Entertainment

ایک بیوی والے

ایک بیوی والے. ابن سینا کہتے ہیں کہ جس کی ایک ہی بیوی ہو وہ جوانی میں بوڑھا ہو جاتا ہے. اسے ہڈیوں کمر، گردن اور جوڑوں کے درد کی شکایات پیدا ہوجاتی ہے .اس کی مایوسی بڑھ جاتی ہے۔

محنت کم ہو جاتی ہے. ہنس یار جاتی ہے اور وہ شکوے اور شکایات کا گڑھ بن جاتا ہے. یعنی ہر وقت  شکوے شکایات ہی کرتا نظر اۓ گا۔

قاضی ابو مسعود کہتے ہیں کہ جس کی ایک بیوی ہو اس کے لئے لوگوں کے مابین فیصلے کرنا جائز نہیں۔ یعنی اس کا قاضی بننا درست نہیں۔ کیونکہ ہر وقت غصے کی حالت میں ہوگا۔ اور غصے میں فیصلہ جائز نہیں۔

ابن خلدون کہتے ہیں کہ میں نے پچھلی قوموں کی ہلاکت پر غوروفکر کیا تو میں نے دیکھا کہ وہ ایک ہی بیوی پر قناعت کرنے والے تھے۔

ابن مسعر کہتے ہیں کہ اس شخص کی عبادت اچھی نہیں ہو سکتی کہ جس کی بیوی ایک ہو۔

عباسی خلیفہ مامون الرشید سے کہا گیا کہ بصرہ میں کچھ لوگ ایسے ہیں کہ جن کی ایک ہی بیوی ہے تو مامون رشید نے کہا کہ وہ مرد نہیں ہیں۔ مرد تو وہ ہیں کہ جن کی بیویاں ہوں۔

اور یہ فطرت اور سنت دونوں کے خلاف چل رہے ہیں۔ ابن یونس سے کہا گیا کہ یہود و نصاریٰ نے تعدد ازواج یعنی ایک سے زائد بیویاں رکھنا کیوں چھوڑ دیا؟

انہوں نے جواب دیا اس لیے کہ اللہ عزوجل ذلت اور مسکنت کو ان کا مقدر بنانا چاہتے تھے۔

ابو معروف کرخی سے سوال ہوا کہ آپ کی ان کے بارے میں کیا رائے ہے جو اپنے آپ کو زاہد سمجھتے ہیں لیکن ایک بیوی رکھنے کے قائل ہیں؟

انہوں نے کہا کہ یہ زاہد نہیں بلکہ مجنون ہیں۔ یہ ابو بکر و عمر عثمان و علی رضی اللہ عنہ کے زہد کو نہیں پہنچ سکے۔

ابن ایاز سے ایسے لوگوں کے بارے سوال ہوا کہ جن کی ایک ہی بیوی ہے تو انہوں نے کہا کہ وہ مرد بس کھاتے پیتے اور سانس لیتے ہیں۔

وعلیک ابن اسحاق نے پورے شہر میں مال تقسیم کیا لیکن ایک بیوی والوں کو کچھ نہ دیا۔

جب ان سے وجہ پوچھی گئی کہا کہ اللہ عزوجل نے صفحہ یعنی ذہنی نابالغوں کو مال دینے سے منع کیا ہے کہ وہ اسے ضائع کر دیتے ہیں۔

ابن عطاء اللہ نے ایک بیوی رکھنے والوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم ان کو بڑا کیسے سمجھ لیں کہ جنہوں نے اپنے بڑوں کی سنت کو چھوڑ دیا یعنی صحابہ کی سنت کو۔

حصری کہتے ہیں کہ جب اللہ نے شادی کا حکم دیا تو اللہ نے دو سے شروع کیا اور کہا کہ دو دو دو تین تین سے کرو اور چار چار سے شادیاں کرو اور ایک کی اجازت ان کو دیں جو خوف میں مبتلا ہو۔

تقی الدین مدنی سمرقند کے فقیہ اوپن تو ان کو بتلایا گیا کہ یہاں کچھ لوگ ایک بیوی کے قائل ہیں تو انہوں نے کہا کہ کیا وہ مسلمان ہیں ؟

پھر مولانا احسان الحق شہر کو آزاد کیا تو اگلے چاند سے پہلے تین ہزار شادیاں ہوئی اور شہر میں کوئی کنواری مطلقہ اور بیوہ نہ رہی

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button