Entertainment

ایک ارب پتی اور مچھیرے کی کہانی

ایک ارب پتی اور مچھیرے کی کہانی۔ ایک ارب پتی صنعت کار ایک مچھیرے کو دیکھ کر بہت حیران ہوا۔ جو کہ مچھلیاں پکڑنے کے بجائے اپنی کشتی کنارے سگریٹ سلگائے بیٹھا تھا۔ صنعت کار نے پوچھا تم مچھلیاں کیوں نہیں پکڑتے؟ مچھیرے نے جواب دیا. آج کے دن میں مچھلیاں پکڑ چکا ہوں۔

صنعت کار بولا تم مزید کیوں نہیں پکڑتے؟ مچھیرا بولا میں مزید مچھلیاں پکڑ کر کیا کروں گا؟ صنعت کار تم زیادہ پیسے کما سکتے ہو۔ پھر تمہارے پاس موٹر کشتی ہوگی. جس سے تم گہرے پانیوں میں جا کر مچھلیاں پکڑ سکو گے. تمہارے پاس نائلون کے جال خریدنے کے لیے کافی پیسے ہوں گے. اس سے تم زیادہ مچھلیاں پکڑو گے اور زیادہ پیسے کماؤ گے. جلد ہی تم ان پیسوں کی بدولت دو کشتیوں کے مالک بن جاؤ گے. ہو سکتا ہے تمہارا ذاتی جہازوں کا بیڑہ ہو۔ پھر تم بھی میری طرح امیر آدمی بن جاؤ گے۔
مچھیرا بولا اس کے بعد میں کیا کروں گا؟ صنعت کار نے جواب دیا. پھر تم آرام سے بیٹھ کر زندگی کا لطف اٹھا سکو گے. مچھیرا مسکرایہ! سگریٹ کا لمبا کش لگایا اور بولا: جناب میں اس وقت کیا کر رہا ہوں؟ صنعت کار نے اس کو دیکھا اور شرم کے مارے سر جھکا کر وہاں سے چل دیا۔
نتیجہ:دوستوں کہتے ہیں کہ جو انسان اللہ کے دیے ہوئے تھوڑے پر راضی ہو جائے اسے دنیا کی کوئی طاقت نہیں ہرا سکتی. خوشیاں آسانیاں اور مسکراہٹیں بنگلوں میں نہیں ہوتی. بینک یا دولت میں نہیں ہوتی۔ بلکہ آپ کے اندر اطمینان قلب سے ہوتی ہیں. اگر آپ کا دل اطمینان قلب سے منور ہے تو جھونپڑی میں بیٹھ کر بھی بادشاہوں کی طرح زندگی گزار سکتے ہیں.
حضرت علی علیہ سلام فرماتے ہیں کہ، جس انسان کی جتنی خواہشات ہوتی ہیں اتنا ہی وہ دنیا میں بے چین رہتا ہے.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button