Entertainment

مردوں کو شادی کے بعد بیوی بری کیوں لگتی ہے؟

اللہ تعالی نے مرد عورت میں سے ہر ایک میں دوسرے کی طرف میلان رکھا ہے. ایک مرد کو ہمیشہ عورت کی ضرورت رہتی ہے اور عورت کو بھی مرد کی ضرورت رہتی ہے. گویا کہ ہر ایک کی زندگی دوسرے کے بغیر ادھوری اور نامکمل ہے. دونوں کے اس باہمی تعلق کی تکمیل اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے اللہ نے جائز راستہ بتایا ہے. اور وہ راستہ نکاح کا راستہ ہے. اور فرمایا کہ اس نکاح کے راستے کے علاوہ جو شخص اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے جو بھی راستہ اختیار کرے گا تو وہ ظالم شمار ہوگا. اور پھر اس جائز راستے سے اس تعلق کو پورا کرنے کو ایمان کا حصہ قرار دیا.
چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس نے نکاح کر لیا اس نے آدھا ایمان مکمل کر دیا. اور باقی آدھے ایمان میں اللہ سے ڈرتا رہے. جب بات یہ ہے کہ مرد کی زندگی عورت کے بغیر نامکمل ہے اور عورت کی زندگی مرد کے بغیر نامکمل ہے تو ضروری تھا کہ دونوں کو چند اصول اور ضابطے بتا دیے جائیں. تاکہ ان اصولوں کے مطابق دونوں اس دنیا میں پیار و محبت سے زندگی گزاریں اور اللہ کی عبادت تو اس دنیا کا مقصد ہے۔ لہذا اس سے کبھی غافل نہ ہوں. لیکن افسوس کے اس دور حاضر میں شادی شدہ ہونے کے باوجود بھی لوگ زنا کے مرتکب ہو رہے ہیں. اور شادی شدہ لوگوں کا زنا کرنا تو عام ہو چکا ہے۔ اس گناہ میں مرد اور عورت دونوں ہی شامل ہیں.
شادی شدہ لوگوں میں زنا کی بڑی وجہ کیا ہے؟ اس کے حوالے سے ہم آپ کو ایک بہت ہی سبق آموز واقعہ سنائیں گے۔ ایک شخص نے ایک بزرگ سے پوچھا اے بزرگ جب میں نے اپنی بیوی کا انتخاب کیا تو اس وقت وہ مجھے اتنی خوبصورت لگتی تھی جیسے خدا نے اس سے زیادہ حسین و جمیل کسی عورت کو پیدا ہی نہیں کیا۔ لیکن جب میری منگنی ہوگئی تو میں نے بہت سی لڑکیوں کو اس کی طرح حسین اور دلکش پایا اور جب ہماری شادی ہوگئی تو میں نے دیکھا کہ ہزاروں عورتیں اس سے زیادہ خوبصورت اور دلکشی کا مجسمہ ہے.
شادی کے چند سال بعد مجھے اپنی بیوی سے زیادہ دوسری خواتین بہتر لگنے لگیں. بزرگ نے فرمایا کہ ان تمام باتوں سے زیادہ تلخ اور ناگوار بات بتاؤں۔ تو وہ کہنے لگا جی بتائیں! بزرگ نے کہا کہ انسان دنیا کی تمام عورتوں سے شادی کے بعد بھی یہی محسوس کرے گا کہ اس کے محلے کی حفاظت کرنے والے کتے بھی اس کی تمام بیویوں سے زیادہ خوبصورت ہیں. یہ سن کر وہ شخص ہنسہ اور بولا کہ آپ ایسا کیوں فرما رہے ہیں؟ بزرگ نے کہا کہ جب انسان کے پاس حرص و حوس لالچ شرم و حیا خوف خدا سے خالی ہو تو محال ہے کہ اس کی آنکھوں کو خاکے قبر کے علاوہ کوئی چیز پر کر سکے.
بزرگ نے کہا کہ کیا تمہیں وہ طریقہ بتاؤں جس سے تمہاری بیوی دوبارہ تمام خواتین سے زیادہ خوبصورت نظر آنے لگے تو اس شخص نے کہا کہ جی بتائیں! بزرگ نے کہا کہ جاؤ اور اپنی آنکھوں کی حفاظت کرو. جب مرد روتے ہیں تو اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیتے ہیں. اور جب عورتیں روتی ہیں تو وہ اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لیتی ہیں.
مردوں کے گناہ کا سرچشمہ ان کی آنکھیں ہوتی ہیں جبکہ عورتوں کے گناہ کا سرچشمہ ان کا منہ یعنی زبان ہوتی ہے. دونوں ہی جانتے ہیں کہ وہ کہاں سے گناہ میں مبتلا ہو رہے ہیں؟ اگر آپ بھی زنا جیسے کبیرہ گناہ سے بچنا چاہتے ہیں تو اپنی آنکھوں کی حفاظت کریں اور کسی نامحرم کو آنکھ اٹھا کر نہ دیکھیں. اللہ پاک ہم سب کو برائی اور بے حیائی سے محفوظ فرمائے. اپنی حفظ وامان میں رکھے اور اپنے نیک بندوں میں شامل کرے. آمین!

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Check Also
Close
Back to top button