Islamic

عیاش شہزادے اور کنیز نسواں کی کہانی۔

حضرت منصور بن عمار رحمتہ اللہ علیہ بصرہ کے ایک بہت بڑے بزرگ گزرے ہیں. ایک روز آپ بصری کی گلیوں میں سے گزر رہے تھے. انہوں نے ایک جگہ ایک بلند و بالا محل نما عمارت دیکھی جس کی دیواریں نقش و نگار سے مزین تھیں. اور اس کے اندر خدام و چشم ایک ہجوم تھا. جو ادھر ادھر بھاگ دوڑ کر مختلف کاموں کو سرانجام دینے میں مصروف تھے. اس میں بے شمار خیمے لگے ہوئے تھے اور اس محل کے دروازے پر بالکل اسی ترتیب کے ساتھ دربان بیٹھے تھے. جس طرح بادشاہ کے محل کے باہر بیٹھے ہوتے ہیں. اس محل نما عمارت خانے کے دیوان خانے میں سونے چاندی کا جڑاؤ تخت رکھا ہوا تھا.

منصور رحمتہ اللہ علیہ نے ایک انتہائی خوبصورت نوجوان کو اس پر بیٹھے ہوئے دیکھا. اس کے اردگرد نوکر اور خادم ہاتھ باندھے قطار میں کھڑے کسی اشارے کے منتظر تھے۔ منصور رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے اس محل نما خوبصورت عمارت میں داخل ہونا چاہا تو دربانوں نے مجھے ڈانٹ دیا اور اندر داخل ہونے سے منع کر دیا. میں نے کہا کہ اس وقت یہ نوجوان دنیا کا بادشاہ بنا بیٹھا ہے لیکن اسے بھی موت آنی ہے. جب موت آئے گی تو اس کی بناوٹی بادشاہی کا خاتمہ ہو جائے گا. جو کچھ اس کے کل تک تھا. وہ اگلے دن نہیں رہے گا. لہذا مجھے ڈرنا چاہیے اور اس کے پاس جا کر حق کی تبلیغ کرنی چاہیے. شاید اللہ تعالی اس پر اپنی رحمت کے دروازے کھول دے. میں موقع کی تلاش میں رہا جونہی دربان ذرا مشغول ہوئے. میں آنکھ بچا کر اندر داخل ہو گیا. میں نے دیکھا کہ اس نوجوان نے کسی عورت کو پکارا. اے نسواں اس کے بلانے پر ایک کنیز حاصل ہوگئی. مجھے یوں لگا جیسے اچانک چاند چڑھ آیا ہو اس کے ساتھ اور بھی بہت سی کنیزیں حاصل ہو گئیں ان کے ہاتھوں میں خوشبودار مشروب سے بھرے ہوئے برتن تھے. اس مشروب کے ساتھ اس کے ہم نشینوں کی خدمت کی گئی۔ مشروب سے لطف اندوز ہونے کے بعد اس کے تمام احباب یکہ بعد دیگرے اس کو سلام کر کے رخصت ہونے لگے.

جب وہ دروازے تک پہنچے تو انہوں نے مجھے دیکھ لیا. اور مجھے ڈانٹنا شروع کر دیا. میں نے ان سے خوفزدہ ہونے کے بجائے پوچھا یہ نوجوان کون ہے؟ انہوں نے بتایا یہ بادشاہ کا بیٹا ہے. میں نے یہ سن کر اس کی طرف دوڑ لگا دی اور اس کے سامنے گیا. جب بادشاہ کے بیٹے نے اچانک مجھ جیسے فقیر کو بالکل اپنے سامنے کھڑا پایا تو سخت غصے میں آگیا اور کہنے لگا ارے پاگل تو کون ہے؟ تجھے کس نے اندر داخل ہونے دیا. اور تو میری اجازت کے بنا یہاں کیسے آگیا؟ میں نے کہا شہزادہ سلامت ذرا رکیے میری لاعلمی کو اپنے علم سے میری خطا کو اپنے کرم سے درگزر کیجیے. میں ایک طبیب ہوں میرے اتنا کہنے سے اس کا غصہ ٹھنڈا پڑ گیا اور کہنے لگا ٹھیک ہے ذرا ہمیں بھی بتائیے آپ کیسے طبیب ہیں۔ میں نے کہا میں گناہوں کے درد اور نافرمانیوں کے زخموں کا علاج کرتا ہوں. اس نے کہا اپنا علاج بیان کرو. میں نے کہا اے شہزادے اپنے گھر میں آرام سے تخت پر تکیہ لگائے بیٹھا ہے. اور لاہو لاب میں مصروف ہے. تیرے کارندے باہر لوگوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رہے ہیں. کیا تجھے اللہ سے خوف نہیں اس کے درد ناک عذاب کا تجھے کوئی ڈر نہیں تجھے اس دن کا کوئی لحاظ نہیں جس دن سب بادشاہوں اور حکمرانوں کو ان کی بادشاہیوں اور حکمران سے معذور کر دیا جائے گا.

