Islamic

ایک اللہ والے کا قصہ

حضرت سیدنا ابو عباس مودب رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میرے ایک ہاشمی پڑوسی کے معاشی حالات ٹھیک نہ تھے انہوں نے ایک واقعہ سنایا کہ ان کے ہاں بچے کی ولادت ہوئی تو گھر میں کوئی ایسی چیز نہ تھی جو اپنی زوجہ کو کھلاتا. اس کی بیوی نے اس سے کہا کہ میرے سرتاج آپ میری حالت و کیفیت سے خوب واقف ہیں. اس وقت مجھے غذا کی سخت ضرورت ہے. تاکہ میری کمزوری دور ہو جائے. اب میں مزید صبر کرنے کی طاقت نہیں رکھتی. خدارا کچھ کیجیے. اپنی زوجہ کی یہ حالت دیکھ کر پریشان ہو گئے. اور عشاء کی نماز کے بعد ایک دکاندار کے پاس گئے. وہ اکثر اس دکاندار سے غلہ وغیرہ خریدتا تھا. اس دکاندار کا اس پر قرض بھی تھا اس نے دکان دار کو گھر کی حالت بتائی. اور کچھ سامان خوردونوش طلب کیا اور کہا کہ میں جلد ہی اس کی قیمت ادا کر دوں گا. لیکن دکاندار نے صاف انکار کر دیا.

