Islamic

بنی اسرائیل کی حسین اور مغرور ملکہ جس نی پیغمبروں کا قتل کروایا اسکا عبرتناک انجام کیسا ہوا؟

بنی اسرائیل کی حسین اور مغرور ملکہ جس نی پیغمبروں کا قتل کروایا اسکا عبرتناک انجام کیسا ہوا؟
ازل سے شیطانی صفت کے لوگ ایک اللہ کے ماننے والوں کو سیدھی راہ سے بھٹکانے کی کوشش کرتے آئے ہیں. اور اس کے لیے شیطان نے جس کردار کا سب سے زیادہ استعمال کیا وہ عورت تھی. اور یہی ایسی قوم کے شرک و کفر کی وجہ بنی جن کی ہدایت کے لیے لاکھوں انبیاء کرام علیہم السلام گئے. اس کے ساتھ ہی بنی اسرائیل کی قومی شان و شوکت قدر ومنزلت کا ایسا زوال شروع ہوا کہ پھر دوبارہ انہیں کبھی ایسی شان و شوکت نصیب نہیں ہوئی.
یہ وہ زمانہ تھا جب بنی اسرائیل کی سلطنت دو حصوں میں بٹ چکی تھی. جس کا ایک حصہ یہودی جبکہ دوسرا حصہ بنی اسرائیل کہلاتا تھا. بیاں ہوتا ہے کہ اس وقت اسرائیل میں جو بادشاہ حکمران تھا اس کا نام بائبل میں اخی اب اور عربی تاریخ و تفاسیر میں عجب یا اخب مذکور ہے. جبکہ اس کی بیوی جس کا نام ایزا بل تھا یہی وہ عورت تھی جو پورے بنی اسرائیل قوم کو شرک میں مبتلا کرنے میں کامیاب ہوئی جو خود دراصل بیل نامی بت کی پرستار تھی.
بیل بت یہودیوں اور اسرائیلیوں کا سب سے بڑا اور مشہور دیوتا تھا. کہا جاتا ہے کہ وہ بت سونے کا تھا اور اس کا قد بیس گز تھا۔ چار منہ اور چار سو افراد اس کی خدمت پر معمور تھے. اس کے علاوہ یمن اور شام کی عوام کا پسندیدہ دیوتا یہی تھا جس کی سینکڑوں سالوں سے پوجا کی جا رہی تھی. جبکہ روایات میں آتا ہے بیل کے پجاری حضرت یوشا بن نون علیہ سلام کے زمانے میں بھی تھے. اور آپ علیہ سلام نے شام کی فتح کے دوران ان سے جنگ بھی کی تھی.
اس کے علاوہ سال کے مخصوص مہینوں میں اس دیوتا کے گرد میلے لگتے تھے منتیں مانی جاتیں. سونے چاندی کے نظرانے چڑھائے جاتے۔ طرح طرح کی خوشبوؤں کی دھونی دی جاتی. یہاں تک کہ اس کی قربان گاہ میں جانوروں کو قربان کیا جاتا اور خاص مواقع پر انسانوں کی بھیٹ بھی چڑھائی جاتی تھی.
دوستوں یہاں دلچسپی کی بات یہ ہے کہ ابرانی اور سامی زبانوں میں بیل کے معنی آقا، پروردگار، مالک اور سردار کے ہیں. اس لیے عرب کی خواتین بھی اپنے شوہروں کو بیل کہتی تھی. بعض مؤرخین نے لکھا ہے کہ حجاز کا مشہور بت حبل بھی بیل ہی کی ایک شکل تھا. حتی کہ اس کی نحوست پر خود قرآن کریم میں ارشاد باری تعالی ہے اور الیاس بھی پیغمبروں میں سے تھے جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ تم ڈرتے کیوں نہیں. کیا تم بیل کو پکارتے ہو اور اس سے پوجتے ہو اور سب سے بہتر پیدا کرنے والے کو چھوڑ دیتے ہو.
یہ آیت اسی واقعے کی طرف اشارہ کرتی ہیں جس میں ایزا بیل نامی عورت نے پورے بنی اسرائیل کو بیل کی پرستش میں لگانے کا کام سرانجام دیا تھا. اور بیل کے نام پر ایک بڑی قربان گاہ تعمیر کر کے کئی انسان کو وہاں قربان کر ڈالا تھا. یاد رہے کہ ایزا بیل کوئی عام سی عورت نہیں بلکہ نویں صدی قبل مسیح میں وہ فینشن شہزادی اور بادشاہ اقبال کی بیٹی تھی. فینشیا اسرائیل کے شمال میں واقع ایک ایسا شہر سمجھا جاتا تھا جو روایات اور عقائد کی پیروی کرنے کو کسی خاطر میں نہ لاتا تھا. اور اسی شہر پر کنگ اعتبال کی حکمرانی بھی تھی.
