Entertainment

وہ لوگ جو بغیر تصدیق کے بات آگے پہنچاتے ہیں ان کے لیے

وہ لوگ جو بغیر تصدیق کے بات آگے پہنچاتے ہیں ان کے لیے
دھوبی کی بیوی سے ملکہ سلطنت نے پوچھا کہ تم آج اتنی خوش کیوں ہوں دوبئی کی بیوی نے کہا کہ آج چنا منا پیدا ہوا ہے
ملکہ نے اس کو مٹھائی پیش کرتے ہوئے کہا ماشاءاللہ پھر تو یہ لو مٹھائ کھاؤ چنامنا کی پیدائش کی خوشی میں اتنے میں بادشاہ بھی کمرے میں داخل ہوا تو ملکہ کو خوش دیکھا پوچھا ملکہ عالیہ آج آپ اتنی خوش کیوں ہے کوئی خاص وجہ
ملکہ نے کہا سلطان یہ نے مٹھائی کھائی آج چنا منا پیدا ہوا ہے اس لئے خوشی کے موقع پر خوش ہونا چاہیے بادشاہ کو بیوی سے بڑی محبت تھی بادشاہ نے کہا کہ مٹھائی ہمارے پیچھے پیچھے لے ۔
بادشاہ باہر دربار میں آیا بادشاہ بہت خوش تھا وزیروں نے جب بادشاہ کو خوش دیکھا تو واہ واہ کی آوازیں سنائی دینے لگیں کہ ظل الہی مزید خوش ہو لے
ظل الہی نے کہا سب کو مٹھائی بانٹ دو مٹھائی کھاتے ہوئے بادشاہ سے وزیر نے پوچھا بادشاہ سلامت یہ آج مٹھائی کس خوشی میں آئی ہے بادشاہ نے کہا کہ آج چنا منا پیدا ہوا ہے
ایک مشیر نے چپکے سے وزیراعظم سے پوچھا کہ وزیر بعد تدبیر ویسے یہ چلنا منا ہے کیا بلا ۔
وزیراعظم نے مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے کہا کہ مجھے علم نہیں ہے کہ یہ چونا منا ہے کیا بلا بادشاہ سے پوچھتا ہوں وزیراعظم نے ہمت کر کے پوچھا کہ بادشاہ سلامت ویسے یہ چنا منا ہے کیا ۔۔
بادشاہ سلامت توڑاسا گھبرائے اور سوچنے لگے کہ واقعی پہلے معلوم تو کرنا چاہیے کہ یہ چنامنا ہے کون۔
بادشاہ نے کہا مجھے تو علم نہیں کہ یہ چنامنا کون ہے۔
میری تو بیوی خوش تھی آج بہت خوشی کی وجہ پوچھی تو اس نے کہا کے آج چنامنا پیدا ہوا ہے اس لئے میں اس کی خوشی کی وجہ سے خوش ہوا
بادشاہ گھر آیا اور بیوی سے پوچھا ملکہ عالیہ یہ چنامنا کون تھا جس کی وجہ سے آپ اتنی خوش تھی اور جس کی وجہ سے ہم خوش ہیں ۔
ملک کا علیہ نے جواب دیا کہ مجھے تو علم نہیں کہ چنامنا کون ہے یہ تو دھوبی کی بیوی بڑی خواہش تھی کہ آج چنامنا پیدا ہوا ہے اس لئے میں خوش ہوں میں بھی اس کی خوشی میں شریک ہوئیں ۔
دھوبی کی بیوی کو بلایا گیا کہ تیرا ستیاناس ہو یہ بتا کہ یہ چنامنا قوم ہے جس کی وجہ سے ہم نے پوری سلطنت میں مٹھائیاں بانٹیں ۔!
دھوبی کی بیوی نے کہا کہ شام نہ ہماری کھوتی کا بچہ ہے جو کل پیدا ہوا ہے اس وجہ سے میں خوش ہوں کہ وہ جس کے لئے ایک اور کھوتے کے بچے کا اضافہ ہوا ۔۔۔۔ہنسنا منع یے
۔۔تحریر سجاد جنگی ۔۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button