Entertainment

دنیا سے اگر سانپ ختم ہو جائیں تو کیا اثر پڑے گا؟

دنیا سے اگر سانپ ختم ہو جائیں تو کیا اثر پڑے گا؟ کیا ہوگا۔۔ سب سے پہلے تو جو اثر پڑے گا وہ یہ ہے کہ جن چیزوں کو سانپ اپنا شکار بناتے ہیں. ان کی تعداد حیران کن حد تک بڑھ جائے گی جیسے مینڈک، چوہے، چپکلیاں، کیڑے مکوڑے وغیرہ وغیرہ۔ آپ کو بتاتا چلوں کہ چوہیا کے حمل تقریبا انیس سے اکیس دن کا ہوتا ہے. اور وہ اوسطا چھ سے آٹھ بچوں کو جنم دیتی ہے. ایک چوہیا ہر سال سات سے دس مرتبہ بچے دیتی ہے. چوہوں کی آبادی بہت تیزی سے بڑھتی ہے. کم سے کم اندازہ بھی لگائیں تو ایک چوہیا سال میں بیالیس بچے جنے اور زیادہ سے زیادہ اسی بچے سال میں۔

اب اگر دیکھیں تو نئے پیدا ہونے والے بچوں میں سے فیمیل چھ ہفتوں میں جبکہ نر چوہے آٹھ ہفتوں میں بالغ ہو جاتے ہیں. یعنی پیدا ہونے والی مادہ چوہا صرف پیدا ہونے کے ڈیڑھ ماہ بعد ہی خود بچے جنا شروع کر دیتی ہے. اب اندازہ لگائیں کم از کم بیالیس پیدا ہونے والے بچوں میں سے کتنی چوہیاں پیدا ہوں گی اور وہ ڈیڑھ ماہ کے عرصے بالغ ہو کر کتنے مزید بچوں کو جنم دیتی ہوں گی؟
اب اگر سانپ نہ ہوں تو یہ تو کچھ سالوں میں ہی لاکھوں اور پھر کروڑوں میں چوہے پیدا ہو جائیں گے. اور پھر انسان کو اپنی ذمہ داری خود لینا پڑے گی. ایک چوہا گھر میں گھس جائے تو نقصان پہ نقصان کر دیتا۔ جہاں لاکھوں ہوں گے تو نقصان بھی زیادہ ہوگا. اور بیماری بھی زیادہ پیدا ہوگی.
آپ سب کو ایک بات بتاتا چلوں کہ دنیا کی تاریخ میں جتنے لوگ طاعون کی وجہ سے مرے ہیں. اتنے کسی اور وجہ سے نہیں مرے. بستی کی بستیاں اجاڑ دیں اس بیماری نے۔ اور یہ بیماری چوہوں کی وجہ سے پھیلتی ہے. اسی طرح اگر کیڑے مکوڑے زیادہ ہو جائیں تو وہ فصلوں کی فصلیں تباہ کر دیتے ہیں. جس کی وجہ سے غذائی ضروریات کو پورا کرنا ناممکن بن جائے گا. اور کھانے پینے کی چیزیں ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملیں گی۔ زیادہ تر کیڑے مکوڑے درجن سے لے کر سینکڑوں کی تعداد میں بھی انڈے دیتے ہیں. ان کا بھی اگر ساتھ ساتھ صفایا نہ کیا جائے تو یہ بھی لاکھوں کی تعداد میں پیدا ہو جائیں گے. ان کو روکنے کے لیے انسان نئے کیمیکلز کا استعمال کرے گا. فصلوں پر اور کر بھی رہا ہے. جو کہ انسان کی خود کی صحت کے لیے نقصان دہ ہیں. کیمیکل لگی فصلوں کی سبزیاں آلودہ اور نقصان پہنچانے والی ہوتی ہیں.
اب آتے ہیں مینڈکوں کی طرف اگر سانپ نہ ہوں اور ان کو نہ کھائیں تو یہ بہت زیادہ ہو جائیں گے اور ساری نہریں ندی نالے ان کی وجہ سے آلودہ ہو جائیں گے. کیونکہ یہ زہریلے مادوں کو خارج بھی کرتے ہیں اور اپنے جسم میں جذب بھی کرتے ہیں. تو اس کا بھی سیدھا سادہ نقصان انسان کو ہی ہے. ندی نالوں سے ہم اپنی فصلوں کو سیراب کرتے ہیں. کئی جگہوں پر ان ندی نالوں سے پانی تک پیا جاتا ہے.
اب آتے ہیں چرند پرند کی طرف جو سانپوں کو خاص طور پر اپنا کار بناتے ہیں. اگر سانپ نہ ہوں گے تو ان کی مشکلات بھی بڑھ جائیں گی. ان کو بھی اپنی بنی بنائی خوراک کو تبدیل کرنا پڑے گا. اور سانپ نہ ملنے کی وجہ سے بھوک کا شکار مر جائیں گے. کسی بھی چیز کے ختم ہونے کا اللہ تعالی نے ایک وقت مقرر کیا ہوا ہوتا ہے اور اللہ تعالی بہتر طریقے سے دنیا کے نظام کو چلانے والا ہے. اسے کسی چیز کو ختم کرنا ہے تو وہ خود ہی اس کے اسباب پیدا کر دیتا ہے.
ماحولیاتی نظام تب تک صحیح چل رہا ہے جب تک وہ اللہ تعالی کے بنائے ہوئے اصولوں پر چل رہا ہے۔ جہاں جہاں اور جب جب انسان نے اس نظام کو اپنے حساب سے چلانے کی کوشش کی ہے بھاری نقصان اٹھایا ہے. سب کے سامنے چائنہ کی مثال موجود ہے کہ کیسے تنگ ایک چیڑیاں مارنے کا حکم دیا تھا. کہ یہ چیڑیاں فصلوں کو تباہ کرتی ہیں. چنانچہ چائنہ میں چیڑیاں تو مار دی انہوں نے لیکن پھر بعد میں نتیجہ کیا نکلا؟ چیڑیاں جن کیڑوں کو پستوں سے کھاتی تھی وہ کروڑوں کی تعداد میں ہو گئے. اور فصلوں کی فصلیں چٹ کر گئے. کیونکہ ان کو کھانے کے لیے چڑیاں تو تھی ہی نہیں. اپنے ہاتھوں سے ہی تو مارا تھا ان کو. اور بعد میں قحط سالی کی وجہ سے لقمہ اجل بن گئے. اور چائنہ کو باہر سے چیڑیاں منگوا کر اپنے ملک میں دوبارہ آباد کرنی پڑی. جس پر ان کا کروڑوں کی تعداد میں نقصان ہوا تھا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button