کنگ اتبال نے جب اسرائیلی سلطنت کو ٹوٹتے دیکھا تو بہت پریشان ہوا. اور اس سلطنت کو پرامن بنانے کا ایک حل ایسا نکالا کہ نئے مقرر شدہ اسرائیل کے بادشاہ کے بیٹے احاب اور فینشن شہزادی ایزابیل کی شادی کر دی جائے. لہذا کچھ ہی عرصے میں دونوں ٹوٹی ہوئی سلطنتوں کے درمیان کچھ حد تک تو امن پیدا ہو گیا لیکن شادی کے بعد ملکہ ایزا بل نے بیل کی پوجا بدستور جاری رکھی.
جس کی وجہ سے اسرائیل کے قصبے کے لوگ اس کے اس عمل سے ناراض ہونے لگے لیکن وہ پیچھے نہیں ہٹی. بلکہ الٹا خود لوگوں کو بیل کی پرستش پر قائل کرنے لگی اور اس کے لیے وہ اس حد تک گزر گئی کہ آٹھ سو جھوٹے مدعی نبوت کو بھی لائی۔ جو بیل کی عبادت کی حوصلہ افزائی کرتے اور بیل کے جھوٹے پیغامات انہیں پہنچاتے. اور ساتھ ہی کیونکہ ایزابیل دین حق اور انبیاء کرام علیہم السلام کی بہت بڑی دشمن تھی. لہذا بہت سے انبیاء کرام علیہم السلام کو شہید کر دیا.
یہی وہ دور تھا جب ایک ہی دن میں کئی محترم انبیاء کرام علیہم السلام کو شہید کیا گیا. اور اسی سبب سے اس وحشی قاتلہ کی دہشت تمام بنی اسرائیل پر پھیل گئی اور آہستہ آہستہ سب نے بیل کی پرستیش شروع کر دی. بنی اسرائیل وہ واحد قوم ہے جس پر سب سے زیادہ انعامات کی برسات ہوئی. سب سے زیادہ ہدایات کے لیے ان میں پیغمبر آئے لیکن اس کے باوجود نہ جانے ایسا کون سا عنصر ان کے وجود میں شامل تھا کہ یہ لوگ ذرا سی ترغیب پر اور ڈراوے دھمکاوے پر اپنا ایمان بیچ ڈالتے؟ اور کسی بھی غیر اللہ کی چیز کی پرستش فورا شروع دیتے.
اب بھی جب یہ قوم مکمل طور پر شرک و کفر میں مبتلا ہو گئی تو اللہ تعالی کی طرف سے حضرت عیسی علیہ سلام کو حکم ہوا کہ وہ اس خطے میں جا کر توحید کی تعلیم دیں اور اسرائیلیوں کو بت پرستی سے روکیں۔
حضرت الیاس علیہ سلام نے جب بنی اسرائیل کو صراط مستقیم پر چلنے اور کفر و شرک سے بعض رہنے کی دعوت دی تو انہوں نے دعوت حق مسترد کر دی جس پر اللہ تعالی نے انہیں خشک سالی سے دوچار کر دیا. سلطنت اسرائیلیہ کے لوگ پانی کی بوند بوند کو ترسنے لگے. جبکہ دوسری طرف ایزا بیل حضرت الیاس علیہ سلام کی جان کی دشمن بن گئی چنانچہ اس نے اپنے شوہر اخی اب کے ذریعے ان کے قتل کا فرمان بھی جاری کیا.
لیکن حضرت الیاس علیہ سلام اللہ کے حکم سے ایک غار میں جا چھپے اور کچھ عرصے کے بعد اللہ کے حکم سے ہی دوبارہ ظاہر ہو گئے. حضرت الیاس علیہ سلام نے دوبارہ سب کو دین حق کی دعوت دی اور واضح طور پر یہ معجزہ بھی دکھایا کہ خشک سالی کے خاتمے کی دعا فرما کر اسے اللہ کے حکم سے ختم کیا جس کے بعد موسلادھار بارش ہوئی. لیکن اس کے باوجود سلطنت اسرائیلیہ کے بادشاہ اخیاب اور اس سرکش اور خون خوار ملکہ ایزابیل نے دعوت حق قبول نہیں کی. اور ایک بار پھر اللہ کے نبی حضرت الیاس علیہ سلام کے قتل کا ارادہ کیا. لیکن پھر اللہ تعالی کے حکم سے اپ نے ایک غار میں پناہ لے لی.

