Entertainment

بادشاہ اور اسکی 12 رقصہ بیٹیاں

قدیم زمانے میں ایک بادشاہ ہوا کرتا تھا جس کی بارہ بیٹیاں تھی. یعنی بارہ شہزادیاں ان کی خوبصورتی کا کیا کہنا۔ تمام ایک سے بڑھ کر ایک تھیں. بادشاہ نے ان کی شادی کا فیصلہ کر لیا. لیکن راجہ کو ایک ایسے راز کا پتہ چلا جو کہ حیران کر دینے والا تھا. سبھی بارہ شہزادیاں رات بھر رقص کیا کرتی تھی. کسی کو بھی پتہ نہیں تھا کہ وہ کہاں جاتی تھیں؟ بادشاہ نہایت پریشان ہو گیا. اس نے قلعے کے سارے دروازے بند کروا دیے. تاکہ شہزادیاں باہر نہ جا سکے لیکن اس کی تمام کوششیں ناکام ہو گئیں.

کیونکہ اس نے دیکھا کہ ان کے جوتوں میں چھید ہو گیا تھا وہ پریشان ہو گیا تھا. کہ آخر ماجرا کیا ہے؟ اور اس نے اعلان کیا کہ جو کوئی بھی شہزادیوں کے رقص کے راز کے بارے میں بتائے گا اسے اپنی پسندیدہ شہزادی سے شادی کرنے کا سنہرا موقع ملے گا. اور وہ میری وفات کے بعد بادشاہ بھی بنایا جائے گا. اور اگر وہ تین راتوں میں اس راز کا پردہ فاش نہیں کر پایا تو اسے موت کی سزا سنا دی جائے گی. یہ خبر ریاست میں چاروں طرف پھیل گئی. ایک شہزادہ آ گیا جو رقص کے راز کا پتہ لگانا چاہتا تھا۔ جناب عالی میں آپ کے پڑوسی ریاست کا شہزادہ ہوں. اور میں یہاں شہزادیوں کے رقص کا راز پتہ لگانے آیا ہوں. بادشاہ نے اس کا استقبال کیا. رات کا کھانا کھا کر سیر ہونے کے بعد اسے سونے کے لیے ایک عالی شان کمرہ دے دیا گیا.یہ کمرہ شہزادیوں کے کمرے کے پاس ہی تھا. اس کا پلنگ ایسے تھا کہ وہ رات بھر ان پر نظر رکھ سکے. اور پتہ لگائے کہ وہ رقص کرنے کے لیے کس جگہ پر جاتی ہیں؟ شہزادیوں کے کمرے کا دروازہ کھلا رکھا گیا تھا. شہزادہ اپنے کمرے میں تھا تب دو شہزادیاں آئیں اور انہوں نے اسے شربت کا گلاس نوش فرمانے دیا.

شہزادے نے شربت نوش فرما لیا اور شہزادیوں کی حرکت پر نظر رکھنے لگا. کچھ دیر وہ بیٹھا رہا لیکن اس کا سر بھاری ہونے لگا. وہ سو گیا. پھر صبح اٹھتے ہی دیکھا کہ شہزادیاں رقص کر کے واپس آگئی تھی. یہ سلسلہ کچھ اور رات برقرار رہا اور چوتھے دن جب فیصلے گھڑی آئی تو شہزادے کے پاس کوئی جواب نہ تھا.بادشاہ نے بڑی بے رحمی سے اسے موت کی سزا سنائی. اس کے بعد کئی لوگوں نے اپنی تقدیر آزمائی مگر وہ اپنی کوششوں میں ناکام رہے اور ان کو بھی بادشاہ نے موت کی گھاٹ اتار دیا. بادشاہ بھی ان کو سزائے موت دے کر خوش نہیں تھا۔ اور اسے اس بات کا دکھ بھی تھا کہ کوئی بھی شہزادیوں کے رقص کا راز پتہ نہیں لگا پایا.اس ملک میں ایک سپاہی بھی تھا جو زخمی ہو جانے کی وجہ سے اپنا کام چھوڑ کر واپس آیا تھا. اب اس کے پاس کوئی کام نہیں تھا اسی لیے وہ بادشاہ کی ریاست کی طرف چل پڑا. راستے میں اسے ایک ضعیفہ خاتون ملی اس نے اس کی مدد کی۔

