Islamic

بی بی حوا کی پیدائش اور ذندگی کا قصہ

بی بی حوا کی پیدائش اور ذندگی کا قصہ۔ اللہ تعالی نے بنی نوع انسان کی رہنمائی کے لیے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہم السلام کو زمین پر بھیجا. انبیاء کرام علیہم السلام کی وسعت کا سلسلہ حضرت آدم علیہ سلام سے شروع ہوا اور اس مبارک سلسلے کا اختتام حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ذات اقدس پر ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم خاتم النبیین ہیں. آج کی اس پوسٹ میں ہم آپ کو حضرت آدم علیہ سلام کی زندگی کے بارے میں بتائیں گے ساتھ ہی ساتھ آپ کو آگاہ کیا جائے گا کہ حضرت حوا کتنی بار حاملہ ہوئیں؟ اور کتنے بچوں کو انہوں نے جنم دیا؟ اور ان کی وفات کب ہوئی؟
حضرت آدم علیہ سلام کا ذکر کیا جائے یا تخلیق آدم کا ذکر کیا جائے تو حضرت جبرائیل علیہ سلام کو وہ حکم دینا بھی آپ کو یاد ہوگا. کہ اللہ تعالی نے حضرت جبرئیل علیہ سلام کو حکم دیا کہ کرہ ارض سے مٹی لے کر آؤ.
حضرت ابو موسی عشری رضی اللہ تعالی عنہ اس بارے میں فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا! اللہ تعالی نے حضرت آدم علیہ سلام کو ایک مٹھی خاک سے پیدا فرمایا. یہ خاک تمام زمین سے اکٹھی کی گئی تھی۔ اسی لیے حضرت آدم علیہ سلام کی نسل میں مختلف رنگ و زبان کے لوگ موجود ہیں. حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ جب اللہ نے آدم کو پیدا فرمایا اور ان میں رو پھونکی تو ان کو چھینک آئی جس پر انہوں نے الحمدللہ کہا. یوں سب سے پہلے ان کے منہ سے اللہ کی حمد نکلی۔

اللہ تعالی نے حضرت آدم علیہ سلام کو چار عظیم شرف اور مرتبے عطا فرمائے.
1.اپنے ہاتھ سے پیدا فرمایا.
2.روح پھونکی.
3.فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم فرمایا.
4.اشیاء کے ناموں کے علم سے سرفراز فرمایا.

