Current issues

مسلم لیگ ن کی رکن مہناز اکبر عزیز کا پیش کیا گیا بل ایوان میں منظور

پیش ہونے کے بعد منظور ہونے والے پل کا متن بچوں پر تمام قسم کے تعلیمی اداروں بشمول کام کرنے والی جگہوں پر تشدد کی ممانعت ہوگی، بچوں کو تھپڑ مارنا، چابک، چھڑی، جوتے، لکڑی یا چمچے سے پٹائی کرنا ٹھڈا مارنا، جھنجھوڑنا، دانتوں سے کاٹنا، بالوں سے پکڑنا، کان کھینچنا، بچوں کو تکلیف دہ حالتوں میں رکھنا، ابلتا پانی ڈالنا بھی تشدد ہوگا اس کے علاوہ بل میں لکھا گیا کہ بچوں سے ہتک آمیز رویہ، اہانت، بدنام کرنا، دھمکانا اور خوف زدہ کرنا قابل سزا ہوگا۔

 

بچوں پر تشدد کرنے والے کو ٹیچر ملازم کو معطل، برخاست یا جبری ریٹائر کیا جائے گا اور بچوں پر تشدد کرنے والا ملازم مستقبل میں کسی ملازمت کا اہل تصور نہ ہوگا۔ بل کا اطلاق فی الوقت وفاقی دارالحکومت میں لاگو ہوگا جس وقت مسلم لیگ ن کی رکن مہناز اکبر عزیز نے بل ایوان میں پیش کیا۔ تو وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے کہا کہ ہمیں اس بل پر کوئی اعتراض نہیں ہے علاوہ ازیں بل میں حکومت کی جانب سے پیش کردہ ترمیم بھی شامل کی گئی.

Chaudhry Irfan-Ul-Khaliq

یااللہ ہمیں معاف فرما آمین

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button