EducationEntertainment

دنیاوی مسائل کاحل دنیاوی علم ہے

دنیاوی مسائل کاحل دنیاوی علم ہے.انسان کی ضروریات دو قسم کی ہوتی ہیں. پہلی جسمانی اور دوسری روحانی اور ان کے حصول کے لیے بھی الگ الگ طریقے ہیں. مثال کے طور پر جب ہمیں بھوک لگتی تو ہمیں کسی سے پوچھنے کی ضرورت پیش نہیں آتی. بلکہ ہم کھانا کھاکر اپنی بھوک مٹا لیتے ہیں۔ اسی طرح اگر ہم اداس ہوں یا خوش تو یہ چیزیں ہماری روح سے جڑی ہیں. یہاں پرہر انسان الگ الگ طریقہ اپناتا ہے تاکہ اس کی روح کی تسکین ہوسکے ۔

پہلے والی مثال کا تعلق ہماری مادی ضرورت سےہیں. اور بھوک لگنے پر دنیا کا ہر انسان کچھ نا کچھ کھاتا ہے. جبکہ روح کی تسکین کےلیے دنیا کا ہر انسان الگ الگ طریقہ اختیار کرتا ہے ۔ جہاں طریقہ الگ ہوجائے وہاں اختلاف بھی ضرور پیدا ہوتا ہے. اور نتیجہ اچھا بھی نکل سکتا ہے اور برا بھی. پر جہاں کسی مسلے کا حل ساری دنیا میں ایک ہی ہو وہاں اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ اب ہم بات کرتے ہیں دنیاوی مسائل کی اور پھر ان کو حل کیسے کرنا ہے.

 

مثال کے طورپر میں ڈاکٹر کے پاس جاتا ہووہ مجھ سے میرا مسلہ پوچھتا ہے اور پھر اس کے لیے مجھے دوائی تجویز کردیتا ہے. اسے میرے عقیدے یا مجھ سے کوئی مسلہ نہیں تو ڈاکٹر ایک دنیادار ہے. جسے سیکولر کہا جاتاہے. اسی طرح اگر میں اپنی موٹرسائیکل مکینک کے پاس لے جاتا ہے تو مکینک بھی مجھ سے یہ نہیں پوچھے کا کہ تمہارا عقیدہ کیا ہے بلکہ وہ موٹرسائیکل کو مرمت کرکے دے گا مکینک بھی سیکولر ہے۔

اسی طرح انسان کسی ملک رہتا ہے تو جدید ریاست بھی ہر شہری کے لیے ایک جیسی ہوتی ہے اسے بھی اپنے شہریوں کے عقیدے ،ذات یا زبان سے کوئی مسلہ نہیں ہوتا. بلکہ جدید .ریاست ہر شہری کو بلاتفریق تعلیم ،روزگار،علاج، رہائش، انصاف اور تحفظ فراہم کرتی ہے کیونکہ ریاست کا ادارہ بھی ہماری دنیاداری کے مسائل کے حل لیے معرض وجود میں آیا ہے اس لیے ریاست ہر شہری کے لیے غیرجانبدار رہتی ہے اور کسی کے عقیدے میں مداخلت نہیں کرتی. اور ہر انسان اپنے عقیدے کے مطابق قائم عبادت گاہ میں جانے میں آزاد ہوتا ہے ۔

اگر کوئی ریاست کسی خاص گروہ کی نمائنده بن کر ان کے مفادات کے تحفظ کےلیے قانون سازی کرے تو اس سے باقی شہریوں میں عدم تحفظ پیدا ہوجاتا ہے اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ شہری جن کے ساتھ ریاست امتیازی سلوک کرتی ہے وہ یا تو ملک چھوڑ جاتا ہے یا پھر ملک سے بیزار ہوجاتا ہے. اور قومی ترقی میں حصہ نہیں لیتا. اور ملک فرقہ واریت اور نقص امن کی آگ کی لپیٹ میں آجاتا ہے. اس لیے ایک سیکولر ریاست ہی اپنے شہریوں کے بنیادی مسائل حل کرسکتی ہے .

تعلیم،روزگار ،علاج،رہائش ،انصاف اور تحفظ ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور ریاست کا فرض ہے اور ریاست کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ بلاتفریق رنگ،نسل اور عقیدے کے ہر شہری کو بنیادی حقوق فراہم کرے ورنہ شہریوں کو اگر ریاست برابری کے حقوق نا دے تو ملک انارکی کی طرف جاتا ہے اور عالمی دنیا میں ایسی ریاست اپنا وقار کھو دیتی ہے اور ملک پسماندگی کے اندھیرے میں ڈوب جاتا ہے ۔ اس لیے دنیاداری کے مسائل کا حل دنیاوی علم سے ہی ممکن ہے
عبدالرحمن شاہ

Abdur Rehman

Teacher'Writer'Artist'Youtuber& Social activist

Related Articles

One Comment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button