Entertainment

بیوی سے بات منوانے کا طریقہ

بیوی سے بات منوانے کا طریقہ. ایک آدمی نے عالمہ عورت سے شادی کر لی۔ شادی کے بعد اس لڑکی نے کہا کہ میں عالمہ ہوں اور ہم شریعت کے مطابق زندگی بسر کریں گے. وہ آدمی اس بات سے بہت خوش ہوا کہ چلو اچھا ہوا بیگم کی برکت سے زندگی تو شریعت کے مطابق گزرے گی۔ لیکن کچھ دنوں بعد بیوی نے اسے کہا کہ دیکھو ہم نے گھر میں شریعت کے مطابق زندگی گزارنے کا عہد کیا تھا اور شریعت میں بیوی پر ساس اور سسر کی خدمت واجب نہیں.

 

 

اور شریعت کے مطابق خاوند نے بیوی کے لیے علیحدہ گھر کا بندوبست بھی کرنا ہوتا ہے. لہذا میرے لیے علیحدہ گھر لے لو. وہ آدمی بڑا پریشان ہوا کے علیحدہ گھر لینا تو مسئلہ نہیں لیکن میرے بوڑھے والدین کا کیا بنے گا؟ اس پریشانی میں وہ ایک مفتی صاحب کے پاس گیا اور اپنا مسئلہ ان کے سامنے پیش کیا. مفتی نے کہا بھائی بات تو وہ ٹھیک کرتی ہے. آدمی نے مفتی صاحب سے کہا کہ مفتی صاحب میں آپ کے پاس مسئلے کے حل کے لیے آیا ہوں فتوی لینے نہیں. مفتی صاحب نے کہا کہ ایک طریقہ ہے وہ اس طرح کہ جا کر اپنی بیوی کو بتاؤ کہ شریعت کی روح سے میں دوسری شادی کر سکتا ہوں. لہذا میں دوسری شادی کر رہا ہوں اور وہ میرے والدین کے ساتھ رہے گی. ان کی خدمت بھی کرے گی. اور آپ کے لیے علیحدہ گھر لیتا ہوں آپ وہاں رہو گی. بیوی اس کے جواب سے سٹ پٹا گئی اور بولی کہ دفعہ کرو دوسری شادی کو. میں ادھر ہی رہوں گی. آپ کے والدین میرے بھی والدین ہیں اور ان کی خدمت اکرام مسلم بھی۔
اس کہانی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ کچھ وقت نکال کر علم والوں کے پاس بھی بیٹھا کریں. کیونکہ ہر مسئلے کا حل گوگل کے پاس نہیں ہوتا. دیکھنے میں آتا ہے کہ ہمارے لوگوں کو شرعی مسئلہ جاننا ہوتا ہے تو بجائے وہ کسی علم والوں سے مسئلہ پوچھے وہ گوگل یا انٹرنیٹ سرچ کرتے ہیں. نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بغیر کسی حوالہ جات وہ عمل کرنا شروع کر دیتے ہیں اور ساری عمر گمراہی میں ہی زندگی گزار دیتے ہیں. انٹرنیٹ کو اپنے اوپر اتنا سوار مت کریں کہ علم والوں کی باتیں جھوٹی اور گوروں کی باتیں سچ لگنے لگیں.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button