Islamic

خانہ کعبہ کے اندر کیا کیا ہے؟ اور اس کے خاص 13 حصے جس کا علم ہونا ہر مسلمان کیلیے ضروری ہے۔

خانہ کعبہ کے اندر کیا کیا ہے؟ اور اس کے خاص 13 حصے جس کا علم ہونا ہر مسلمان کیلیے ضروری ہے۔ آج ہم اپکو بتائیں گے کہ خانہ کعبہ کے اندر کیا کیا ہے؟ اور اس کے ساتھ ہی بتائیں گے خانہ کعبہ کے ان 13 حصوں کے بارے میں جن کے نام پہلے شاید آپ لوگ نہیں جانتے ہونگے۔ سب سے پہلے رسول نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ذات اقدس پر درود شریف کا نذرانہ بھیجیے اور اسکے ساتھ آپ سے التماس ہے کہ رب تعالی کی بارگاہ میں حاضری دینے کی دعا بھی کیجیے کہ یا باری تعالی ہمیں خانہ کعبہ میں بلائیے ہم آپ کے گھر کا طواف کرنا چاہتے ہیں. اللہ سبحانہ و تعالی سے التماس ہے کہ وہ ہماری دعاؤں کو قبول کر لے.

کعبۃ اللہ کا رقبہ

مسجد الحرام اور مسجد نبوی کے انتظام و انصرام کے ذمہ دارادارے، الحرمین شرفین صدارت نے بتایا ہے کہ کعبۃ اللہ قریبا 180 مربع میٹر رقبے پر محیط ہے. اس رپورٹ کے مطابق اس کی چھت لکڑی کے تین مضبوط ستونوں پر استداء ہے. ستونوں کی لکڑی دنیا کی مضبوط ترین لکڑیوں میں سے ایک ہے اور صحابی رسول حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ نے لکڑی کے یہ تینوں ستون بنوائے تھے۔ گویا اس وقت ان کو ایک ہزار تین سو پچاس سال گزر چکے ہیں.
ان کی رنگت گہری بھوری ہے اور لکڑی کے ارستون کا امود محیط قریبا ایک سو پچاس سینٹی میٹر اور قطر چوالیس سینٹی میٹر ہے۔ ان تینوں ستونوں کے درمیان میں ایک پتلی شہتیر نما لٹ آویزاں ہے اور یہ تینوں کے بیچ و بیچ گزرتی ہے. اس پر کعبۃ اللہ کے تحائف اور نوادرات لٹکے ہوئے ہیں.

کعبہ کی دیواریں

اس کے دونوں اطراف کعبہ کی شمالی اور جنوبی دیواریں ہیں۔ اور مسجد الحرام اور مسجد نبوی کے انتظام و انصرام کے ذمہ دار ادارے الحرمین شریفین صدارت نے بتایا کہ کعبہ کے دائیں جانب اندرونی حصے میں رکن شامی ہے۔ اس میں ایک سیڑھی ہے جو مستطیل نما کمرے کی جانب جاتی ہے. اس کمرے میں کوئی کھڑکی نہیں ہے. اس کا ایک دروازہ ہے اور اس کا خصوصی تالا یعنی کفل ہے. اس کے دروازے پر خوبصورت ریشم کا پردہ لٹکا ہوا ہے۔ اور اس پر سنہرے اور نقرائی رنگ کی قصیدہ کاری ہوئی ہوئی ہے.

