Islamic

درود شریف کی فضیلت

درود شریف کی فضیلت. حضور علیہ السلام پر درود پڑھنے سے انسان خود سنورتا ہے. اور اللہ کی رحمتیں اس پر نازل ہوتی ہیں. علماء نے لکھا ہے درود اللہ کی بارگاہ میں ایک دعا ہے. جو اللہ کی بارگاہ میں عرض کی جاتی ہے. اے اللہ نبی رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رحمتوں کا نزول کر. تو کوئی یہ دعا مانگے کہ اے اللہ اپنے نبی پر رحمتوں کا نزول کر تو کیا اللہ تعالی اس کی یہ دعا قبول نہیں کرے گا؟ درود ہر صورت میں قبول ہے.

تو اس کا جو فائدہ ہوا کہ جس نے ایک مرتبہ حضور کے لیے اللہ کی بارگاہ سے رحمتوں کی دعا مانگی اس کے مانگنے سے محبوب علیہ سلام پر کتنی رحمتوں کا نزول ہوا؟وہ تو اللہ جانتا ہے. یا جس محبوب کریم پہ نزول رحمت ہوتا ہے وہ۔ لیکن جو ہاتھ اٹھا کے دعا مانگے جو ہاتھ باندھ کے درود پڑھیں. ایک مرتبہ درود پڑھنے سے اللہ کی دس رحمتیں اس پر نازل تو جو مسلسل درود پڑھے جا رہا ہے. تو پھر رحمت کی برسات ہوتی ہے اس کے اوپر. رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم جہاں بھی ہو میرے اوپر درود پڑھو تم جہاں بھی درود پڑھتے ہو وہ میرے تک پہنچتا ہے. صبح پڑھو، شام پڑھو، دوپہر پڑھو، دن کو پڑھو، رات کو پڑھو، نماز سے پہلے پڑھو، نماز کے بعد پڑھو، محفل کے آغاز پر پڑھو. محفل کے دوران پڑھو، محفل کے اختتام پہ پڑھو. مسجد میں پڑھو گھر میں پڑھو. جہاں بھی میرے اوپر درود پڑھو گے جیسے بھی میرے اوپر درود پڑھو گے. فرمایا میرے تک پہنچتا ہے۔

ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ میں حضور کی قربت پاؤں. حضور کا قرب مجھے ملے اور اگر کسی کے سینے میں یہ آرزو نہیں ہے تو اس کے سینے میں دھڑکنے والا دل کسی مومن کا دل ہی نہیں۔ یہ میری بھی آرزو ہے۔ گناہ گار ہونے کے باوجود آرزو ہے. آپ کی بھی آرزو ہے آرزو تو کی جا سکتی ہے. چونکہ کرم ہوتے دیر نہیں لگتی. وہ جس پہ چاہے کرم کرے تو اگر قربت حاصل کرنی ہے تو پھر اس کا طریقہ کیا ہے؟رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن میرے سب سے نزدیک وہ ہوگا جو سب سے زیادہ میرے اوپر درود پڑھتا ہے. تو جتنا درود حضور پہ زیادہ پڑھو گے قیامت کے دن اس قدر حضور کی قربت نصیب ہوگی. اور حضور کی چادر رحمت کی ٹھنڈی چھاؤں ملے گی. جامعہ کوثر نصیب ہوں گے. جہاں حضور ہوں گے وہاں قیامت کے دن کی سختیاں نہیں ہوں گی. وہاں دامن محبوب کی ٹھنڈی ہوائیں ہوں گی. تو حضور علیہ سلام پر کثرت سے درود پڑھنا یقینا دکھوں کو دور کرنے کا ایک علاج ہے. اور یہ دنیا آخرت کی بہتریوں کی ضمانت ہے. حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے. جو امام ابو داؤد سے روایت کی ہے.

رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب کوئی شخص میرے اوپر سلام بھیجتا ہے. تو اللہ تعالی میری روح میرے اندر لٹا دیتا ہے. یہاں تک اس کے سلام کا جواب دیتا ہوں. روح اطہر جسد انور میں لوٹا دی جاتی ہے. اور حضور سلام کا جواب دیتے ہیں. تو مجھے کائنات میں کوئی ایک لمحہ تو ایسا جس لمحے حضور پہ سلام نہ پڑھا جاتا ہو. روضہ رسول پہ چلے جائیں. تو وہاں لمحہ لمحہ سلام کے گجرے ہیں. کائنات کے جس گوشے میں جائیں گجرے ہیں. تو کوئی ایک لمحہ بھی چوبیس گھنٹوں میں ایسا نہیں ہے کہ جب حضور پہ سلام نہ پڑھا جاتا ہو. اور جب سلام پڑھا جاتا ہو. تو حضور کی روح اطہر بدن رحمت میں ہوتی ہے. اور حضور سلام کا جواب دیتے ہیں. اور جس کو حضور سلام کا جواب دے دیں. اللہ اکبر! کہ درود پڑھا کرو۔ درود حضور علیہ الصلاۃ والسلام کے جواب کا ذریعہ ہے. اور جب جواب جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے آگیا تو دنیا میں بھی بھلا ہی بھلا ہے آخرت میں خیر ہی خیر ہے. حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے ارشاد فرمایا جس کے سامنے میرا ذکر کیا جائے. اور وہ میرے اوپر درود نہ پڑھے وہ کائنات کا سب سے بڑا بخیل سب سے بڑا کنجوس ہے. ہم بخیل تو نہیں ہیں. تو پھر پوری ہمت کے ساتھ چند مرتبہ حضور پہ درود شریف پڑھ دیجیے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button