اور تمام سرکش ظالموں کے ہاتھ باندھ دیے جائیں گے. یاد کر اس اندھیری رات کو جو قیامت والے دن کے بعد آنے والی ہے. اور جہنم وہ آگ جو غصے کی وجہ سے پھٹنے کے قریب ہے. اور غیض و غضب سے چنگاڑ رہی ہے. سب لوگ اس کے خوف سے حواس باختہ ہو جاتے ہیں. عقل مند آدمیوں کو دنیا کی نعمتوں چھن جانے والی حکومتوں اور عورتوں کے خوبصورت بدنوں سے دھوکہ نہیں کھانا چاہیے. جو مرنے کے بعد صرف تین دن میں ہی خون, پیپ اور بدبو لوتھڑ میں تبدیل ہو جاتے ہیں. بلکہ عقل مند آدمی تو جنت کی ان عورتوں کا طالب ہوتا ہے جن کا امیر کستوری اور کافور اور امبر سے اٹھایا گیا ہے. جو اتنی حسین و جمیل ہیں کہ آج تک ان جیسی حسین و جمیل عورت کسی نے نہیں دیکھی اور نہ ہی سنی ہے. آج تک نہ کسی نے ان کی آواز سنی ہے اللہ تعالی نے انہی کے متعلق فرمایا ہے. جنت میں نیچی نگاہوں والی حوریں ہوں گی جن کو نہ کسی انسان نے چھوا ہوگا ان سے پہلے اور نہ کسی جن نے۔ یہ تو گویا یعقوت اور مرجان لہذا دانہ وہی ہے جو ان جیسی نعمتوں کے خواہش رکھے اور اس جیسے عذاب سے بچے. میری یہ باتیں سن کر بادشاہ کے بیٹے نے ایک ٹھنڈی سانس لی اور کہنے لگا! اے طبیب تو نے تو کسی اسلحے کے بغیر مجھے قتل کر ڈالا ہے. مجھے بتاؤ کیا ہمارا رب اپنے بگوڑے نافرمان کو قبول کر لیتا ہے. کیا وہ مجھ جیسے گناہ گار کی توبہ قبول فرمائے گا؟ میں نے کہا کیوں نہیں؟ وہ بڑا غفور و رحیم اور کریم ہے. میرا یہ کہنا تھا وہ اچانک اٹھا. اپنی قیمتی قباء کو چاک کر دیا.

اور محل کے دروازے سے باہر نکل گیا. جب نسواں نامی اس خوبصورت لونڈی نے اسے یوں جاتے دیکھا پکار کر کہنے لگی. میرے آقا میں بھی تو کئی سالوں تک آپ کے گناہوں میں آپ کے ساتھ شریک رہی ہوں. آج جب اللہ نے آپ کو ہدایت عطا فرما دی ہے تو مجھے چھوڑ کر آپ اکیلے کیسے جا سکتے ہیں؟ میں بھی آپ کے ساتھ جاؤں گی. یہ سن کر وہ نوجوان واپس پلٹ آیا اس کنیز نے فورا اپنا لباس تبدیل کیا۔ اور اپنے پرانے کپڑے پہن لیے۔ وہ دونوں رات ڈھلنے تک وہی رہے جب رات ڈھل گئی تو دونوں اس محل سے باہر نکل آئے۔ اس شہر سے ہزاروں میل دور کہیں چلے گئے. منصور بن عمار رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کافی عرصے کے بعد میں ایک بار پھر اس محل کے سامنے سے گزرا تو کیا دیکھتا ہوں کہ محل کی حالت بالکل بدل چکی تھی. خادموں سے پرجوم رہنے والی وہ عمارت آج ویران ہو چکی تھی اور اس کے حسین نقش و نگار ماند پڑ چکے تھے. وہی عمارت آج کھنڈر بنی نظر آ رہی تھی. میں وہاں کچھ دیر کے لیے ٹھہر گیا اس کی ویرانی دیکھ کر میری آنکھوں میں آنسو آگئے.