حضرت آدم علیہ سلام کی پیدائش کا ذکر تو ہم نے کر ہی دیا. اور حضرت آدم علیہ سلام اور حوا علیہ سلام کے جنت میں ذکر کے بارے میں بتاتے ہیں.
یوں تو جنت میں تمام نعمتیں اور اسائشیں موجود تھیں. لیکن اس کے باوجود حضرت آدم علیہ سلام تنہائی اور اجنبیت محسوس کرتے تھے. چنانچہ اللہ تعالی نے ان کی تنہائی دور کرنے کا بندوبست فرماتے ہوئے حضرت حوا علیہ سلام کو پیدا فرمایا.
محمد بن اسحاق حضرت ابن عباس سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت حوا علیہ سلام کو حضرت آدم علیہ سلام کی بائیں طرف کی چھوٹی پسلی سے پیدا کیا گیا. جبکہ وہ سو رہے تھے. پھر اللہ نے حضرت آدم اسلام کو حکم فرمایا کہ وہ اور ان کی بیوی جنت میں سکونت فرمائے اور فرمایا! جہاں سے چاہو بلا روک ٹوک کھاؤ۔ لیکن اس درخت کے پاس نہ جانا ورنہ ظالموں میں سے ہو جاؤ گے. حضرت آدم علیہ سلام اور حضرت حوا علیہ سلام بڑے آرام و سکون سے جنت میں رہنے لگے۔
روایت میں ہے کہ حضرت آدم علیہ سلام سو سال یا ساٹھ سال جنت میں رہے۔ اس عرصے میں دونوں پر جنت کے کسی بھی حصے میں جانے پر پابندی نہ تھی. سوائے شجر ممنوعہ کے.
شیطان اب ان دونوں کا کھلا دشمن تھا اور اپنی سزا کا بدلہ لینے کے لیے بے قرار بھی تھا. اس کی شدید خواہش تھی کہ اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کریں. پھر شیطان نے ان کے دلوں میں وسوسہ ڈالا تاکہ ان کی شرمگاہیں جو اس وقت ایک دوسرے سے پوشیدہ تھیں بے پردہ ہو جائیں. اس نے انہیں کہا کہ تمہارے رب نے تم دونوں کو اس درخت سے اس لیے منع فرمایا کہ کہیں یہ پھل کھا کر تم دونوں فرشتے نہ ہو جاؤ یا کہیں ہمیشہ زندہ رہنے والوں سے ہو جا.
شیطان کی ان باتوں نے حضرت حوا کو سوچنے پر مجبور کر دیا اور پھر شیطان کی سازشیں کام کر گئیں اور اس نے حضرت حوا علیہ سلام کو پھلکانے پر راضی کر لیا. ایک دن حضرت حوا علیہ سلام نے حضرت آدم علیہ سلام سے کہا کہ ہم اس شجرے ممنوعہ کا ذرا سا حصہ کھا کر تو دیکھیں. آخر وہ کیا راز ہے جو اللہ نے اسے کھانے سے منع فرمایا ہے. شروع میں تو حضرت آدم علیہ سلام اس کے لیے قطعی طور پر تیار نہ تھے لیکن پھر حضرت حوا کے مسلسل اصرار پر وہ بھی راضی ہو گئے.
ابھی ان دونوں نے پھل کو پوری طور پر چکھا بھی نہ تھا کہ ان کی شطرگاہیں ایک دوسرے پر عیاں ہو گئیں. اس پر بدحواسی اور پریشانی میں جنت کے درخت کے پتوں کو توڑ توڑ کر اپنا بدن چھپانے لگے. اللہ نے دونوں کو پکارا اور فرمایا کیا میں نے تم کو منع نہیں کیا تھا کہ اس درخت کا پھل نہ کھانا اور شیطان کے ورغلانے میں نہ انا یہ تمہارا کھلا دشمن ہے. دونوں نے جب اللہ کی پکار سنی تو مارے خوف الہی کے کانپ اٹھے.
نہایت لاچارگی اور عاجزی سے اپنی خطا پر نادموں شرمندہ ہوتے ہوئے بارگاہ خداوندی میں عرض کیا اے رب ہم دونوں سے بہت بڑی غلطی ہوگئی ہے مگر اب آپ نے ہم پر رحم و کرم نہ کیا اور معاف نہ فرمایا تو ہم تباہ و برباد ہو جائیں گے. حق تعالی نے فرمایا کہ اب تم دونوں ایک خاص مدت تک زمین پہ رہو گے جہاں تم ایک دوسرے کے دشمن ہوگے اور وہاں ہی مرنا ہے اور اسی میں سے پھر پیدا ہونا ہے. چنانچہ دونوں کو زمین کی طرف روانہ کر دیا گیا.
روایت میں ہے کہ حضرت آدم علیہ سلام کو ہند حضرت حوا علیہ سلام کو جدہ اور ابلیس کو بصری سے چند میل کے فاصلے پر دمسطمان کے مقام پر اتارا گیا. حضرت صدی رحمتہ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت آدم علیہ سلام جنت سے ہند میں اترے تو ان کے پاس حجر اسود تھا اور جنت کے درختوں کے پتوں کی ایک مٹھی بھی تھی. پھر حضرت آدم علیہ سلام نے ان پتوں کو زمین پر پھیلا دیا اور یہ خوشبودار درخت ان پتوں ہی کی پیداوار ہیں.
حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ سلام حضرت آدم علیہ سلام کے پاس آئے اور گندم کے سات دانے ساتھ لائے. حضرت آدم علیہ سلام نے پوچھا یہ کیا ہے؟ عرض کیا یہ اس درخت کا پھل ہے جس سے آپ کو روکا گیا تھا لیکن آپ نے تناول کر لیا تھا. عرض کیا ان کو زمین میں بو دیے. حضرت آدم علیہ سلام نے بودی اور وہ دانے وزن میں ان دنیا کے دانوں سے لاکھ درجے زیادہ تھے. وہ دانے اگے حضرت آدم علیہ سلام نے فصل کاٹی پھر دانوں کو بھوسے سے جدا کیا۔ پھر صفائی کی اسکو کاٹ کر اٹا گوندھا، روٹی پکائی۔ اس طرح محنت و مشقت کے وعدے سے کھایا.
اب سوال جو درحقیقت سوال تھا اس سوال کی طرف آتے ہیں کہ حضرت حوا کتنی بار حاملہ ہوئیں اور کتنے بچوں کو انہوں نے جنم دیا؟ آدم اور حوا جنت میں ناز ونعمت میں تھے۔ لیکن ابلیس جو کہ سانپ کے منہ سے بولتا تھا اس نے انہیں دھوکہ دیا اور ممنوعہ پھل کو پہلے حوا اور اس کے بعد آدم نے کھایا۔ آدم اور حوا امر الہی کی مخالفت اور ممنوعہ پھل کو کھانے کے بعد جنت سے باہر نکالے گئے.
مستحق سزا کے علاوہ حوا کو اور اس کے بعد دوسری تمام عورتوں کو بہت سی سزائیں جیسا کہ ماہواری، حمل، زچگی کا درد دی گئیں. جنت سے نکالے جانے کے بعد آدم ہندوستان میں اور ہوا جدہ میں اتری اور توبہ کے بعد عرفات کے مقام پر ایک دوسرے سے ملاقات کی. انہوں نے حج کے بعض اعمال کو بجا لایا اور حوا کو پہلی بار ماہواری ہوئی. آدم علیہ سلام نے زمین پر اپنے پاؤں مارے اور آب زم زم جاری ہوا اور حوا علیہ سلام نے اس پانی سے غسل کیا. اماں حوا کے بارے میں یہ بات آتی ہے کہ وہ بیس بار حاملہ ہوئیں اور چالیس بچوں کو جنم دیا۔ آپ کی وفات آدم علیہ سلام کی ایک سال بعد ہوئی اور سپرد خاک کیا گیا.
حوا کے بارے میںاختلاف جو دفن کے بارے میں آتا ہے اس میں یہ ہے کہ بعض نے کہا ہے کہ ہوا جدہ میں اتری اور وہی پر مدفن ہوئیں۔ اور ایک قول کے مطابق اسے اس لیے جدہ کا نام دیا گیا ہے ظاہرا حوا کا پہلا مقبرہ ایرانیوں نے بنایا ہے. سعودی عرب کی حکومت نے یہ مقبرہ خراب کیا بعض تاریخی قول اور روایات کے مطابق حوا مکہ میں حضرت آدم علیہ سلام کے ساتھ دفن ہوئیں. اب ان تمام تر واقعات میں سچائی اور حقیقت کو تو تاریخ کے جو ماہرین ہیں وہی بتا سکتے ہیں لیکن یہ وہ چیزیں ہیں جو کہ حقیقت کے قریب ترین ہیں اور جو مختلف روایات میں موجود ہیں. جن کے بارے میں ہم نے آپ سے شیئر کیا.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button