Islamic

آج کل اتنی غربت کیوں ہے؟

ایک آدمی سے کسی نے پوچھا کہ آج کل اتنی غربت کیوں ہے؟ اس نے جواب دیا میرے خیال سے اتنی غربت نہیں جتنا شور ہے. آج کل ہم جس کو غربت بولتے ہیں وہ دراصل خواہش پورا نہ ہونے کا نام ہے.
ہم نے تو غربت کے وہ دن بھی دیکھے ہیں کہ سکول میں تختی پر گاچی کے پیسے نہ ہوتے تو سباگا لگایا کرتے تھے. سلیٹ پر لکھنے کے لیے جب پیسے نہیں ہوتے تو سیل کا سکہ استعمال کیا کرتے تھے۔ سکول کے کپڑے جولیتے تھے وہ صرف عید پر لیتے تھے. اگر کسی شادی بیاہ کے لیے کپڑے لیتے تو سکول کلر کے ہی لیتے تھے. کپڑے پھٹ جاتے تو سلائی کر
کے بار بار پہنتے تھے.

جوتا بھی اگر پھٹ جاتا تو بار بار سلائی کروایا کرتے تھے. اور جوتا سروس یا باٹا کا نہیں بلکہ پلاسٹک کا ہوا کرتا تھا. گھر میں اگر مہمان آجاتا تو پڑوس کے ہر گھر سے کسی سے گھی کسی سے مرچ کسی سے نمک مانگ کر لاتے تھے. آج تو ماشاءاللہ ہر گھر میں ایک ماہ کا سامان پڑا ہوتا ہے. مہمان تو کیا؟ پوری بارات کا سامان موجود ہوتا ہے. آج تو سکول کے بچوں کے ہفتے کے سات جوڑے استری کر کے گھر میں رکھے ہوتے ہیں. روزانہ نیا جوڑا پہن کر جاتے ہیں.
اگر کسی کی شادی پہ جانا ہو تو مہندی, بارات اور ولیمے کے لیے الگ الگ کپڑے اور جوتے خریدے جاتے ہیں. ہمارے دور میں ایک چلتا پھرتا انسان جس کا لباس تین سو تک اور بوٹ دو سو تک کے ہوتے اور جیب خالی ہوتی تھی. آج کا چلتا پھرتا نوجوان جو غربت کا رونا رو رہا ہوتا ہے اس کی جیب میں تیس ہزار کا موبائل کپڑے کم سے کم دو ہزار کے. جوتا کم سے کم تین ہزار کا. گلے میں سونے کی زنجیر اور ہاتھ پر گھڑی ہوتی ہے. میرے عزیز غربت کے دن تو وہ تھے جب بتی جلانے کے لیے تیل نہیں ہوتا تھا. روئی کو سرسوں کے تیل میں ڈبو کر جلاتے.
آج کے دور میں تم جس کو غربت بولتے ہو وہ غربت نہیں بلکہ خواہشات پورا نہ ہونے کا نام ہے۔اگر کسی کے شادی میں شامل ہونے کے لیے تین جوڑے کپڑے یا عید کے لیے تین جوڑے کپڑے نہ سلا سکے تو اس کو غریب سمجھا جاتا ہے. آج خواہش کا پورا نہ ہونا غربت کا نام ہے. ہم لوگ ناشکرے ہو گئے ہیں. اس لیے برکتیں اٹھ گئی ہیں.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button