Islamic

عیسائیت میں عورت کی حیثیت

عیسائیت میں عورت کی حیثیت عیسائیت میں بھی عورت کے ساتھ بہت ہی نارو اور ناپسندیدہ روش اختیار کی گئی اور اس مظلوم صنف کو آخری درجہ کی پستی میں پھینک دیا گیا۔ ابتداً تو اس مذہب میں عورت کی حیثیت ومقام قدرے بلند تھا۔ یعنی شریعت عیسوی میں عورت کو باوقار مقام دینا مقصود تھا۔ عیسائی مذہب میں عورتوں سے متعلق احکام ہیں۔ مرد کو نہ چاہے کہ وہ اپنے سرکو ڈھانپے کیونکہ وہ خدا کی صورت اس کا جلال ہیں۔ مگر عورت مرد کا جلال ہے۔

اس لیے کہ مرد عورت سے نہیں بلکہ عورت مرد سے ہے اور مرد عورت کے لیے نہیں بلکہ عورت مرد کے لیے ہے۔ ترتولیاں (جو مسیحت کے اولین آئمہ میں سے ہیں) نے عورت کے متعلق کہا کہ وہ (عورت) شیطان کے آنے کا دروازہ اور شجر ممنوعہ کی طرف لے جانے والی ہے اور خدا کے قانون کو توڑنے والی اور خدا کی تصویر مرد کو غارت کرنے والی ہے۔ اسی طرح کرائی سوسسٹم Crysystemنے عورت سے متعلق کہا ہے کہ وہ ایک ناگزیر برائی، ایک پیدائشی وسوسہ، ایک مرغوب آفت، ایک خانگی خطرہ، ایک غارت گردلربائی، ایک آراستہ مصیبت ہے۔ ڈاکٹر اسپرنگ نے اپنی کتاب میں لکھا ہے ۱۵۰۰ء میں انگلستان میں عورتوں کو سزا دینے کے لیے ایک خاص مجلس وضع کی گئی جس نے عورتوں پر ظلم کرنے کے لیے جدید قانون وضع کئے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ عیسائیوں نے نوے لاکھ عورتوں کو زندہ جلایا۔ ایک اور نظریے میں عیسائیوں کے نزدیک عورت اور مرد کا تعلق بجائے خود ایک نجاست اور قابل اعتراض چیز ہے، خواہ وہ نکاح ہی ہو۔ اخلاق کا یہ راہبانہ تصور پہلے اشرافی فلسفہ کے زیر اثر مغرب میں موجود تھا۔ مسیحت نے آکر اسے ازحد کردیا۔ یعنی بعد میں ایسا دور آیا کہ لوگ ازدواج سے پرہیز کو ہی تقوی اور تقدس کی علامت سمجھنے لگے۔

یعنی پاک مذہبی زندگی گزارنے کے لیے ضروری تھا کہ انسان شادی نہ کرے۔ اگر کر بھی لے تو میاں بیوی آپس میں زن وشونی کا تعلق نہ رکھیں۔ ان نظریات کی وجہ سے معاشرے میں عورت کی حیثیت بہت زیادہ گر گئی۔ کلیسا میں عورت کی حیثیت یہاں تک گرادی گئی کہ ۵۸۱ء میں آئمہ کلیسا کی مجلس منعقدہ کو لون میں اس بات پر زور دار بحث ہوئی کہ عورت انسان بھی ہے یا نہیں۔ بڑی ردوقدح کے بعد اس معمولی اکثریت کے بعد انسان تو مان لیا گیا۔ مگر کس درجے کا انسان مانا گیا، زیر نظر اقتباس سے واضح ہوتا ہے۔ عیسائی عورت کو نجاست کی پوت، سانپ کی نسل، منج شر، برائی کی جڑ، جہنم کا دروازہ وغیرہ کے القابات سے یاد کرتے تھے۔ ’’ بڑے بڑے راہب اپنی ماں تک سے ملنا اور اس کے چہرے پر نظر ڈالنا معصیت سمجھتے تھے۔ ‘‘ دین مسیحی میں عام طور پرطلاق کی ممانعت تھی۔ زوجین میں اتحاد ہو یا اختلاف، ایک دوسرے سے خوش ہوں یا رنجیدہ، آرام وراحت کی زندگی بسر کرتے ہوں یا مصائب وتکالیف کی جو کچھ بھی ہو حکم تھا کہ ساتھ رہنا پڑے گا۔ عورت کو ظالم مرد سے جدا ہونے کا حق نہیں تھا۔ البتہ اگر عورت کے زانیہ وفاجرہ ہونے کا ثبوت ہوجائے یا زوج کو اولاد کی خواہش ہو اور عورت بانجھ ہو تو اس صورت میں طلاق دینے کا مرد کو اختیار تھا۔ مرور زمانہ کے ساتھ جب مصائب وشدائد کا سامنا ہوا تو احکام میں تحریف وتغیر کرکے انہوں نے طلاق کو عام کیا۔ لیکن انسانی عقول اُس کے لیے ایسا قانون نہ بناسکیں جو قوم کے لیے کوئی مفید چیز بن جاتی بلکہ نتیجہ یہ ہوا کہ طلاق اُن کے درمیان عام ہوگئی۔