اس ضعیفہ خاتون نے اس کا شکریہ ادا کیا. اور پوچھا تم کہاں جا رہے ہو. مجھے پتہ نہیں میں سوچ رہا تھا کہ میں بادشاہ کے شہر جاؤں.ان شہزادیوں کے لیے میں آپ کا مطلب نہیں سمجھا کیا تمہیں بادشاہ کے اعلان کے بارے میں نہیں پتہ وہاں میں نے سنا ہے لیکن مطلب سے گیا تو مجھے اپنی قیمتی جان گنوانی پڑے گی. جیسے باقی لوگوں نے اس کوشش میں گواہ دی. تم بس وہ شربت نہیں پینا جو وہ سونے سے پہلے دیتی ہے صرف سونے کا ناٹک کرنا ضعیفہ خاتون نے اسے ایک شناخت دی. اور کہا کہ تم اسے پیو گے تو آنکھوں سے اوجھل ہو جاؤ گے.ایسے تم بارہ شہزادیوں کا پیچھا کر سکتے ہو. سپاہی ضعیفہ خاتون کا تہہ دل سے شکر گزار ہوا. اور بادشاہ کے قلعے کی طرف چل پڑا. بادشاہ نے سپاہی کا استقبال کیا اور اس کی بھی اچھی خاطرداری کی. پھر شام ڈھلتے ہی سپاہی کو بھی شہزادیوں کے پاس کمرے میں قیام پذیر ہونے کی جگہ دی. کچھ دیر کے بعد سب سے بڑی شہزادی سپاہی کے کمرے میں داخل ہوئی.آؤ سپاہی ہم آپ کے لیے شربت لے کر آئے ہیں. نوش فرمائیے ہم سب کو بہت خوشی ہوگی. سپاہی کافی ذہین تھا اس نے سارا شربت پی لیا لیکن اسے نگلا نہیں. کیونکہ اس نے اپنی زبان کے نیچے ایک سپنس رکھا ہوا جیسے ہی شہزادی کمرے سے باہر نکلی تو اس نے سپنچ باہر نکالا اور سونے کا ناٹک کرنے لگا.