اندرونی فرش

صدارت یہ بھی بتاتی ہے کہ کعبہ کا اندرونی فرش سنگ مرمر کا ہے. یہ زیادہ تر سفید ہے تاہم سنگ مرمر کے دوسرے رنگوں کے ٹکڑے بھی فرش پر لگے ہوئے ہیں. کعبہ کا اندرونی حصہ خوبصورت سنگ مرمر کے ٹکڑوں سے مزین ہے اور سرخ رنگ کی ریشم کے پردے سے ڈھانپا ہوا ہے. اس پر سفید رنگ سے عربی میں عبارات اور اسماء حسنہ لکھے ہوئے ہیں اسی پردے نے کعبہ کی چھت کو بھی ڈھانپ رکھا ہے.
کعبہ کے اندر پتھر
یہ اگر بات کی جائے تو کعبہ کے اندر آٹھ پتھر ہیں. ان پر خط سلس میں عربی عبارتیں کندہ ہیں. ایک پتھر پر خط کوفی میں عربی عبارت لکھی ہوئی ہے. یہ خوبصورت لکھائی چھٹی صدی ہجری کے بعد کے دور سے تعلق رکھتی ہے. دیوار شرکی پر کعبہ کے دروازے اور باب التوبہ کے درمیان سابق سعودی فرماں رواں شاہ فہد بن عبدالعزیز آل سعود کی ایک دستاویز ہے۔ جو سنگ مرمر پر کندہ کی گئی ہے. اس میں کعبہ کی تسکین نو کی تاریخ درج ہے.اس طرح کعبہ کے اندر عبارتوں پر مشتمل پتھروں کی تعداد دس ہے اور یہ تمام سفید سنگ مرمر کے ہیں.
اب اگر ذکر کیا جائے خانہ کعبہ کے ان تیرہ حصوں کا جو کہ ایک رپورٹ میں سامنے آئے ہیں تو وہ بھی جان لیجیے. امید ہے کہ آپ کے لیے یہ بھی سعادت کا باعث ہوگا اور آپ اس سے بھی خوش ہوں گے اور آپ کے علم میں بھی اضافہ ہوگا.
سبھی دنیا کے لوگ جانتے ہیں کہ خانہ کعبہ روئے زمین پر مسلمانوں کے لیے نماز کا قبلہ ہے اور حجاج کرام اس کے گرد طواف کرتے ہیں. یہ مربع شکل کے ایک بڑے کمرے کی صورت میں نظر آتا ہے۔ جس کی اونچائی پندرہ میٹر ہے. خانہ کعبہ سے ملحق مختلف چھوٹی تعمیرات اور حصے ہیں جو اسی کا حصہ بن گئے ہیں. ان کی تعداد تیرہ ہے اور ہر ایک کا اپنا نام ہے. امور حرمین کے محقق محی الدین الحاشمی کے مطابق ان حصوں کے نام قدیم اور ہزاروں سال سے معروف ہیں.
یہ حضرت ابراہیم علیہ سلام کے ہاتھوں بیت اللہ کی تعمیر کے وقت سے اسی طرح ہیں. عرب ان سے متعارف ہوئے اور اسلام نے بھی ان کو تسلیم کیا لہذا یہ نام آج تک بنا تبدیلی کے باقی ہیں. بالخصوص احادیث نبوی صلی علیہ والہ وسلم میں ان ناموں کی تصدیق ملتی ہے.
یہ تیرہ اجزاء یہ ہیں.
1۔ حجر اسود
یہ کعبہ کا مشہور و معروف ترین حصہ ہے. یہاں سے طواف کی ابتدا ہوتی ہے اور مسلمانوں کے نزدیک اس کا بوسہ سنت ہے. بعض احادیث نبوی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے مطابق یہ جنت کے پتھروں میں سے ہے.
2۔ کعبہ کا دروازہ
یہ بیت اللہ کی مشرقی سمت واقع ہے یہ زمین سے دو میٹر سے زیادہ بلند ہے. اس کی اونچائی تین میٹر سے زیادہ ہے جبکہ چوڑائی کم از کم دو میٹر ہے. چودہ سو برسوں کے دوران خلفاء اور عمراء نے اس دروازے کی زیب و زینت پر خصوصی توجہ دی اور اس کو سونے اور چاندی کے لباس سے آراستہ کر دیا.