پھر میں آگے بڑھ گیا. چند سالوں کے بعد جب میں حج کے لیے بیت اللہ شریف گیا تو دیکھا کہ وہی نوجوان وہاں طواف کعبہ میں مصروف تھا. پہلے تو میں اسے پہچان نہ سکا. کیونکہ اب تو اس کی حالت ہی چکی تھی لیکن جب اس نے اپنا تعارف کروایا تو میں نے اسے فورا پہچان لیا. اس نے مجھے سلام کیا اور کہا اے امام المسلمین آپ نے مجھے نہیں پہچانا میں وہی بادشاہ کا بیٹا ہوں جس نے آپ کے ہاتھ پر توبہ کی تھی. میں نے پوچھا نسواں کہا ہے؟ اس نے کہا وہ بھی میرے ساتھ ہی ہے. میں نے کہا میں اس کو دیکھنا چاہتا ہوں. میری خواہش پر وہ اٹھا اور مجھے ساتھ لے کر اس کے پاس گیا. اندر جا کر اس نے نسواں سے کہا ہمارے استاد تشریف لائے ہیں۔ اس نے کہا مجھے تو منصور بن عمار کے علاوہ اپنے کسی استاد کے بارے میں علم نہیں ہے. اس نے کہا وہی تو تشریف لائے ہیں. نسواں نے یہ سنا تو فورا میرے پاس آئی اور کہنے لگی. دنیا میں میری بستی یہ خواہش رہ گئی تھی کہ آپ سے ملاقات ہو جائے۔ پھر کہنے لگی میرے قابل محترم استاد اللہ تعالی مجھ جیسے گناہ گار کو بھی قبول فرمائے گا. اور جنت میں مجھے داخل فرما کر اپنا دیدار عطا کر دے گا. میں نے کہا ضرور یہ سن اس نے زور سے چیخ ماری اور زمین پر گر گئی. ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے اس کی روح پرواز کر گئی.

شہزادہ اس کی وفات سے غمزدہ ہو گیا اور رو کر کہنے لگا دیار غیر میں میری تنہائیوں کو دور کرنے کا یہی تو ایک سہارا تھا. آج مجھے اپنے والدین اپنی سلطنت اور اپنے لوگوں کی کمی محسوس ہے. آج میرا معاون و مددگار اور میرا سہارا ختم ہو گیا ہے. پھر نسواں کو دفن کر دیا گیا. جب اس کو قبر میں رکھ کر قبر پر مٹی ڈالی جا رہی تھی تو اچانک شہزادہ بھی منہ کے بل گرا. اور اسی قبر پر گر کر فوت ہو گیا. لوگوں نے اس قبر کے پہلو میں ایک اور قبر بنا کر شہزادے کو بھی دفن کر دیا. سلمان کئی روز تک ان کی قبروں پر آ کر فاتحہ خوانی کرتے رہے. اور منصور بن عمار رحمتہ اللہ علیہ کے وعیض و نصیحت سے مستفید ہوتے رہے. اور کئی دن تک اور ان کی قبر پر کئی لوگوں کو بحث سناتے رہیں. محترم عزیز دوستوں کہانی سے جو سبق حاصل ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ اللہ پاک ہماری توبہ کے منتظر ہیں. وہ بڑی شدت سے ہماری توبہ کا انتظار کر رہے ہیں کہ کب میرا بندہ پلٹے کب توبہ کرے اور کب میں اس کے سارے گناہ معاف کر دوں. کیونکہ جو ذات ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرتی ہے. وہ کیسے یہ برداشت کر سکتی ہے کہ اس کا بندہ گناہوں میں بھٹکا رہے اور اس کو سزا ہو جائے. عزیز دوستوں آئیے ہم سب آج توبہ کریں. آئیے آج ہم سب اللہ پاک سے گڑگڑا کر اپنے گناہوں کی معافی مانگیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button