Current issuesInternational

عائشہ عارف کے شوہر کو عدالت نے کیا سزا دی

جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے ہمارے معاشرے میں عدم برداشت ڈپریشن کا شکار لوگ دن بدن بڑھتے جا رہے ہیں. حساسیت اتنی بڑھتی جا رہی ہے کہ لوگوں کو نہیں سمجھ آتا کہ کیسے ہم نے ڈپریشن سے نمٹنا ہے. اب ہم اپکو بتائیں گے کہ عائشہ عارف جنہوں نے خودکشی کی تھی ندی کے اندر چھلانگ مار کے کیونکہ ان کے سسرال والے ان کو جہیز کا طعنہ دیتے تھے اور ان کے شوہر کا تعلق کسی اور عورت کے ساتھ بن گیا تھا. اس کیس کے اندر کیا مزید پیش رفت ہوئی ہے کیا اس کے شوہر کو سزا ملی ہے؟ یا کہ عائشہ عارف ہمیشہ کے لیے اس دنیا سے بنا انصاف لیے جا چکی ہیں .
عائشہ عارف جن کا تعلق بھارت سے تھا لیکن ان کا درد پوری دنیا میں محسوس کیا گیا تھا کیونکہ وہ لڑکی بھی ابھی نوجوان تھی۔ کچھ سال پہلے اس کی شادی ہوئی تھی. اور جب اس کی شادی ہوئی تو اس کو پتہ چلا کہ اس کے شوہر کا تعلق کسی اور خاتون کے ساتھ ہے۔ اور جب اس نے اپنی ساس کو اپنے سسرال والوں کو جا کر یہ بتایا تو اس کے سسرال والوں نے بجائے اس کے کہ اپنی بیٹی سمجھ کر اس کے درد کو سمجھتے اور اپنے بیٹے کو سمجھاتے۔ انہوں نے اسی کو جہیز کا طعنہ مارنا شروع کر دیا اور پھر ان کے ساتھ طرح طرح کے مطالبے کرنے لگے اور جب یہ لوگ تنگ آگئے اور اس کے شوہر نے اس کو یہاں تک کہہ دیا کہ ٹھیک ہے تم مر جاؤ اور مرتے وقت اپنی ویڈیو ضرور سینڈ کر دینا.
آپ کو پتہ ہے کہ اس کی ویڈیو پوری دنیا میں وائرل ہوگئی تھی. کیونکہ عائشہ عارف جس وقت ندی میں کھود رہی تھیں اس وقت انہوں نے اپنا ایک ویڈیو بنایا تھا جو پوری دنیا نے دیکھا۔ اور اس کا درد محسوس کیا اور پھر اس کے بعد ایک کال بھی سامنے آئی تھی جس میں عائشہ عارف اپنے والد کے ساتھ بات کر رہی ہوتی ہیں۔ جس میں اس کے والد اس کی والدہ اس کو بہت سمجھاتے ہیں کہ تم نے خودکشی نہیں کرنی ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ لیکن وہ لڑکی کسی صورت نہیں مانتی اور اپنی جان لے لیتی ہے. اب فائنلی اس کیس میں یہ پیش رفت ہوئی ہے کہ جو احمد آباد کی عدالت ہے وہاں پر اس لڑکی کے شوہر نے درخواست دی ہوئی تھی ضمانت کی۔ لیکن جو صاحب ہیں انہوں نے یہ ریمارکس دیتے ہوئے اس درخواست ضمانت کو مسترد کر دیا کہ اس طرح کے کیسز اور اس طرح کے واقعات بھارت کے اندر ایک بدنما داغ ہیں ہمارے کلچر کے اوپر کہ کلچر میں جہیز کی وجہ سے ظلم و ستم کی وجہ سے لڑکیاں اپنی جان دے دیتی ہیں اور لڑکے جو ہیں وہ باہر چکر چلاتے پھرتے ہیں اور سسرال والے جو ہیں وہ اس طرح کا سلوک کرتے ہیں.