اس کے بعد حضرت الیاس علیہ سلام نے بنی اسرائیل کے ایک سردار یاحو بن نمشی کو مستقبل کا بادشاہ منتخب فرما دیا. بعد ازاں اس نئے منتخب شدہ بادشاہ نے ایزا بل سے تمام حساب کتاب چکتا کیے.ایک دن ایسا ہوا کہ حضرت الیاس علیہ سلام اور اخیاب کا آمنہ سامنا ہو گیا. حضرت الیاس علیہ سلام نے اخیاب کو اللہ عزوجل کا پیغام پہنچایا کہ جس جگہ کتوں نے تیرے باپ داداؤں کا خون چاٹا تھا وہی تیرا بھی خون چاٹیں گے. اور ساتھ ہی حضرت الیاس علیہ سلام نے اخیاب کو اس کی ملکہ ایزا بل کے انجام کے بارے میں بھی خدا کے حکم سے آگاہ فرما دیا. کہ یزری ایل نامی کھیت میں کتے ایزابیل کی لاش کو نوچ نوچ کر کھائیں گے. اور پھر خدا کا کرنا ایسا ہی ہوا کہ اخیاب کچھ ہی عرصے کے بعد ایک جنگ میں مارا گیا اور کتوں نے اس کا خون چاٹا.
اس کے بعد حضرت الیاس علیہ نے غار میں پناہ لینے کے بعد جس اسرائیلی سردار کو مستقبل کا بادشاہ قرار دیا وہ اللہ کے حکم سے ایزا بیل اور اس کے گھرانے سے بدلہ لینے کے لیے خود کو تیار کرنے لگا. اس کے لیے یاہو بن نمشی نے سلطنت اسرائیلیہ کے بدکردار بادشاہ یورام کے خلاف بغاوت کر کے اس کو ایک دلیرانہ حکمت عملی کے ذریعے قتل کر دیا. اور اس کی لاش کو نابوت یزری ایل کے کھیت میں پھینکنے کا حکم دیا.
بادشاہ کے قتل کے بعد نیا بادشاہ یاحو بن نمشی محل میں داخل ہوا. اور اپنے وقت کی ظالم ترین اور کئی انبیاء کرام کی قاتلہ ایزا بیل کو اوپر کی منزل سے نیچے گرا دیا. اس ملعون عورت کی لاش کو گھوڑے کے ثمو تلے روندا گیا اس کی لاش نابود یزری ایل کے کھیت میں بے گورو و کفن پڑی رہی. اور کتے اس کا گوشت کھاتے رہے یوں حضرت الیاس علیہ سلام کی پیشنگوئی پوری ہوئی. پھر بعد میں جب اس کے آدمی ایزا بل کے جسم کو دفنانے کے لیے آئے تو اس کے شاہی خون کی لاش میں جو کچھ پایا گیا تھا وہ اس کی کھوپڑی پاؤں اور ہاتھ تھا.
لہذا وہ لوگ سمجھ گئے کہ اس کی موت کی پہلے ہی نشاندہی ہو چکی تھی جس کی وجہ سے انہوں نے ایزابیل کے گوشت کو پھینک دیا اور یوں اس کی مغرور زندگی رہتی دنیا تک عبرت کا نشان بن گئی.
لہزا اگر ایزا بل اور اس کے قاتلانہ دور کو دیکھا جائے تو اس واقعے سے پتہ چلتا ہے کہ اللہ کی راہ سے اس قدر لوگوں کو بھٹکانے اور اس کے انبیاء کرام کو کثرت سے شہید کروا دینے کے بعد اگر کوئی اپنے مکر و فریب جاری رکھتا ہے تو اللہ تعالی ان سے بہتر تدابیر اختیار کرنے والا ہے. بلاشبہ اللہ عزوجل مختار ہے اگرچہ وہ ایزا بل جیسے ظلم کرنے والوں کے لیے فوری سزا نہیں دیتا لیکن سزا ان لوگوں کے لیے ضرور ناگزیر ہوتی ہے. جو اللہ کے بندوں سے دشمنی مول لیتے ہیں وہ اللہ کے مقرر کردہ وقت میں ضرور پاتے ہیں. اور آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں اپنے نیک بندوں کا احترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے. آمین ثم آمین.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button