Current issuesEntertainment

یہ ہماری کار ہے یہ ہم ہیں اور یہ ہماری پاری ہو رہی ہے

یہ ہماری کار ہے یہ ہم ہیں اور یہ ہماری پاری ہو رہی ہے. یعنی کہ پارٹی ہو رہی ہے. اس میم سے مشہور ہونے والی لڑکی پہلی بار سامنے آ گئی ہے. اپنے دوستوں کے ساتھ بنائی گئی محض چار سیکنڈ کی یہ عام سی ویڈیو بنانے والی لڑکی دیکھتے ہی دیکھتے اتنی وائرل ہوگئی کہ نہ صرف انٹرنیٹ پر ہر دوسرے شخص نے ان کے میمز بنا ڈالے بلکہ یہ سرحد پار انڈیا بھی جا پہنچی ہیں. جہاں ایک گلوکار نے ان کی ویڈیو کو استعمال کرتے ہوئے مظاہر انداز میں ایک گانا بھی بنا لیا ہے. اب یہ لڑکی کون ہے؟ ان کا کیا نام ہے؟ اور کہاں سے تعلق رکھتی ہیں اور انہوں نے انٹرویو کے دوران کیا کہا ہے؟ ا
راتوں رات میم بن جانے والی یہ لڑکی انیس سالہ دینہ نیر مبین ہے. جن کا تعلق پشاور سے ہے اور وہ خود کو ایک کریئٹر کہتی ہیں. جو میک اپ اور فیشن سے لے کر ذہنی صحت کے مسائل سے متعلق ہر چیز پر بات کرتی ہیں. انہیں اپنے خاندان والوں کے ساتھ وقت بتانے کے علاوہ پینٹنگ اور وقتا فوقتا گلوکاری کرنا بھی پسند ہے. اور کتوں سے بھی بہت زیادہ پیار کرتی ہیں. دینہ نیر کی انسٹاگرام پر شائع ہونے والی اس ویڈیو کو اب تک بارہ لاکھ پچاس ہزار چار سو تریسٹھ افراد دیکھ چکے ہیں۔ وائرل ہونے کے بعد انسٹاگرام پر ان کے فالورز کی تعداد بھی بڑھ کر دو لاکھ اکتالیس ہزار ہو چکی ہے.

دینہ نیر بتاتی ہیں کہ یہ پہلے سے طے شدہ منصوبہ نہیں تھا وہ اپنے دوستوں کے ساتھ نتھیا گلی گھومنے اور کھانا کھانے کے لیے رکی تھی. بس اچانک ہی اپنا موبائل فون نکال کر ویڈیو بنا لی اور اپ لوڈ بھی کر دی. دینہ نیر کہتی ہیں کہ یہ میرا انداز نہیں ہے. میں ایسے بات بھی نہیں کرتی ہوں. اور صرف ویڈیو بنانے کے لیے یہ مزاحیہ انداز اختیار کیا تھا. وہ کہتی ہیں کہ مجھے پارٹی کہنا آتا ہے اور مجھے پتہ ہے کہ یہ پاری نہیں پارٹی ہے۔ میں نے تو صرف آپ سب یعنی کہ میرے انسٹاگرام فالورز کو ہنسانے کے لیے ایسا کیا.
دینہ نیر پر میمز بنانے والوں میں صرف پاکستانی ہی نہیں انڈین بھی شامل ہیں. حتی کہ ایک انڈین گلوکار نے ان کا وائرل ویڈیو استعمال کرتے ہوئے ایک میش اپ گانا بھی بنا ڈالا ہے. دینہ میر کا کہنا ہے کہ جہاں دنیا بھر میں اتنی تقسیم ہے ایسے وقت میں سرحد پار پیار بانٹنے سے بہتر کیا ہو سکتا ہے؟ مجھے خوشی ہے کہ میری ویڈیو کے باعث اب ہم اور ہمارے ہمسائے مل کر پارٹی کر رہے ہیں. یش نے اپنے کیپشن میں لکھا ہے کہ آج سے میں پارٹی نہیں صرف پاری کروں گا. کیونکہ پارٹی کرنے میں وہ مزہ نہیں ہے جو پاری کرنے میں ہے. وہ کہتے ہیں کہ میرا نہیں خیال کہ کوئی ایک ویڈیو میری پسندیدہ ہے. کیونکہ جب میمز کی بات آئے تو پاکستانی بہت اعلی پائے کے میمز تخلیق کرتے ہیں. اور وہ سب کے سب اتنے ہمہ گیر اور دل کو چھو لینے والے ہیں کہ میں کسی ایک کا انتخاب ہی نہیں کر سکتا.
دینہ میر کا کہنا تھا کہ جب وہ ویڈیو اپ لوڈ کر رہی تھی اس وقت ان کے وائرل ہونے کا کوئی ارادہ نہیں تھا. وہ بتاتی ہیں کہ وہ تو بس سب کو ہنسانا چاہتی تھیں اور ان کا خیال ہے کہ وہ اس سے زیادہ ہی کرنے میں کامیاب رہی ہیں. اب میرے پاس ایک بڑا خاندان ہے جس کے لیے میں اپنے تمام فالورز کی بہت شکر گزار ہوں. اپنے خاندان کے ردعمل کے بارے میں بتاتے ہوئے دینہ میر کا کہنا تھا کہ میرے گھر اور دوستوں میں سب کو پتہ ہے کہ میں ذرا مزاحیہ باتیں کرتی ہوں. میں عجیب و غریب تبصرے اور احمقانہ مذاق کرتی رہتی ہوں. اور میں اپنے قریب لوگوں کے ساتھ بس ایسی ہی ہوں. سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگ پاری ہو رہی ہے ٹرینڈ کر رہا ہے. اور پاکستان کیا انڈیا اور دنیا بھر میں عام لوگوں سے لے کر مشہور شخصیات حتی کہ کئی لڑکے اور لڑکیاں بھی اب تک اس ہیش ٹیگ میں اپنی ویڈیوز بنا بنا کر شیئر کر رہے ہیں. کوئی کہتا ہے کہ یہ ہماری گاڑی ہے یہ ہم ہیں اور ہم خواری ہو رہے ہیں.
تو کوئی خاتون اپنی بیٹی کو ویڈیو دکھا کر کہتی ہے کہ یہ میں ہوں یہ میری بیٹی ہے اور یہاں ہماری نیندیں حرام ہو رہی ہیں.
جہاں ایک بچے نے ویڈیو بنائی یہ ہماری کتابیں ہیں یہ ہم ہیں یہ سر کھپائی ہو رہی ہے۔ وہی ایک لڑکی نے کچھ ایسی ویڈیو اپ لوڈ کی کہ یہ ہماری تنہائی ہے یہ ہم ہیں اور ہم بور ہو رہے ہیں. تاہم کچھ لوگ یہ بھی پوچھتے نظر آ رہے ہیں کہ بھائی یہ پاری کیا چیز ہے؟ ہمارا خیال ہے کہ شاید ان لوگوں کو ابھی تک واٹس ایپ پر کسی نے دینہ میر کی کلپ نہیں بھیجی اور وہ پاری کرنے سے محروم رہ گئے ہیں.
اس ڈائیلاگ کے مشہور ہونے کی بات کریں تو اب اس وائرل میم کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پاری ویڈیو پر گلوکار علی ظفر، اداکارہ صبا قمر، اداکار اعجاز اسلم، اور فلک شبیر سارا خان سمیت دیگر شخصیات اور عام افراد نے بھی ویڈیوز بنائی ہیں. جو دیکھتے ہی دیکھتے وائرل بھی ہوگئی ہیں.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button