اس کے بعد وہ ایک دوسرے دکاندار کے پاس گیا. اور اپنی حالت سے آگاہ کر کے کچھ چیزیں طلب کیں لیکن دوسرے دکاندار نے بھی صاف انکار کر دیا. الغرض جس جس سے کوئی امید تھی وہ ان سب کے پاس گیا. لیکن کسی نے اس کی کوئی مدد نہ کی. وہ بہت رنجیدہ ہوا اور سوچنے لگا. اب میں کس کے پاس جاؤں گا؟ کس سے اپنی حاجت طلب کروں وہ دریائے دجلہ کی طرف چلا گیا. ایک ملا نے اس کو دیکھا جو اپنی کشتی میں بیٹھا مسافروں کا انتظار کر رہا تھا. اسے دیکھ کر اس نے آواز لگائی میں فلاں علاقے سواریاں بٹھاتا ہوں. اگر کوئی مسافر ہے تو آجائے.
وہ آدمی اس کی طرف گیا وہ کشتی کنارے پر لے آیا. آدمی کشتی پر سوار ہوا اور کشتی دریائے دجلہ کا سینہ چیرتی ہوئی آگے بڑھنے لگے. ملا نے اس سے پوچھا تم کہاں جانا چاہتے ہو؟ اس نے کہا کچھ معلوم نہیں ملا نے تعجب سے پوچھا ایسا عجیب آدمی میں نے نہیں دیکھا. تم اتنی رات گئے میرے ساتھ کشتی میں بیٹھے ہو اور تمہیں معلوم ہی نہیں کہ تم نے جانا کہاں ہے؟ ملا کی یہ بات سن کر اپنی حالت سے آگاہ کیا تو وہ ہمدردانہ لہجے میں بولا میرے بھائی غم نہ کرو. میں فلاں علاقے میں رہتا ہوں جہاں تک ہو سکا میں تمہاری پریشانی حل کرنے کی کوشش کروں گا. پھر اس نے ایک جگہ کشتی روکی اور اس سے دریائے دجلہ کے کنارے واقعے کو مسجد میں لے گیا اور کہا میرے بھائی اس مسجد میں سیدنا معروف کرہی رحمتہ اللہ علیہ رات دن اللہ کی عبادت کرتے ہیں. تم وضو کر کے مسجد میں داخل ہو جاؤ اور اللہ کے اس نیک بندے سے دعا کراؤ. انشاءاللہ ضرور کوئی راہ نکل آئے گی.
وہ وضو کر کے مسجد میں داخل ہوا تو دیکھا کہ سیدنا معروف کرہی رحمتہ اللہ علیہ محراب میں نماز ادا فرما رہے ہیں. اس نے بھی دو رکعت نماز ادا کی اور سلام کر کے آپ رحمتہ اللہ علیہ کے قریب بیٹھ گیا. نماز سے فارغ ہو کر آپ رحمتہ اللہ علیہ نے سلام کا جواب دیا اور کہا اللہ تم پر رحم فرمائے تم کون ہو؟ اس نے اپنا سارا واقعہ سنایا. آپ رحمتہ اللہ علیہ نے بڑی توجہ سے اس کی بات سنی اور پھر نماز کے لیے کھڑے ہوگئے. باہر موسم خراب ہونے لگا بارش زور پکڑتی جا رہی تھی وہ بہت گھبرایا اور سوچنے لگا میں اپنے گھر سے کتنا دور آگیا ہوں؟ بارش بڑھتی جا رہی ہے نہ جانے گھر والے کس حالت میں ہوں گے. اس شدید بارش میں میں اپنے گھر کیسے پہنچوں گا؟
وہ انہی خیالات میں گم تھا کہ اچانک مسجد سے اب باہر کسی جانور کی آواز سنائی دی. سوار اپنی سواری سے اتر کر مسجد میں داخل ہوا. اور آپ رحمتہ اللہ علیہ کے قریب آ کر بیٹھ گیا. آپ رحمتہ اللہ علیہ نے نماز سے فراغت کے بعد اس سے پوچھا تم پر اللہ رحم تم کون ہو؟ سوار نے کہا حضور میں فلاں شخص کا قاصد ہوں. انہوں نے آپ کو سلام بھیجا ہے اور کہا ہے کہ میں چادر اوڑھ کر سو رہا تھا کہ میں نے اپ کو اچھی حالت میں دیکھا. میں نے ایک خوبصورت خواب دیکھا ہے. اور اپنے اوپر ایسی رحمت کی برسات دیکھی ہے کہ اللہ کا جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے. میں آپ کی بارگاہ کچھ نظرانہ پیش کر رہا ہوں. اسے قبول فرما کر مجھ پر احسان فرمائے. آپ جسے مستحق سمجھیں یہ ساری رقم اسے عطا فرما دیں.
قاصد کا پیغام سن کر اپ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا یہ ساری رقم اس آدمی کو پیش کر دو قاصد نے کہا حضور یہ پانچ سو دینار ہیں فرمایا ہاں سب کے سب اسے دے دو. اس نے ساری رقم اس آدمی کو دے دی. اس نے ساری رقم چادر میں رکھی آپ رحمتہ اللہ علیہ کا شکریہ ادا کیا. اور اسی وقت گھر کی طرف چل دیا. بارش میں بھیکتا اپنے علاقے میں پہنچا. سیدھا دکاندار کے پاس گیا اور کہا یہ دیکھو پانچ سو دینار ہیں. اللہ نے اپنے رزق کے خزانوں میں سے مجھے عطا فرمائے ہیں۔ تمہارا مجھ پر جتنا قرض ہے وہ لے لو اور مجھے کھانے کا سامان دے دو.
دکاندار نے کہا کل تک یہ رقم اپنے پاس رکھو. جو چیزیں تمہیں چاہیے وہ لے جاؤ پھر اس نے شہ شکر، تلوں کا تیل, چاول, چربی اور بہت سی کھانے کی اشیاء اسے دیتے ہوئے کہا اب یہ تمام چیزیں اپنے گھر لے جائیے. اس نے کہا اتنا سارا سامان میں کیسے اٹھاؤں۔ دکاندار نے کہا میں آپ کی مدد کروں گا. کچھ سامان دکاندار نے اٹھایا کچھ اس نے اور دونوں گھر کی طرف چل دیے. گھر پہنچے تو دیکھا کہ گھر کا دروازہ کھلا تھا. کیونکہ ان کی زوجہ اتنی کمزور ہوگئی تھی کہ وہ دروازہ بند کرنے کی طاقت نہیں رکھتی تھی. اس کو دیکھ کر شکوہ کرتے ہوئے بولی اس نازک حالت میں مجھے چھوڑ کر کہاں چلے گئے تھے؟
بھوک اور کمزوری سے میری حالت خراب ہوگئی ہے. اس نے کہا اللہ کے فضل و کرم سے ہماری پریشانی دور ہوگئی. یہ دیکھو چربی, شکر, تیل اور بہت سی کھانے کی اشیاء کثیر مقدار میں ہمارے گھر میں موجود ہیں. یہ سن کر وہ بہت خوش ہوئی اس کی تکلیف چلی گئی۔ اس آدمی نے اسے دیناروں کے بارے میں نہ بتایا کہ کہیں خوشی کے مارے وہ ہلاک نہ ہو جائیں.
کھانا تیار ہوا. سب نے کھانا کھا کر خدا کا شکر ادا کیا. صبح صبح کو اس آدمی نے اپنی بیوی کو وہ سارے دینار دکھائے. اور سارا قصہ سنا دیا. وہ بہت خوش ہوئی اور غیبی امداد پر اللہ تعالی کی پاکی بیان کی. ان دونوں نے کاشت کے لیے کچھ زمین خرید لی تاکہ اس سے حاصل شدہ آمدنی کے ذریعے ان کے اخراجات پورے ہوتے رہیں. اس طرح کچھ ہی عرصے کے بعد حضرت معروف کرہی رحمتہ اللہ علیہ کی دعا سے اللہ نے ان کی تنگ دستی اور مفلسی دور فرما دی. اور وہ دونوں خوشحال زندگی گزارنے لگے. اللہ پاک آپ رحمتہ اللہ علیہ کو ان کی طرف سے جزائے خیر فرمائے. آمین یا رب العالمین.
میرے محترم عزیز دوستوں کہتے ہیں کہ جب آپ کی دعائیں قبول نہ ہو رہی ہوں تو دعائیں مانگنے کا طریقہ تبدیل کر کے دیکھیے. کسی اور سے دعا کروائیے. کہتے ہیں کہ اگر تمہاری دعائیں قبول نہیں ہوتیں تو اس منہ سے اپنے لیے دعا کرواؤ جس منہ سے تم نہ گناہ نہ کیا. یعنی کہ دوسروں سے اپنے لیے دعا کرواؤ. اور ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ والوں کا دامن پکڑ لیں. ان لوگوں کا دامن پکڑ لیں جو اللہ کے بندے ہوں جو اللہ کے قریب ہوں ان کی صحبت اختیار کریں. اور ان سے اپنے لیے دعا کروائیں. انشاءاللہ ان کی دعا ضرور قبول ہوگی.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button