Islamic

اللہ تعالیٰ نے قرآن اور ایمان جاننے کا کیا طریقہ بتایا ہے

ایمان کیا ہے اور قرآن پاک کیا ہے۔آئیں وہ آیات دیکھیں۔جس میں اللہ تعالیٰ ایمان اور قرآن پاک کے بارے میں خود ہی سوال کرتے ہیں۔اور پھر اس کا جواب دیتے ہیں۔
) سورہ شوریٰ آیت نمبر 52پارہ 25
اور اس طرح ہم نے اپنے حکم سے ایک روح آپ ﷺکی طرف وحی کی ہے۔ آپ ﷺنہیں جانتے تھے کہ کتاب کیاہے اور ایمان کیاہے۔ لیکن ہم نے اس کو روشنی بنا دیا۔ہم اپنے غلاموں میں سے جس کوچاہیں اس روشنی سے ہدایت دیتے ہیں۔ اور آپ ﷺ بلاشبہ سیدھے راستے کی طرف ہدایت کر رہے ہیں۔اُس اللہ تعالیٰ کے راستے کی طرف جو زمین اور آسمانوں میں موجود ہر چیز کا مالک ہے۔خبردار رہو۔ سارے معاملا ت اللہ ہی کی طرف لوٹتے ہیں۔
محترم قارئین!
آپ نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ ایمان کے بارے میں کیا کہہ رہے ہیں کہ آپ ﷺ نہیں جانتے تھے کہ کتا ب اور ایمان کیا ہوتا ہے مگر اللہ تعالیٰ نے اس قرآن کو روشنی بنا دیا۔اس روشنی کی وجہ سے ایمان اور کتاب کو جانا۔
یعنی اب جو انسان نہیں جانتا کہ ایمان کیا ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی کتاب کا کیامقصدہوتا ہے۔وہ اس قرآن کی روشنی میں سمجھ جائے گا کہ ایمان کیا ہوتا ہے آپ نے غور کیا کہ ایمان کو جاننے کے لیے قرآن پاک کی روشنی بہت ضروری ہے اس کے بغیر ہم اندھیرے میں ہیں اور اندھیرے میں کسی چیز کو نہیں سمجھا جا سکتا پھر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ہم اپنے غلاموں سے میں جسے چاہیں اس روشنی سے ہدایت دیتے ہیں اور آپﷺ بلاشبہ سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کر رہے ہیں اس اللہ تعالیٰ کے راستے کی طرف جو زمین اور آسمانوں کی تمام چیزوں کا مالک ہے۔
محترم قارئین!!
آپ نے دیکھا کہ تعلیم کتنی ضروری ہے جو مردیا عورت پڑھے لکھے ہونگے تو وہ قر آن کی روشنی سے دیکھ سکیں گے ان پڑھ بندہ تو اندھوں کی طرح ہوتا ہے اس کے سامنے قرآن کی تحریر بے شک لکھی ہو لیکن جب وہ پڑھ ہی نہیں سکتا،سمجھ ہی نہیں سکتا تو قرآن کی روشنی میں ایمان کو کیسے جانے گا۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے شرط لگائی ہے کہ قرآن سے پہلے آپ ﷺ ایمان کو نہیں جانتے تھے اس کا مطلب ہے کہ ہر انسان کو ایمان جاننے کے لیے قرآن پاک سے رجوع کرنا پڑے گا۔رسولﷺ نے اسی قرآن کے زریعے ہماری ہدایت کی۔یعنی رہنمائی کی۔جو اللہ تعالیٰ کاراستہ ہے۔
اب جو رسولﷺ کی اطاعت کرنے والے ہیں۔اسی قرآن پاک سے ہدایت حاصل کریں گے۔رہنمائی حاصل کریں گے۔تو ہدایت پالیں گے۔ایمان کوپالیں گے۔
یہ آیات اُن تمام فرقہ پرستوں کے جھوٹ کا پردہ چاک کرتے ہیں۔جو قرآن پاک کی تفسیر اپنے بڑے بزرگوں کے نام سے کرتے ہیں۔ کیونکہ اس طرح قرآن پاک کی اصل عبارت تو انکھوں سے اوجھل ہو جاتی ہے۔ اس طرح وہ ایمان کو کبھی نہیں سمجھ سکیں گے۔ اور نہ قرآن پاک کے نازل ہونے کے مقصد کو جان سکیں گے۔
رسولﷺ نے ہمیں قرآن پاک کے زریعے اندھیرے سے نکالا۔اور روشنی میں لائے۔یعنی قرآن پاک اندھیرے سے نکالنے والی کتاب ہے۔آئیں دیکھتے ہیں۔
) سورہ ابراہیم۔آیت1 پارہ 13
الر۔ یہ ایک کتاب ہے جس کو ہم نے آ پ ﷺکی طرف نازل کیا ہے تاکہ آپ لوگوں کو اندھیروں سے نکاال کرروشنی میں لائیں۔ اُن کے رب کی اجازت سے۔ اُس اللہ تعالیٰ کے راستے پر لائیں۔ جو زبردست قابل تعریف ہے۔
محترم قارئین!!
آپ نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ قرآن پاک کو روشنی کہہ رہے ہیں اور رسولﷺ سے فرماتے ہیں کہ لوگوں کے رب کی اجازت سے لوگوں کوقرآن پاک کے ذریعے اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لائیں یعنی اللہ تعالیٰ کے راستے پر لائیں۔ جو زبردست قابل تعریف ہے۔
محترم قارئین!!
آئیں رسولﷺ کے زریعے دی گئی روشنی کو حاصل کریں۔ اور اندھیروں سے نکل آئیں۔اسی لیے تو اللہ تعالیٰ رسولﷺ کے بارے میں فرماتے ہیں۔
) سورہ البقرہ ا ٓ یت151 پارہ 2
جس طرح ہم نے تمھیں میں سے ایک رسولﷺ بھیجا۔جو تمھیں ہماری آیات پڑھ کر سناتا ہے۔اورتمھیں پاک کرتا ہے،اورتمھیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔اور تمہیں وہ سکھاتا ہے۔جو تم نہیں جانتے تھے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button