Islamic

ہم قرآن پاک کے ساتھ بدترین سلوک کیوں کرتے ہیں

میرا آپ سے ایک سوال ہے۔کہ آپ کو ئی بھی کتا ب پڑھنا چا ہتے ہو ں۔ وہ مہنگی ہو یا سستی۔ آپ اسے مکمل یکسو ئی سے پڑھتے ہیں۔ اگر خدا نخواستہ آپ کو سمجھ نہ آتی ہو۔ تو آپ اسے دوسرے ٹا ئم غو رسے پڑھتے ہیں۔ تاکہ اس کی با تو ں کو جان لیں۔ مقصد کو پہچا ن لیں۔ لیکن جب آپ قرآ ن پاک پڑھتے ہیں۔ تو بغیر سمجھے پڑھتے ہیں قر آن پاک کے ساتھ اتنی بڑی
نا انصافی کیوں؟

اتنی قیمتی کتا ب جس کی کوئی قیمت ہی نہیں ہو سکتی۔ یہ ایک ایسی کتا ب ہے۔ جو جواہرات کے ساتھ بھی نہیں تو لی جا سکتی۔ اور پھر اُس اللہ تعالیٰ کی کتا ب ہے جس نے ہمیں پیدا کیا یہ ہمارے نام اللہ تعالیٰ کا ہدایت نامہ ہے۔ کیا ہماری یہ محبت ہے۔کہ اس کو سو چے سمجھے بغیر ہی پڑھا جائے۔ اللہ تعالیٰ کی با تو ں کو سمجھا ہی نہ جائے۔ اللہ تعالیٰ کی نصیحتو ں کو پہچا نا ہی نہ جائے اللہ تعالیٰ کی ہدا یت کو سیکھا ہی نہ جائے۔ قرآن کے سچ کو جا نا ہی نہ جائے۔
آخر اللہ تعالیٰ کی کتاب سے یہ بدترین سلو ک کیو ں؟

آپ کہتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی آخری کتا ب ہے اور ہم اس کو مانتے ہیں یعنی سچ مانتے ہیں ۔ اگر آپ قرآن پاک کو سچ ما نتے ہیں تو آپ قرآن پاک کے سچ کو کتنے فیصد جانتے ہیں 10فیصد 25فیصد 50فیصد یا 100فیصد۔اگر آپ کا جو اب نفی میں ہے توکیا آپ کا مطالعہ اتنا ہی ناقص ہے۔ اس کی کوئی تو خاص وجہ ہو گی۔ قرآن پا ک حضور نبی کریم ﷺ کو 23سال کے عرصے میں سمجھا سمجھا کر پڑھایا گیا۔ اور ہم نے اسی کو ہی چھو ڑ دیا۔ اور اس کے ساتھ سلو ک یہ کیا۔ کہ رمضان میں آدھا گھنٹہ بلا سو چے سمجھے اسکو سنا جا تا ہے۔ اور لوگ سمجھتے ہیں کہ ہما را فرض آدا ہو گیا۔
اللہ تعالیٰ سورہ القصص آیت 85 پا رہ نمبر 20میں فرماتے ہیں۔بلا شبہ جس نے آپ پر یہ قر آن پاک فر ض کیا ہے۔ وہ آپ کو ایک انجام کو پہنچا نے والا ہے۔ آپ ﷺ کہہ دیجیے۔ کہ میرارب خو ب جا نتا ہے۔ کہ کون ہدایت لے کر آیا ہے۔ اور کو ن کھلی گمر اہی میں پڑا ہے۔
محترم قارئین
قرآن پاک کی ہدایت سیکھنا تو ہم پر فرض ہے اور قر آن پا ک کی یہی ہدا یت ہمیں ایک بہترین انجام کو پہنچا تی ہے۔ قرآن پاک کی ہد ایت کو سمجھنے کے لیے ہمیں قرآ ن پاک کو اردو میں سمجھنا پڑے گا۔ کیو نکہ ہم کسی دو سری زبا ن کی کسی ڈش کو اپنی زبا ن میں سمجھے بغیر نہیں بنا سکتے۔ چاہے وہ ہمیں سود فعہ کیو ں نہ بتائیں۔ جب ہم دو سری زبا ن کی ایک ڈش نہیں بنا سکتے۔ تو قر آن پاک کی ہدایت کواردومیں سمجھے بغیر کیسے ایک بہترین انجا م کو پہنچ سکتے ہیں۔
محترم قارئین!
ہم نے قرآن پا ک کو کیا جانا اور کیا مانا۔ میرا آپ سے سوال ہے۔ کہ آپ کا دعویٰ ہے۔ کہ آپ روزانہ قرآن پاک کو آدھا گھنٹہ یا پندرہ منٹ پڑھتے ہیں۔ تو جب آپ قرآن پاک پڑھ کر فا رغ ہوتے ہیں۔ تو آپ نے اپنی کسی غلط فہمی کی اصلا ح کی ہو تی ہے۔ آپ کو ئی نئی نصیحت لے کر اٹھتے ہیں۔ آپ کسی سچ کو دیکھ کر حیران ہو تے ہیں۔ اور نئی بات سیکھتے ہیں۔ آپ کے دل میں دن بد ن انقلاب آتا جاتا ہے۔ آپ سچ اور جھوٹ میں فرق کرتے جارہے ہیں آپ کا جو اب ہے۔ ارے نہیں ہم تو صر ف اسے عربی میں پڑھتے ہیں ۔اور بس ثواب دارین حا صل کرلیتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ آپ جیسے کو رے بیٹھے تھے۔ ویسے ہی کو رے اٹھ گئے۔ ہیرو ں کے خزانے میں ہا تھ ڈا ل کہ بیٹھے رہنے کے با وجو د خالی ہا تھ واپس اٹھ گئے۔ علم کا سمندر پا س ہونے کے با وجود پیا سے ہی اٹھ گئے۔
محترم قارئین!
ہم نے اس قرآ ن پاک کی عربی کو بھی پڑھنا ہے۔ ہم نے اس قرآ ن پاک کو گلے سے بھی لگا نا ہے اسے چومنا بھی ہے۔ کہ یہ ہمارے رب کی کتا ب ہے جو اس نے ہمارے نا م لکھی ہے۔اس کو اونچی جگہ پر بھی رکھنا ہے۔ اس کو پیا رسے بھی دیکھنا ہے۔ مگر اسکے ساتھ ساتھ اس کو سمجھنا بھی ہے۔ تاکہ ہم اللہ تعالیٰ کے بار ے میں جان سکیں۔ کہ وہ ہم سے کیا چاہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو قرآن پاک کی سمجھ عطا فرمائے۔آمین

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button