Islamic

فرعون کا حضرت جبرائیل علیہ سلام کو خط

دنیا میں چار ایسے بادشاہ گزرے ہیں جنہوں نے خدائی کا دعوی کیا تھا. یہ وہ بادشاہ تھے جن کو اللہ تعالی نے پوری دنیا پر حکومت کرنے کا موقع دیا تھا. لیکن غرور و تکبر میں آ کر خدائی کا دعوی کر دیا تھا. ان بادشاہوں میں شداد، فرعون، بخت نسل اور نمرودی شامل تھا. اللہ پاک نے ان سب کو ایسی موت دی کہ ان کی موت کو دنیا کے لیے عبرت بنا دیا. انہی میں سے ایک فرعون ہے. عزیز دوستوں آپ سب جانتے ہیں کہ فرعون پانی میں کھو کر مرا تھا. لیکن فرعون کی موت کے پیچھے ایک بہت بڑی کہانی موجود ہے. اللہ پاک جو رحمان الرحیم ہے وہ کسی پر ظلم نہیں کرتا. انسان کو سدھرنے کے لیے اللہ پاک کئی مواقع فراہم کرتا ہے لیکن انسان اپنا دشمن خود ہوتا ہے.

فرعون کو بھی اللہ پاک نے بہت سے مواقع فراہم کیے لیکن وہ بدبخت ایمان نہیں لایا. ایسا ہی ایک واقعہ آج آپ دوستوں کے سامنے بیان کیا جائے گا جس کا شاید آپ کو پہلے علم نہیں ہوگا. فرعون جب اپنے لشکروں کے ساتھ دریا میں غرق ہونے لگا تو ڈوبتے وقت تین مرتبہ اس نے ایمان کا اعلان کیا مگر اس کا ایمان قبول نہ ہوا. اور وہ کفر کی حالت میں مرا. لہذا بعض لوگوں نے جو یہ کہا ہے کہ فرعون مومن ہو کر مرا. ان کا قول قابل اعتبار نہیں ہے.
ڈوبتے وقت ایک فرعون نے کہا یعنی میں ایمان لایا. دوسری مرتبہ کہا میں اس اللہ پر ایمان لاتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں. جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے. تیسری مرتبہ کہا میں اللہ پر ایمان لاتا ہوں.
روایت میں آتا ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ سلام نے فرعون کے منہ پر اللہ تعالی کے حکم سے کیچڑ اچھالا اور وہ اچھی طرح کلمہ نہ پڑھ سکا. جب فرعون تخت سلطنت پر بیٹھ کر خدائی کا دعوی کرتا تھا تو حضرت جبریل علیہ سلام انسان کی شکل میں اس کے پاس یہ فتوی طلب کرنے کے لیے تشریف لے گئے. کہ کیا فرماتے ہیں اے بادشاہ اس غلام کے بارے میں جو اپنے مولا کے دیے ہوئے مال اور اس کی نعمتوں پر پلا بڑھا پھر اس نے اپنے مولا کی ناشکری کی اور اس کے حقوق کا انکار کرتے ہوئے خود اپنی خدائی کا اعلان کر دیا ہو.
فرعون نے اس کا جواب یہ لکھا کہ ایسا غلام مولا کی نا شکری کر کے اپنے مولا کا باغی ہو گیا ہو اس کی سزا یہی ہے کہ وہ پانی میں غرق کر دیا جائے. چنانچہ ڈوبتے وقت فرعون پر موت کا غرغرہ سوار ہوا تو حضرت جبریل علیہ سلام نے فرعون کا وہ لکھا ہوا خط اس کو دکھایا. اس کے بعد فرعون مر گیا. کیونکہ حضرت جبرائیل علیہ سلام فرعون کے پاس جب انسان کی شکل آئے تھے تو اس نے خود اپنے ہاتھ سے یہ خط لکھا تھا کہ اگر کوئی غلام اپنے مولا کی نافرمانی کر کے خدائی کا دعوی کرے تو اس کا انجام یہ ہونا چاہیے کہ پانی میں غرق کر دیا جائے.