چنانچہ بعض متمدن ملکوں امریکہ ویورپ وغیرہ میں دس ہزار اور اس سے زائد سالانہ طلاق کا اوسط ہونے لگا تھا اور اس کے برعکس عورت کو کسی حالت میں بھی مذکورہ مذاہب میں سے کسی مذہب میں بھی طلاق کے لینے کا مطالبہ کا حق نہیں تھا۔ امیرعلی صاحب لکھتے ہیں کہ: جس دور میں ہر عیسائی طبقے میں حضرت مریم کی پرستش کی جاتی تھی، اس دور میں عورت کو چند ادنی مذہبی رسوم کے سوا تمام رسوم سے خارج کردیا گیا تھا۔ معاشرے سے بھی عورت پر باہر جانے،دعوتوں میں شریک ہونے پر پابندی تھی، انہیں صرف گھر پر رہنے، چپ رہنے، شوہر کی اطاعت کرنے، سوت کاتنے کپڑا بننے اور کھانا پکانے میں زندگی صرف کرنے کی تاکید کی جاتی۔ عیسائی علماء کی مختلف جزیات آراء سے معلوم ہوتا ہے کہ عیسائی مذہب میں عورت کی کوئی حیثیت نہیں تھی، یہ جزئیات درج ذیل ہیں: ۔ عورت راندہ درگاہ ہے۔ ۔ عورت خباثتوں کا مجموعہ ہے۔ ۔ عورت فتنہ بردار ہے۔ ۔ عورت شرانگیز ہے۔ ۔ عورت کو شیطان کہا گیا ہے۔ ۔ عورت کو خدا کی نافرمان قرار دیا گیا۔ ۔ عورت انسان کو بگاڑنے والی ہے۔ ۔ عورت انسانیت کی پہلی مجرم ہے۔ ۔ عورت ایک ناگزیر شر ہے۔ ۔ عورت ایک برق نشیمن ہے۔ ۔عورت کو ایک سحر مہلک کہا گیا ہے۔ ۔ سینٹ برناڈ کے مطابق عورت شیطان کا ہتھیار ہے۔

۔ سینٹ انتھونی کا کہنا ہے کہ عورت شیاطین کے ہتھیاروں کی کان ہے۔ ۔ سینٹ بونا ونیٹر کا قول ہے کہ عورت ایک بچھو ہے، جو ڈسنے کے لیے ہمیشہ تیار رہتا ہے۔ ۔سینٹ سائبرین کا قول ہے کہ عورت وہ ہتھیارہے جسے شیطان ہماری روحوں پر قبضہ کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ ۔ سینٹ جان ومشقی کہتے ہیں کہ عورت جھوٹ کی بیٹی،دوزخ کی سیاہی اور امن کی دشمن ہے۔ اس کے ذریعے انسان نے بہشت کو کھودیا، تمام وحشی درندوں میں عورت سب سے زیادہ خطرناک ہے۔ ۔ سینٹ گریکری کہتے ہیں کہ عورت سانپ کا زہر رکھتی ہے اور اژدھے کا کینہ۔ ڈاکٹر مبارک علی، یہودیت وعیسائیت میں لکھتے ہیں کہ: ان دونوں مذاہب میں مردوعورت کا تعلق صرف بچے پیدا کرنے کی حد تک جائز قرار دیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ عورت کی کوئی حیثیت یا حق نہیں کہ وہ مرد کے خوشی یا غم میں شریک ہو اور اپنی آزاد حیثیت برقرار رکھ سکے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button