3۔ میزاب
اس کو میزاب رحمت کے نام سے پکارا جاتا ہے. خانہ کعبہ کی چھت پر گرنے والا بارش کا پانی اسی کے ذریعے حتیم کے اندر گرتا ہے.
4۔ شازروان
یہ خانہ کعبہ کی نچلی دیوار کے گرد نصب سنگ مرمر ہے۔ یہ بیت اللہ کے دروازے کے سوا کعبہ کی تمام سمتوں میں موجود ہے.
5۔ حجر اسماعیل
خانہ کعبہ سے علیحدہ ہو جانے کے سبب یہ حصہ حتیم کہلاتا ہے. قریش نے خانہ کعبہ کی تعمیرنو کی تو اس حصے کو چھوڑ دیا تھا کیونکہ وہ اس بات کے خواہش مند تھے کہ تعمیر پاک مال سے ہونی چاہیے.
6۔ ملتظم
طواف کرنے والوں کے اس جگہ پر انتظام کے سبب یہ ملتظم کہلاتا ہے. ماضی میں بعض قصور واراور مجرم اپنے قتل سے فرار اختیار کر کے یہاں آجاتے تھے. اس وجہ سے اربوں میں شدید ظلم کے مرتکب شخص کے لیے یہ ضرب المثل مشہور ہوگئی کہ اگر وہ مجھے ملتظم پر بھی مل جاتا تو میں اس کو قتل کر دیتا.
7۔ مقام ابراہیم
بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ خانہ کعبہ کا حصہ ہے تاہم علیحدہ ہو گیا. اس میں ایک چٹان ہے جس میں ابراہیم علیہ سلام کے پاؤں کے نشانات موجود ہیں. یہ سیدنا ابراہیم علیہ سلام کے پاؤں کے جانب ایک کنایا ہے۔ جب اللہ رب العزت نے ان کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو حج کی اجازت دیں.
8۔ رکن حجراسود
یہ کونا خانہ کعبہ کے اوپر سے نیچے تک پھیلا ہوا ہے. اس میں حجر اسود نصب ہے. یہاں سے طواف شروع کیا جاتا ہے اسی وجہ سے یہ خانہ کعبہ کے اہم کونوں میں ہے.
9۔رکن یمانی
یہ کونہ کعبہ کے دائیں جانب واقع ہے۔ اسی وجہ سے یمین سے یمانی مشہور ہوا.
10۔ رکن شامی
یہ کونا شام کی سمت ہے لہذا اس نام سے مشہور ہوا.
11۔ رکن عراقی
یہ کونا عراق کی سمت ہے پرانے وقتوں میں حج کے راستوں کے نام ان ملکوں کے ناموں پر پڑ جاتے تھے جہاں سے حجاج ا رہے ہوتے. اس زمانے سے ہی یہ کونے مختلف ملکوں کے نام سے موصوم ہو گئے.
12۔ کعبہ کا غلاف
یہ خانہ کعبہ کا مشہور ترین جز ہے جو کہ ظاہر میں بھی نمایا ترین نظر آتا ہے. سب سے پہلے کعبہ کو یمن کی تباہ قوم نے غلاف پہنایا. اس کے بعد بادشاہ اور فرماں رواں اس پر عمل پیرا رہے. رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے بیت اللہ پر سفید غلاف چڑھایا جبکہ اسلام سے قبل یہ سرخ رنگ کا ہوتا تھا. بعد ازاں یہ سبز رنگ میں منتقل ہوا اور آخر میں سیاہ رنگ جو کہ ابھی تک باقی ہے.
13۔ بھورے سنگ مرمرکی پٹی
بھورے سنگ مرمرکی پٹی تیرہویں نمبر پر ہے اور یہ تیرہواں حصہ ہے. یہ حجر اسود کے کونے کی سمت سے زمین پر کھینچی گئی ایک لکیر ہے جو طواف کی ابتدا اور اختتام کی علامت ہے.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button