اللہ پاک نے قرآن پاک میں اس واقعے کا ذکر فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا جس کا ترجمہ ہے اور ہم بنی اسرائیل کو دریا پار لے گئے تو فرعون اور اس کے لشکروں نے ان کا پیچھا کیا. سرکشی اور اس ظلم سے یہاں تک کہ جب وہ ڈوبنے لگا تو بولا میں ایمان لایا کہ کوئی سچا معبود نہیں سوائے اس کے جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے. اور میں مسلمان ہوں. کیا اب اور تو پہلے سے نافرمان رہا اور تو فسادی تھا. آج ہم تیری لاش کو اترا دیں گے تو اپنے اگلے پچھلوں کے لیے نشانی ہو. اور بے شک لوگ ہماری آیتوں سے غافل ہیں.
فرعون کے غرق ہو جانے کے بعد یہ بنی اسرائیل پر اس کا خوف اتنا طاری تھا کہ لوگوں کو فرعون کی موت میں شک و شبہ ہونے لگا تو اللہ تعالی نے فرعون کی لاش کو خشکی پر پہنچا دیا. اور دریا کی موجوں نے اس کی لاش کو ساحل پر ڈال دیا تاکہ لوگ اس کو دیکھ کر موت کا یقین کر لیں . اور اس کے انجام سے عبرت حاصل کریں. مشہور ہے کہ اس کے بعد ہی پانی نے لاشوں کو قبول کرنا چھوڑ دیا. اور ہمیشہ پانی لاشوں کو تیراتا رہتا ہے. یا کنارے پر پھینک دیتا ہے. فرعون نے تین مرتبہ اپنے ایمان کا اعلان کیا مگر اس کا ایمان پھر بھی قبول نہ ہوا اس کی وجہ کیا ہے؟
اس کے بارے میں مفسرین نے تین وجوہات بیان کی ہیں. پہلی یہ کہ فرعون نے اپنے ایمان کا اقرار اس وقت کیا جب عذاب الہی اس پر مسلط ہو گیا. اور موت کا غرغرہ اس پر طاری ہو گیا. اور اللہ تعالی کا ارشاد ہے یعنی اللہ تعالی کا یہ دستور ہے کہ جب کسی قوم پر عذاب آجاتا ہے تو اس وقت ان کا ایمان لانا ان کو کچھ بھی نفع نہیں پہنچاتا. چونکہ فرعون عذاب آجانے کے بعد جب موت کا غرغرہ اس پر سوار ہو گیا اس وقت ایمان لایا اس لیے اللہ تعالی نے فرعون کے ایمان کو قبول نہیں فرمایا. اور حضرت جبرائیل علیہ سلام کو حکم دیا کہ اس کے منہ میں کیچڑ بھر دو اور یہ کہہ دو کہ اب تو ایمان لایا ہے. اس سے پہلے تو ہمیشہ ایمان اللہ پر لانے سے انکار کرتا رہا اور لوگوں کو گمراہ کر کے فساد پھیلاتا رہا.
دوسرا قول یہ ہے کہ اللہ کی توحید کے ساتھ رسول رسالت پر بھی ایمان لانا ضروری ہے. فرعون نے کہا یعنی صرف خدا کی واحدانیت کا اقرار کیا اور حضرت موسی علیہ سلام کی رسالت پر ایمان نہیں لایا. اس لیے وہ مومن نہ ہو سکا.
تیسرا قول یہ ہے کہ فرعون ایمان لانے کی ضد سے کلمہ ایمان کا تحفظ نہیں کیا بلکہ صرف غرق ہونے سے بچنے کے لیے کلمہ پڑھا تھا. جیسا کہ اس کی عادت تھی. کہ ہر مصیبت اور عذاب نازل ہونے کے وقت وہ گڑگڑا کر خدا کی طرف رجوع کرتا لیکن مصیبت ٹل جانے کے بعد پھر کہتا کہ تمہارا رب ہوں اور اپنی خدائی کا ڈھونگ رچاتا. محترم عزیز دوستوں صرف منہ سے کلمہ پڑھنے سے انسان مسلمان نہیں ہو جاتا بلکہ اس کا دارومدار انسان کی نیت پر ہوتا ہے. لہذا فرعون کا ایمان قبول نہیں ہوا اور صحیح قول یہی ہے کہ فرعون کفر کی حالت میں غرق ہو کر مرا. اس پر قرآن مجید کی آیتیں اور حدیثیں گواہ ہیں. اس لیے جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ فرعون نے تو مرتے وقت کلمہ پڑھ لیا تھا کیا وہ مسلمان ہو کر مرا؟ تو ان کا یہ قول بالکل غلط ہے.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button