اعداد و شمار کے مطابق سالانہ دنیا میں آٹھ لاکھ افراد خودکشی کرتے ہیں اپنی جان لے لیتے ہیں اور اس کی وجہ انہوں نے یہ بتائی تھی اور جو ماہر نفسیات ہیں وہ بھی یہ بتاتے ہیں کہ ڈپریشن خود اعتمادی کی کمی اور ناکامی کا خوف یہ ایسی ہوتی ہیں جو انسان کو اپنی جان لینے پہ مجبور کرتی ہیں. ماہر نفسیات کہتے ہیں کہ ہر انسان کی زندگی میں ایک مرحلہ ایسا ضرور آتا ہے جب وہ اس کے آگے کنواں پیچھے کھائی ہوتی ہے اور اس کے دماغ میں یہ خیال ضرور آتا ہے کہ مر جانا چاہیے یا اس کو اپنی جان لے لینی چاہیے. پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق جو دو ہزار بارہ کی ایک رپورٹ تھی اس میں یہ بتایا گیا تھا کہ پاکستان کے اندر سالانہ لاکھوں افراد خودکشیاں کرتے۔ لیکن روز کے اگر ہم دیکھیں اعداد و شمار تو تقریبا پندرہ سے پینتیس افراد ایسے ہیں جو اپنی جان لے لیتے ہیں. تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ماہر نفسیات کہتے ہیں کہ ہم سب کی زندگی میں ایک موقع ایسا ضرور آتا ہے جب اس طرح کے خیالات آتے ہیں. تو بات یہ ہے کہ دنیا ہمارے لیے ہے ہی امتحان ہے. اگر ہر انسان کے ذہن میں یہ خیال آتا ہے تو پھر کتنے لوگ ایسے ہیں جو اس چیز میں نکل جاتے ہیں اس مرحلے میں سے نکل جاتے ہیں.
کیونکہ ہمیشہ ہر اندھیرے کے بعد ایک روشنی آتی ہے. ہمیشہ ہر ایک مشکل کے بعد ایک آسانی آتی ہے۔ جس کا وعدہ اللہ تعالی نے ہم سے خود کیا ہے اور اللہ تعالی اسی لیے کہتے ہیں کہ مایوسی کفر ہے۔ اللہ ہمیشہ ہمیں اس طرح کے مشکل میں ڈالتا ہے اور اس کے بعد پھر ہمیں اس سے نکالتا ہے. جب ہم ان مشکلات میں سے نکل جاتے ہیں تو پھر ہمیں احساس ہوتا ہے کہ وہ چیزیں جو ہم سمجھتے تھے کہ اس وقت ہمارے لیے صحیح ہیں. وہ واقعی ہمارے لیے صحیح نہیں تھیں. لیکن بات یہ ہے کہ یہ خودکشی کب ہوتی ہے؟ ماہر نفسیات چاہے کچھ بھی کہیں میں یہ کہتی ہوں کہ جب آپ ایک رضا آپ کی ہے اور ایک اللہ کی ہے. جب آپ اللہ کی رضا کے ساتھ راضی ہو جاتے ہیں تو پھر آپ شکر گزار ہو جاتے ہیں کیونکہ آپ کو پتہ ہے کہ میری اپنی کوئی رضا نہیں ہے جو بھی رضا ہے وہ اللہ کی ہے۔ اور کیونکہ اللہ کی رضا ہے اس لیے اس میں میں خوش ہوں. اور اگر آپ اللہ سے ٹکر لیتے ہیں. اور کہتے ہیں کہ اللہ کی رضا یہ ہے اور میری رضا یہ ہے اور کیونکہ میں یہ چاہتا تھا اور کیونکہ اللہ کچھ اور چاہتا تھا. تو اس لیے یہ چیز میں ایکسیپٹ نہیں کرتا اور جب ہم دماغی طور پر اس چیز کو ایکسیپٹ نہیں کرتے تو پھر یا تو لوگ پاگل ہوتے ہیں یا لوگ خودکشی کرتے ہیں. اس بارے میں آپ لوگوں کا کیا خیال ہے اور بتائیے کیا آپ کی زندگی میں کبھی کوئی ایسا مرحلہ آیا جب آپ نے اپنی زندگی کا خاتمہ کرنا چاہا یا آپ ڈپریشن خود اعتمادی کی کمی یا اس طرح کی چیزوں کا شکار ہوئے ہوں.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button