Islamic

ایک درزی کا جنازہ لاکھوں کا مجمع

کسی کا جنازہ پڑھنا یہ اس مرنے والے شخص کا حق ہے آج ہم کسی کی نماز جنازہ پڑھیں گے تو کل کوئی ہمارے لیئے بھی بخشش کی دعا کرے گا
ایک اللہ والے گزرے ہیں مولانا عبد الحی صاحب رحمہ اللہ جب ان کا انتقال ہوا تو اس وقت چونکہ یہ سوشل میڈیا یا پرنٹ میڈیا کا دور نہیں تھا ریڈیو کا زمانہ تھا تو ان کے انتقال کی خبر ریڈیو پر چلی تو دور دراز سے لوگ سفر کر کے ان کی نماز جنازہ ادا کرنے کیلئے آئے کافی تعداد میں لوگ جمع ہو گئے جب نماز جناز پڑھی جانے لگی تو اس وقت ابھی کافی لوگ ایسے تھے جو جنازہ میں شریک ہونے کیلئے آرہے تھے نماز جناز جب پڑھی گئے تو اعلان ہوا کہ ایک اور بھی جنازہ ہے وہ بھی ساتھ ہی پڑھ کر جائیں تواس کے بعد والے جنازہ میں وہ لوگ بھی شریک ہو گئے جو عبد الحیؒ کے جنازہ میں شریک ہونے سے رہ گئے تھے تو اس طرح بعد والا جنازہ پہلے والے جنازہ سے بھی زیادہ تعداد میں تھا
یہ بعد والا جنازہ اس شخص کا تھا جو ایک معمولی سا درزی تھا اسکی دوکان تھی اس کی ایک عادت تھی کہ جب بھی کوئی جنازہ آتا تو یہ دوکان بند کر کے جنازہ میں شریک ہوتا تھا کسی نے درزی کو کہا کہ آپ دوکان کو بند کر کے ہر کسی کے جنازہ میں کیوں شریک ہوتے ہو تو درزی نے کہا کہ اور تو میرا کوئی ایسا عمل ہے نہیں جس کی وجہ سے میری بخشش ہو جائے جنازہ میں یہ سوچ کر شریک ہوتا ہوں کہ کل میں نے بھی اس دنیا فانی سے جانا ہے مجھے تو لوگ زیادہ جانتے بھی نہیں ہیں کوئی میرے جنازہ میں شریک ہو گا بھی یا نہیں تو اس عمل کی وجہ سے شاید میری بھی بخشش ہو جائے
توجب اللہ تعالیٰ نے درزی کا یہ عمل قبول کیا تو انعام بھی ایسا دیا کہ دنیا حیران رہ گئی
تحریر : حافظ سیف الرحمٰن چاند

Related Articles

One Comment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button