ساری شہزادیاں اسے سوتا ہوا دیکھ کر خوش ہو رہی تھیں اور باہر رقص کرنے لیے سبھی تیار ہو گئیں. جیسے ہی وہ آگے بڑھیں تو سب سے بڑی شہزادی نے اپنے پلنگ پر تختی ماری جو جھٹ سے زمین دوش ہو گیا. اور پھر ایک کے بعد ایک ساری اس خفیہ جگہ سے نیچے اتریں. سپاہی یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا. اور ان کا پیچھا کیا. آدھے راستے نیچے اترنے کے بعد سب سے چھوٹی شہزادی خوفزدہ ہو گئی. مجھے ایسا لگ رہا ہے جیسے کوئی میرے ساتھ چل رہا ہے.کیونکہ ہم اندھیرے میں چل رہے ہیں. اسی لیے چلو آؤ۔ سپاہی نے اس کے کپڑے کو تھوڑا کھینچا وہ اور خوفزدہ ہو گئی. کوئی تو ہے جس نے میرے کپڑے کھینچے مجھے تو بہت خوف آ رہا ہے. شاید کسی کیل میں پھنس گیا ہوگا. جلدی نکلو اور چلو۔ سپاہی بھی شہزادی کے ساتھ چل پڑا. سبھی شہزادیاں ایک ایسے حصے میں پہنچی جسے وہاں کا خوبصورت بھاگ کہتے ہیں. جہاں پر درختوں پر لگی پنکھڑیاں چاندی کی تھیں. سپاہی نے پنکھڑی ثبوت کے طور پر توڑی. جیسے ہی اس نے پنکھڑی توڑی تو وہاں ایک زبردست آواز آئی جس سے چھوٹی شہزادی پھر سے خوفزدہ ہو گئی. کیا تم نے یہ آواز سنی؟ ہاں یہ آواز گولی کی سلامی کی تھی. کیونکہ ایک اور آدمی سے ہمیں چھٹکارا ملا. پھر وہ سب ہی آگے بڑھیں اس جگہ کے ایک اور حصے کی طرف جہاں درختوں کے پتے سونے کے تھے.
سپاہی نے ایک سونے کا پتا توڑا پھر سے ایک زوردار آواز آئی. بڑی شہزادی نے اپنی چھوٹی بہن سے اسے ان دیکھا کرنے کو کہا. آگے بڑھتے بڑھتے ساری شہزادیاں ایسی جگہیں پہنچیں جہاں ہیرے تھے. سپاہی نے یہاں بھی ایک ہیرا توڑا. چھوٹی شہزادی کو تب بھی کچھ ٹوٹنے کی آواز آئی وہ پھر خوفزدہ ہو گئیں. بہرحال سبھی بارہ شہزادیاں ایک جھیل کے کنارے پہنچی جہاں بارہ شہزادے ناؤ کے ساتھ ان کا انتظار کر رہے تھے. ہر ایک شہزادی ایک ایک شہزادے کے ساتھ بیٹھ گئی.سپاہی نے چھوٹی شہزادی کے ساتھ بیٹھنے کا فیصلہ کیا. شہزادی نے کہا آج کشتی کچھ زیادہ ہی وزنی لگ رہی ہے. مجھے اسے چلانے میں کافی زور لگانا پڑ رہا ہے. اب وہ تو مجھے پتہ نہیں پر مجھے بہت اچھا لگ رہا ہے. سبھی بارہ کشتی جھیل کے پار پہنچ گئیں جہاں بہت عالی شان قلعہ تھا ۔ تب ہی بارہ جوڑے قلعے کے اندر داخل ہوئے. اور ساتھ میں وہ سپاہی بھی جیسے ہی وہ ایک عالی شان ہال میں پہنچے موسیقی ہوئی. بارہ شہزادیاں ان بارہ شہزادوں کے ساتھ شوق سے رقص کرنے لگیں. یہ عالم صبح کے تین بجے تک چلتا رہا. تب تک ان کے جوتوں میں چھید ہو گئے تھے اور انہوں نے واپسی کا فیصلہ کیا. شہزادوں نے شہزادیوں کو واپس جھیل کے اس پار پہنچا دیا. اس بار سپاہی بڑی شہزادی کے ساتھ بیٹھا تھا وہ سب اپنے کمرے کی طرف پہنچنے ہی والی تھیں تب ہی سپاہی دوڑا اور اپنے بستر پر سو گیا. جب کمرے میں شہزادیاں پہنچی تو دھیرے سے چوکنا ہوئیں. اور بڑی شہزادی نے کہا آہ سب ٹھیک ہے. چلو اب ہم اپنے بستر پر کپڑے بدل کر سو جاتے ہیں.
سلسلہ کئی رات تک چلتا رہا.

سپاہی ان کا پیچھا کرتا اور ثبوت بھی اپنے ساتھ لے کر آتا. اور ان سے پہلے پہنچ کر سو جاتا. جب فیصلے کی گھڑی آئی تو بادشاہ نے سپاہی کو بلایا اس نے بتایا سب ہی بارہ شہزادیاں اپنے کمرے سے زمینی سرنگ سے جاتی ہیں. جہاں آپ کے قلعے کے نیچے ایک اور قلعہ ہے. اس نے ساری کہانی تفصیل سے سنائی. بادشاہ سبھی شہزادیوں کی طرف دیکھا. جو یہ ساری باتیں ایک بڑے سے پردے کے پیچھے سن رہی تھیں. کیا یہ سچ ہے میرے پاس اس کا ثبوت بھی ہے۔ سپاہی نے بادشاہ کے سامنے چاندی سونے اور ہیرے والے سارے ثبوت جو اکٹھے کیے تھے رکھ دیے. شہزادیوں نے یہ ساری سچائی مان لی تھی اور ساری باتیں بادشاہ کو بتائیں۔ بادشاہ کو بھی سچائی جان کر خوشی ہو رہی تھی. اس نے سپاہی کا شکریہ ادا کیا اور اسے خوب نوازا. تم میری کون سی بیٹی سے شادی کرنا چاہو گے؟ ویسے تو میری عمر ہوگئی ہے. اسی لیے میں آپ کی سب سے بڑی بیٹی سے شادی کرنا چاہوں گا. بادشاہ نے اپنے سپاہیوں کو شادی کی ساری تیاری کرنے کا حکم دیا. اور اسی دن شادی کی ساری رسومات پوری کر دی گئیں. سپاہی بادشاہ کی وفات کے بعد اس ملک کا نیا بادشاہ بن گیا. اور پھر سبھی راضی خوشی رہنے لگے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button