار کر رہے ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Check Also
Close
Back to top button